فلوریڈا کا حملہ آور26 سالہ سپاہی ستیبان سینتیاگو عراق جنگ پر نالاں تھا

0
264

امریکا میں جمعے کی شام فلوریڈا کے فورٹ لاڈرڈیل بین الاقوامی ہوائی اڈے پر فائرنگ کے واقعے کے پیچھے کار فرما عوامل ابھی تک نامعلوم ہیں۔ ٹرمینل 2 میں سامان کے حصول کے لیے مخصوص حصے میں مسلح شخص کی فائرنگ کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک اور کم از کم 8 زخمی ہو گئے۔
ابتدائی رپورٹوں کے مطابق حملے کے شبہے میں گرفتار کیا جانے والا 26 سالہ لاطینی نژاد استیبان سینتیاگو عراق جنگ میں بطور سپاہی حصہ لے چکا ہے۔ وہ اپریل 2010 سے فروری 2011 تک عراق میں عسکری خدمت انجام دینے کے بعد سے نفسیاتی مسائل سے دوچار تھا۔
نیشنل گارڈز کے ترجمان کے مطابق عراق میں سڑک کے کنارے نصب دھماکا خیز مواد پھٹنے کے حادثے میں دو ساتھیوں کی ہلاکت کے سبب سینتیاگو کو شدید دھچکا پہنچا۔ حادثے کے ایک ماہ بعد 100 اہل کاروں پر مشتمل پورا فوجی یونٹ واپس امریکا لوٹ آیا تھا۔
ایک امریکی ذمے دار نے بتایا ہے کہ سینتیاگو کو گزشتہ برس پورے اکرام کے ساتھ نیشنل گارڈز سے سبک دوش کر دیا گیا تھا تاہم اس کے بھائی کا کہنا ہے کہ وہ الاسکا میں نفسیاتی ڈاکٹر کے زیر علاج تھا۔
بعض امریکی ذرائع ابلاغ نے سینتیاگو کے اہل خانہ میں شامل ایک فرد کے حوالے سے بتایا ہے کہ سینتیاگو گزشتہ برس ستمبر میں باپ بھی بن چکا ہے تاہم قریبی عزیزوں نے اس امر کی بھی تصدیق کی ہے کہ عراق سے واپس ہونے کے بعد سینتیاگو کی حالت اچھی نہیں تھی۔
ادھر امریکی نیٹ ورکCNN کے مطابق سینیتاگو نےFBI کو آگاہ کر دیا تھا کہ وہ سماعتی ہذیان کا شکار ہے جو اسے ہر دم “داعش” تنظیم میں شمولیت کے لیے پکارتا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق سینتیاگو الاسکا سے آنے والی پرواز کے ذریعے سامان میں لائسنس یافتہ اسلحے کے ساتھ “فورٹ لاڈرڈیل” کے ہوائی اڈے پہنچا۔ ایک عینی شاہد کا کہنا ہے کہ “ایک دُبلا سا شخص ہم پر براہ راست فائرنگ کر رہا تھا”۔ بعد ازاں سینتیاگو نے خود کو بنا کسی مزاحمت سکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیا۔
امریکا میں حالیہ برسوں میں براہ راست فائرنگ کے متعدد واقعات رونما ہوئے ہیں۔ ان میں بعض کارروائیاں “داعشی” طرز فکر رکھنے والے دہشت گردوں نے کیں۔ اس کے علاوہ بعض حملے انفرادی طور پر یا ذہنی طور پر بیمار افراد نے کیے جن کو امریکی قوانین کے تحت بآسانی ہتھیار حاصل ہو گئے تھے

SHARE

LEAVE A REPLY