سندھ ہائی کورٹ میں عدالت نے گلستان جوہر میں 300 پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ اور چائنہ کٹنگ کیس میں 16 ملزمان کی ضمانت مسترد کر دی۔ نیب کے اہلکاروں نے کمرہ عدالت کے باہر گھیرا ڈال کر ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ ملزمان میں کے ڈی اے اینٹی انکروچمنٹ انچارچ عرفان یوسفزئی بھی شامل ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ میں گلستان جوہر میں 300 پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ اور چائنہ کٹنگ کیس کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت وکلا صفائی نے کہا ہمارے موکل نے کچھ نہیں کیا وہ پڑھے لکھے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ چاہتے ہے کہ شہر میں چائنہ کٹنگ ہو، شہر میں چائنہ کٹنگ ہو رہی ہے یہ معصوم ہے تو ذمہ دار کون ہے، ہمیں سب پتہ ہے میٹرک پاس بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھ جاتے ہے۔

ہائیکورٹ کے باہر سے گرفتار ہونے والے کے ڈی اے افسران اور دیگر ملزمان میں سابق ڈی ڈی او کے ڈی اے سید عاطف حسین نقوی، سابق ڈی ڈی او کے ڈی اے راشد علی خان، ڈی ڈی او کے ڈی اے سید رضوان احمد، سابق ڈی ڈی او کے ڈی اے ناصر حسین، ڈی ڈی او کے ڈی اے محمد کامران وارثی، سابق ڈی ڈی او واصف جلیل، سپرنڈنٹ کے ڈی اے اختر رشید، سابق سپرنڈنٹ کے ڈی اے ریکوری خدا بخش سومرو، سپرنڈنٹ کے ڈی اے سرفراز احمد، سابق سپرنڈنٹ محمد حنیف خان، کلرک محمد جمن، صضیر احمد، جہانزیب اقبال، شیخ فرید، فیروز بنگالی شامل ہیں۔

نیب نے مرکزی ملزم فیروز بنگالی کے فرار ہونے کی کوشش ناکام بنائی۔ ملزم نے وکیل کی گاڑی میں فرار ہونے کی کوشش کی تا ہم نیب اہلکاروں کی بھاری نفری پہنچنے پر کوشش نا کام ہوگئی۔

SHARE

LEAVE A REPLY