فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے استنبول میں ترک صدر رجب طیب ایردوآن سے ملاقات میں امریکا کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
فلسطینی صدر استنبول میں بیت المقدس کی صورتحال پر بلائے جانے والے او آئی سی کے ایمرجنسی اجلاس میں شرکت کرنے کے لئے موجود ہیں۔ او آئی سی اجلاس میں 57 سربراہان مملکت اور او آئی سی کے رکن ممالک کی شمولیت ہوگی۔
اس موقع پر فلسطینی صدر اجلاس سے خطاب کرنے کے علاوہ دیگر سربراہان مملکت سے ملاقات بھی کریں گے۔
فلسطینی صدر کے ہمراہ وزیر خارجہ امور ریاض المالکی، صدارتی ترجمان نبیل ابو ردینہ، فتح کی مرکزی کمیٹی کے رکن حسین الشیخ اور ترکی میں فلسطین کے سفیر فاید مصطفیٰ سمیت دیگر افراد وفد میں شامل ہیں۔
درجنوں فلسطینی باشندوں نے تل ابیب میں امریکی سفارتخانے کے باہر جمع ہو کر امریکا کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے خلاف احتجاج کیا۔
مظاہرین نے فلسطینی پرچم کو لہراتے ہوئے بینر اٹھا رکھے تھے جن پر “ہم بیت المقدس کو غاصب اسرائیل کے حوالے نہیں کریں گے” کے نعرے درج تھے۔ کچھ افراد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سانپ سے مشابہ تصاویر والے پوسٹر بھی اٹھ
مرکز اطلاعات فلسطین












