بلوچستان ۔۔۔ سرزمینِ بلوچ ۔
از: ارم اقبال نقوی
قسط نمبر 3
بلوچستان میں تعلیمی مراکز
—————————
جب ہم کسی صوبے کے تعلیمی اداروں اور اس کے ادبی پس منظر کو جاننا چاہتے ہیں تو ہم سب سے پہلے اس کے اہم شہروں میں موجود تعلیمی مراکز کے قیام کی تاریخ سے آگاہی پانی چاہیئے ۔وہ تعلیمی مراکز خواہ جدید علوم سے متعلق ہوں یا دینی علوم سے متعلق ان کے قیام کی تاریخ سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس صوبے کے مکینوں کو اپنے ہی صوبے میں بنیادی تعلیمی سہولیات کب سے کس درجے تک حاصل رہی ہیں ۔
جب ہم بلوچستان کے تعلیمی مراکز کی بات کرتے ہیں توکوئٹہ ہی اس کا سب سے قدیم اور اہم شہر ہے جوکہ پاکستان کی آزادی کے بعد کوئٹہ بلوچ علاقے کا صدر مقام تھا۔ بعد میں جب بلوچستان کو صوبہ بنایا گیا تو اس کی یہ حیثیت برقرار رہی۔قیامِ پاکستان سے قبل 1935 میں کوئٹہ میں ایک بڑا زلزلہ آیا جس نے پورے شہر کو آناً فاناً مٹی کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا اور ایک اندازہ کے مطابق 40،000 افراد چند دقیقوں میں ہلاک ہو گئے۔ اس قیامت خیز زلزلہ نے کوئٹہ کو بالکل تباہ کر دیا اور شہر میں کوئی عمارت نہ چھوڑی۔ یہ زلزلہ ریکٹر کے معیار کے مطابق 7.1 کی شدت کا تھا۔اس زلزلہ کے بعد کوئٹہ کی تعمیرِ نو ہوئی ۔لازما بات ہے کہ اس ہولناک تباہی کے بعد تمام تعلیمی اداروں کی عمارات اور بنیادی ڈھانچوں کو بھی نئے سرے سے قائم کیا گیا ہو گا ۔
1935 کے بعد سے کوئٹہ شہر میں قائم کردہ قدیم تعلیمی مراکز میں دینی تعلیم کے لیئے جامعہ تجویدالقرآن ، کوئٹہ بہت مشہور ہے ۔یہ جامعہ 1960ءسے کوئٹہ شہرمیں دینی خدمات کے حوالے سے ممتازہے۔جبکہ جدید تعلیم کے مراکز میں ملٹری کمانڈ اینڈ سٹاف کالج ، کوئٹہ جس کا قیام 1905 میں عمل میں آیا ۔ نیز 11942 میں گورنمنٹ ڈگری کالج ، کوئٹہ کا اجرا ہوا ۔ تاہم تعجب یہ ہے کہ اس صوبے میں بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری اسکولز 1976 میں قائم کیا گیا ،اس سے قبل طلبہ پنجاب یونیورسٹی کے تحت میٹرک ، انٹر اور اعلی سطح کے امتحانات میں شرکت کرتے تھے۔۔
بلوچستان مین سب سے پہلی یونیورسٹی بھی 1970 میں قائم کی گئی ۔نامور ماہرِتعلیم پروفیسر کرار حسین اس کے سب سے پہلے وائس چانسلر تھے ۔ وہ اس سے قبل 1960 کی دھائی میں بھی گورنمنٹ کالج ، کوئٹہ میں شعبہ انگریزی سے وابستہ رہے تھے ۔ انہوں نے اس دور میں بھی بلوچستان کے تعلیمی نطام کی بہتری کے لیئے اپنے تئیں ہرممکن آواز اٹھائی۔ ان کا مطالبہ یہی تھا کہ اگر صوبے کی تعلیمی حالت کو ترقی دینا ہے تو لازم ہے کہ پورے صوبے میں پرائمری اسکولز کا جال بچھا دیا جائے ۔صوبے کے غریب عوام کے بچوں کے لیئے ابتدائی تعلیم کے حصول کو آسان بنانے سے ہی صوبے میں اعلی تعلیم کے مزید مراکز کا قیام ممکن ہو سکتا ہے ۔
بلوچستان کے نامور ماہرِ تعلیم پروفیسر ڈاکٹر عرفان احمد بیگ نے ایکسپریس نیوز میں 6 جنوری 2019 کو شائع ہونے والے اپنے ایک آرٹیکل بلوچستان میں تعلیمی ایمر جنسی میں بلوچستان کے تعلیمی پس منظر اور موجودہ حالات کا بہت حقائق اور دلائل سے جائزہ لیا ہے ۔ ڈاکٹر صاحب 1960 میں گور نمنٹ کلی شخاں سکول کے طالب علم تھے وہ بتاتے ہیں کہ
اس وقت گورنمنٹ بوائز پرائمری سکولوں میں جہاں گرلز پرائمر ی سکولوں کی سہولت نہیں تھی وہا ں بچے بچیاں ساتھ پڑھا کرتے تھے، البتہ یہ ضرور تھا کہ بچیوں کا تناسب عموما سات یا آٹھ فیصد ہی ہوتا تھا ۔ آج یہ سکول نہ صرف ہائی سکول ہے جس میں طلبا کی تعدار ہزار سے زیادہ ہے بلکہ ساتھ ہی سینکڑوں کی تعداد میں ٹیچر یہاں ایلیمنٹر ی کالج میں ٹریننگ بھی کرتے ہیں۔
وہ مزید لکھتے ہیں ۔
ہمارے اساتذہ ہم سے بہت پیار کرتے ہیں ان کی تمام تر توجہ ہماری تعلیم پر رہتی تھی،اس لیئے تعلیم کا معیار بہت بہتر تھا اور بلوچستان کے طالب علم لاہور بورڈ اور یونیورسٹی سے امتحانات مقابلے اور میرٹ کی بنیادوں پر پاس ہوا کرتے تھے۔ یہ سلسلہ جاری ہی تھا کہ عام انتخابات کے بعد 1972 میں بلوچستان میں وزیر اعلیٰ سردار عطا اللہ مینگل کی سر براہی میں پہلی صوبا ئی حکومت قائم ہوئی۔ اس حکومت نے یہ کہا کہ اب چونکہ ملک سے ون یونٹ کا خاتمہ ہوچکا ہے اس لیے ضروری ہے کہ دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے صوبائی ملازمین واپس اپنے اپنے صو بوں میں جائیں اور اس کے لیے مدت یہ رکھی گئی کہ جو لوگ یہاں 1958 سے پہلے سے ملازم ہیں اُن کو بلوچستان کا مقامی باشندہ تسلیم کیا جائے گا اور وہ بلوچستان ہی میں رہیں گے۔لہذابلوچستان جیسے صوبے کوجو تاریخ میں پہلی مرتبہ صوبہ بنا تھا یک دم تربیت یافتہ سرکاری ملازمین کی اکثریت سے محروم کر دیا گیا ا
وہ مزید لکھتے ہیں ۔ 1960 میں بلوچستان کی کل آبادی 23 لاکھ تھی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان کی تعداد بھی 23 ہی تھی۔ بلو چستان کے پہلے ڈائریکٹر ایجو کیشن معرف ماہرلیسانیات پروفیسر خلیل صدیقی تھے، ضلع کو ئٹہ پشین کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر مرزا نصراللہ ہوا کرتے تھے۔
بلوچستان بورڈ کے حوالے سے لکھتے ہیں ۔
بلو چستان بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجو کیشن کے خصوصاً ایف ایس سی کے سالانہ رزلٹ آج بھی ریکارڈ پر ہیں کہ ان میں ہر سال پہلی اور دوسری پو زیشن لینے والے طلبا و طالبات محکمہ تعلیم کے اعلیٰ ترین افسران کی اولادوں نے میڈیکل اور انجینئرنگ کالجوں میں انہی بنیادیوں پر سیٹیں حاصل کیں۔ پھر رفتہ رفتہ صورتحال مزید انحطاط کا شکار ہوئی، نقل عام ہوئی اور امتحانات کے شعبے میں اقربا پروری اورکرپشن نے جڑیں مضبو ط کر لیں اور یہ بھی ریکارڈ پر ہے کہ برسوں سے میٹرک اور انٹر میڈیٹ کے امتحانات میں مخصوص اساتذہ ہی پرچے بناتے اور چیک کرتے اور امتحانات میں نگرانی کرتے۔ یہ ضرور ہے کہ دو دو چار چار برس کے وقفوں کے بعد اعلیٰ سطح کے اچھے افسران اور وزرا تعلیم آتے تو اس صورتحال کو بدلنے کی کو ششیں بھی ہوتی رہیں اور کبھی کبھی یہ کامیاب بھی ہوئیں۔
ہر مالی سال میں صوبائی ترقیاتی اور غیر ترقیاتی بجٹ کا بڑا حصہ تعلیم کے شعبے ہی میں خرچ ہوتا ہے یہ ضرور ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ جیسے جیسے آبادی میں اضافہ ہوا ہے اسی طرح بلوچستان میں سکولوں،کالجوں، یو نیور سٹیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اسی طرح طلبا وطالبات اوراساتذہ کی تعداد بھی بڑھی ہے اور یہ رحجان جاری ہے لیکن یہ افسوس ہے کہ درس و تدریس کے تمام شعبوں میں معیار بلند ہونے کی بجائے پست ہوا ہے۔
۔
بلوچستان کے شعبہِ تعلیم کی موجودہ شماریات کے بارے میں ڈاکٹر مریم چغتائی نوائے وقت اخبار کی 23 جولائی 2017 کی اشاعت میں اپنے کالم میں لکھتی ہیں کہ
صوبے میں6 7 فیصد بچے سرکاری سکولوں میں داخلہ لیتے ہیں19 فیصد بچے غیر سرکاری (پرائیویٹ) سکولوں میں جبکہ 5 فیصد دینی مدرسوں کا رخ کرتے ہیں۔الف اعلان کے مطابق 216 سکول اِس وقت غیر فعال ہیں باقی سکولوں میں سے 37 فیصد سکول ایک کمرہ پر مشتمل ہیںاور 14 فیصد اساتذہ بغیر سکول جائے ہی تنخواہیں وصول کر رہے ہیں۔ سکول چھوڑنے والے بچوں کی شرح خطرناک حد تک زیادہ ہے
ہونا تو یہی چاہئے کہ حکومتیں تعلیم کو اپنی ترجیحات میں سرِ فہرست رکھیں مگر حکومتوں کی ترجیحات میں یہ شامل ہی نہیں ہے اِس کی وجہ یہ ہے کہ بلوچستان میں بھی پاکستان کے دوسرے علاقوں کی طرح وڈیرہ نظام رائج ہے اِس لیے وہ اپنی اولاد کو تو بیرونِ ملک تعلیم کے لیے بھیج دیتے ہیں جبکہ اپنے علاقے کے لوگوں کو بنیادی تعلیم سے بھی محروم رکھتے ہیں ہمارے ملک میں تعلیم کا نظام اُس وقت تک ٹھیک نہیں ہوسکتا جب تک حکومتیں اِس مسئلہ کو ایک بہت بڑا مسئلہ نہ سمجھیں اور اِس کو اپنی ترجیحات میں سب سے اوپر نہ رکھیںاور یہ قدم وفاقی حکومت اپنی نگرانی میں تمام صوبوں میں ہنگامی طور پر کروائے۔یہی وہ صورت ہے جس کے زریعے بلوچستان میں خاص طور پر اور دیگر صوبوں میں بھی امن لایاجا سکتا ہے۔

بلوچستان کے تعلیمی نظام کی کارکردگی سے متعلق تمام تر جائزہ لینے کے بعد بھی ہم کسی مایوسی کا شکار ہونے کی بجائے اس امید کا دیا دل میں روشن کر سکتے ہیں کہ اگر اب بھی وفاقی اور صوبائی حکومت اس صوبے تعلیمی پالیسی کے بارے میں سنجیدگی اختیار کر لے تو کچھ بعید نہیں کہ اگلے چند سالوں میں یہ صوبہتعلیمی پسماندگی کی دلدل سے نکل آئے اور ترقی کی راہ اختیار کرے ۔ کیونکہ اس وقت بھی اس صوبے میں ایسے بہت سے اہم تعلیمی ادارے موجود موجود ہیں جہاں کے فارغ التحصیل طلبا نے اپنے اپنے شعبہِ زندگی میں بہت نام پیدا کیا ہے ۔ بلوچستان کے اہم کالجز اور یونیورسٹیوں کے نام حسبِ ذیل ہیں ۔
==فہرست کالج==
۔ 1 ۔ ملٹری کمانڈ اینڈ سٹاف کالج ، کوئٹہ ۔۔۔۔ قیام : 1905
۔2 ۔ گورنمنٹ ڈگری کالج ، کوئٹہ ۔۔۔۔۔قیام : 1942
۔3 ۔ گورنمنٹ ڈگری کالج، سریاب روڈ کوئٹہ
۔4۔ گورنمنٹ سائنس کالج،جناح روڈ کوئٹہ۔۔۔۔۔ قیام : 1942
۔5 ۔ جنرل محمد موسیٰ بوائز ڈگری کالج، گلستان ٹاؤن کوئٹہ ۔۔۔۔۔قیام : 1960
۔6 ۔ اسلامیہ بوائز کالج
۔7 ۔ اسلامیہ گرلز کالج
۔ 8۔گورنمنٹ کالج آف کامرس،بروری روڈ ، کوئٹہ
۔ 9۔سی سی سی کالج ، چلتن کالج آف کامرس ،مسجد روڈ ، کوئٹہ
۔10 ۔ بلوچستان کالج آف بزنس مینجمنٹ اینڈ کمپیوٹر سائنس،کوئٹہ
۔11 ۔ تعمیر نو پبلک کالج کوئٹہ ۔۔۔۔۔قیام : 1983
۔12۔ بلوچستان کالج برائے زراعت،کوئٹہ۔۔۔۔۔ قیام : 1986
۔13۔ ایف جی کالج ، کوئٹہ
۔14 ۔ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج
۔15 ۔ ایف جی ڈگری کالج، کوئٹہ کیمپ
۔ 16 ۔مسلم ہینڈ انفارمیٹکس ٹیکنیکل اسکول ، کوئٹہ ۔۔۔۔۔ قیام : 1993
۔17۔بلوچستان انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی،زرغون روڈ کوئٹہ ۔۔۔۔۔ قیام : 1995
۔18 ۔ پیرل انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی،کوئٹہ ۔۔۔۔ قیام : 1999
۔ 19۔ گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ، کوئٹہ ۔۔۔۔قیام : 2010
۔ 20 ۔گیریسن ڈگری کالج، محمود غزنوی روڈ کوئٹہ ۔۔۔۔۔قیام : 2010
۔ 21 ۔ ثاقبہ گرلز کالج ، کوئٹہ ۔۔۔۔۔۔ قیام : 2014
۔ 22 ۔بولان میڈیکل کالج ،بریوری روڈ کوئٹہ ۔۔۔۔۔قیام : 2017
۔23۔ مکران میڈیکل کالج ، تربت ۔۔۔۔۔قیام : 2017
۔24۔ دی سٹی اسکول آف لا، جناح ٹاون کوئٹہ ۔۔۔۔۔قیام : 2011
۔25 ۔ خدابخش انٹر کالج، ہزارہ ٹاؤن کوئٹہ
۔26 ۔ ماڈل پبلک اسکول اینڈ کالج،چمن پھاٹک روڈ کوئٹہ
۔27 ۔ یونیورسل اسکول اینڈ کالج،زرغون روڈ کوئٹہ
۔28 ۔ تعمیر ملت فیلوشپ اسکول،کشمیرآباد قمبرانی روڈ کوئٹہ ۔۔۔۔۔قیام : 1987
۔29 ۔آرمی پبلک اسکول ، سیون سٹریم،کوئٹہ ۔۔۔۔۔قیام : 1988
۔30 ۔ یونیورسل گریمر اسکول اینڈ کالج کوئٹہ کیمپس
==جامعات==
۔ 1 ۔ یونیورسٹی لا کالج کوئٹہ ۔۔۔۔۔قیام : 1971
۔2 ۔ جامعہ بلوچستان ۔۔۔۔۔قیام : 1970
۔3 ۔ بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ،خضدار ۔۔۔۔۔قیام : 1987
۔4 ۔ الحمد اسلامک یونیورسٹی ۔۔۔۔۔قیام : 1995
۔5 ۔ اقرا یونیورسٹی ۔۔۔۔۔قیام : 1998
۔6 ۔ بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی،اینجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنس ۔۔۔۔۔قیام : 2002
۔ 7 ۔ سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی ۔۔۔۔۔قیام : 2004
۔8۔ الحمد اسلامک یونیورسٹی ۔۔۔۔۔قیام : 2005
۔ 9۔ لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر ، واٹر اینڈ میرائن سائنسز ۔۔۔۔۔قیام : 2005
۔10۔ یونیورسٹی آف لورا لائی ۔۔۔۔۔قیام : 2012
۔11۔ یونیورسٹی آف تربت ، تربت ۔۔۔۔۔قیام : 2013
۔12۔ بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز، کوئٹہ ۔۔۔۔۔قیام : 2017
۔13۔ این یو ایم ایل یونیورسٹی اسلام آباد کوئٹہ کیمپس














