وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) کے بیان پر وزیر ریلوے سعد رفیق کی وضاحت کے بعد معاملہ ختم ہوگیا۔

خیال رہے کہ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ رات خواجہ سعد رفیق نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے کوئی غیر ذمہ دارانہ بیان نہیں دیا اور وہ اپنے بیان سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے بیان کو کچھ نیوز چینلز کی جانب سے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا تھا تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کی جماعت نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ پالیسی معاملوں پر ہمیشہ معاہدے نہیں کیے۔

خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ عوام جانتی ہے اور میرا بیان بالکل واضح تھا کہ عدلیہ، پارلیمنٹ اور فوج کو آمنے سامنے نہیں آنا چاہیے کیونکہ اس سے ہمارے دشمنوں کو فائدہ ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اب آگے بڑھتے ہوئے امن اور استحکام کی فضا بحال کرنی چاہیے۔

انہوں نے جنرل پرویز مشرف کی جانب سے بینظیر بھٹو کے قتل میں اسٹیبلشمنٹ کے شامل ہونے کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘جب وہ اتنے بڑے دعوے کرتے ہیں تو ان سے کوئی سوال نہیں کرتا’۔

خیال رہے کہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) عاصم غفور نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ وفاقی وزیر ریلوے نے غیر ذمہ دارانہ طریقے سے بلا واسطہ پاکستان آرمی کی کمانڈ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے آج صبح رواں ماہ کوئٹہ میں ہونے والے چرچ حملے کے جائے وقوع کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چرچ حملے میں نقصان پورے پاکستان کا ہوا ہے اور مسیحی برادری کویقین دلاتاہوں کہ صوبائی اور وفاقی حکومت ان کے ساتھ ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY