فرانس نے امریکہ اور آسٹریلیا کے درمیان جوہری آبدوزوں کے معاہدے کے بعد بطور احتجاج دونوں ممالک سے اپنے سفیر واپس بلا لیے ہیں۔
فرانس کے وزیرِ خارجہ جین ایو لے ڈریئن نے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ ان کے ملک کا یہ اقدام معاملے کی سنگینی کی وجہ سے جائز ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ فیصلہ فرانس کے صدر ایمانوئل میخواں کا احکامات پر حلیف اور شراکت دار ممالک کے ناقابل قبول رویے کی بنیاد پر اٹھایا۔
فرانس کی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ پہلی بار ہے کہ فرانس نے امریکہ سے اپنا سفیر واپس بلایا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات 1778 میں قائم ہوئے تھے۔
وائٹ ہاؤس نے فرانس کے اس اقدام پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکہ فرانس کے ساتھ معاملات کو معمول پر لانے کے لیے آئندہ ایام میں رابطے جاری رکھے گا۔
امریکہ کے محکمۂ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ایک بیان میں کہا کہ فرانس امریکہ کا اہم شراکت دار اور سب سے دیرینہ حلیف ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہت زیادہ اہمیت کی نظر سے دیکھتا ہے











