صوفی تبسم اور گلناز زیدی

انسان کی زندگی ارتقا کا نام ہے اور ارتقا کا ایک پہلو ترقی بھی ہے۔ عمر میں اضافہ تو ایک طبعی حقیقت ہے لیکن عمر میں اضافے کے ساتھ ساتھ سوچ فکر اور انداز جستجو میں اضافہ نعمت خداوندی ہے

وہ لوگ جو زندگی کے کسی بھی حصے میں تخلیق خاص طور پر شعر و ادب کی تخلیق سے جُڑے ہوتے ہیں انکے سوچ اور فکر کے دھارے اگر فزوں تر نہ ہوں تو سمجھیں کہ فکری دریا کے سوتے خشک ہو رہے ہیں۔ تخلیق صرف شعر کہنا یا افسانہ لکھنا نہیں ہے بلکہ وسیع تر معانی میں علم کی ترسیل بھی تخلیق کی ہی ایک صورت ہے

گلناز زیدی لاہور میں بیدیاں کے گورنمنٹ کالج براٗے خواتین کی پہلی سربراہ کے علاوہ مختلف تعلیمی اداروں میں خدمات ادا کرنے کے بعد اب لاہور لبرٹی میں گورنمنٹ کالج برائے خواتین کی پرنسپل ہیں اور کسی بھی تعلیم کے ماہر کے لیئے یہ الگ سی خوشی کی بات ہوتی ہے کہ وہ جس تعلیمی ادارے میں پڑھاتا رہا ہو وہاں وہ سربراہ کے طور پر بھی کام کرے

لبرٹی کا خواتین کا یہ کالج ایسے اعزاز کا بھی حامل ہے جہاں تیرہ برس تک معروف استاد اور دانشور عارفہ سیدہ بھی منسلک  رہیں اور گلناز زیدی نے انکی معیت میں یہاں کام کیا اور وہ اس عہد کو اپنا بہترین عہد قرار دیتی ہیں

گلناز زیدی بنیادی طور پر جامعہ پنجاب سےانگریزی میں ایم اے کیئے ہوئے ہیں اور گزشتہ 34برس سے تعلیم کے شعبے سے منسلک ہیں انکا تعلق لاہور اور سرگودھا کے ایک علم ادبی گھرانے سے ہے اور تعلیم تو اس خانوادے کا طرہ امتیاز اس حوالے سے ہے کہ انکے والد سید حسن عبا س زیدی مرحوم تمام حیات تعلیم کے شعبے سے ہی منسلک رہے جبکہ انکی دونوں بڑی بہنیں طلعت نایاب اور ڈاکٹر زرین حبیب بھی شعبہ تعلیم سے ہی وابستہ رہی ہیں

مظفر وارثی،طفیل ہوشیار پوری،اظہر جاوید اور گلناز زیدی
مظفر وارثی،طفیل ہوشیار پوری،اظہر جاوید اور گلناز زیدی

انکی ایک بڑی بہن فوزیہ صحافت کا ایم اے ایک کیئے ہوئے کینڈا میں مقیم ہیں جبکہ ایک چھوٹی بہن نیلوفر سلیم اسلام آباد میں ڈاکٹر ہیں

گلناز ابراہیم کی ایک بہن پاکستان اور بی بی سی میں خبروں کے حوالے سے ایک معتبر نام ہے ۔ لندن میں مقیم ماہ پارہ صفدر پاکستان ٹیلی ویژن، ریڈیو پاکستان اور بی بی سی لندن سے منسلک رہیں اور نیوز کاسٹر کے طور پر آج بھی ایک منفرد طرز خبر خوانی کی حامل تسلیم کی جاتی ہیں

گلناز زیدی کے بہنوئی صفدر ھمدانی ادبی دنیا کا ایک جانا پہچانا نام ہیں، شاعر ادیب صحافی نقاد استاد عالمی اخبار کے مدیر اعلی اور مرثیہ نگار صفدر ھمدانی خود بھی علمی ادبی خانوادے کے فرد ہیں اور اپنے سسرال میں بھی وہ ایسے ہی علمی ادبی خاندان کی ایک الگ شاخ ہیں
ایسے علمی ادبی ماحول میں یہ کیسے ممکن تھا کہ گلناز زیدی تعلیمی میدان سے ہٹ کر علمی ادبی ماحول سے متاثر نہ ہوتیں

گلناز زیدی ، ابراہیم مرتضی سے شادی کے بعد بھی اپنی اسمی انفرادیت برقرار رکھے ہوئے ہیں ۔ وہ زمانہ  طالب علمی میں گلناز زیدی کے نام سے موسوم تھیں اور اپنی ابتدائی تعلیم کے زمانے سے ہی علمی ادبی اور ڈرامائی پروگراموں میں شرکت کرتی تھیں۔ پھر ہائی سکول میں بھی وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ غیر نصابی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کے شرکت کرتی تھیں

انہوں نے گورنمنٹ کالج برائے خواتین سرگودھا کا تقریری مقابلوں، مباحثوں اور شعری مقابلوں کا ریکارڈ ایسا بنایا جو آج تک نہیں ٹوٹ پایا۔ سن ستتر میں انہوں نے سو سے زیادہ انعامات حاصل کیئےجن میں ایک سال میں تیرہ ٹرافیاں شامل ہیں

کالج کے زمانے میں بھی انہوں نے خاص طور پر بین الجامعات شعری مقابلوں میں حصہ لیااور متعدد انعامات حاصل کیئے۔ شعر گوئی کا یہ سلیقہ انکو اپنے والد حسن عباس زیدی اور بہنوں طلعت نایاب اور ماہ پارہ صفدر سے ورثے میں ملا

طالب علمی کے زمانے میں انکی خوش قسمتی ہے کہ انکو اُس عہد کے بہت بڑے بڑے ناموں کے ہاتھوں انعامات لینے کا موقع ملا جن میں صوفی غلام مصطفی تبسم، ڈاکٹر عبادت بریلوی بیگم عبادت بریلوی، کلیم عثمانی، سجاد باقر رضوی، مظفر وارثی،مسکین علی حجازی، احسان دانش اور ایسے ہی بلند قد اہل علم وفن شامل ہیں

گلناز ابراہیم کے پاس ایسی یادوں کا ایک بڑا خزانہ ہے جو ماضی کے روشن دنوں کی یاد دلواتا ہے

ایسی ہی یادوں کی چند جھلکیاں

حفیظ جالندھری،احسان دانش،کلیم عثمانی اور گلناز زیدی
حفیظ جالندھری،احسان دانش،کلیم عثمانی اور گلناز زیدی
پروفیسر قیوم نظر اور گلناز زیدی
پروفیسر قیوم نظر اور گلناز زیدی

عالمی اخبار شعبہ فیچر

SHARE

1 COMMENT

  1. خوبصورت حسین شخصیت محترمہ گلناز زیدی صاحبہ کی مختصرکہانی پڑھکر سنہری یادوں نے اپنے حصار میں جکڑ لیا اور وہ پرسکون علمی ادبی دور یاد آگیا جب یہ عظیم انسان ایک میز گرد بیٹھے ہوا کرتے تھے مجھےمنیر نیازی ظہیر کاشمیری حبیب جالب احمد ندیم قاسمی بھی شدت سے یاد آگئے
    پروردگار محترمہ گلناز زیدی صاحبہ کو اپنے حفظ و امان میں خوشحال و پرسکون شاد و آباد شاندار رکھے راحتوں میں سلامتی ہو ? آمین یا الٰہی آمین

LEAVE A REPLY