ملک الموت سے ٹکرا کے رئیس
دیکھنا ہے کہ کہا ں گرتے ہیں
ہم کہ اس شہر کے بازاروں میں
سر ہتھیلی پر لئے پھرتے ہیں

برصغیر پاک وہند کی ریاست یوپی کے شہر امروہہ کا نام آتے ہی ذہن علم وادب،اعلیٰ تہذیب وتمدن کی جانب توجہ دلائے بغیر نہیں رہتا۔ نثر ہو یا شاعری،مصوری ہو یا فلم، فنونِ لطیفہ کے ہر میدان میں مردم خیزسرزمین ِامروہہ نے ایسے ایسے عظیم سپوت پیدا کیے، جنھوں نے بین الاقوامی سطح پر اپنے شہر امروہہ کا نام روشن کیا۔ رئیس ؔامروہوی، جون ؔایلیا، کمال امروہوی اور عظیم امروہوی جیسے عظیم شاعر، ادیب، نقاد اور فن کار امروہہ کی سرزمین نے ہی پیدا کیے۔

سید محمد مہدی المعروف رئیس امروہوی برصغیر کے بلند پایہ شاعر، ممتاز صحافی اور ماہرمرموز علوم تھے۔آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد علامہ سید شفیق حسن سے حاصل کی ۔

ان کے والد علامہ سید شفیق حسن ایلیا بھی ایک خوش گو شاعر اور عالم انسان تھے۔ان کا پورانام سید محمد مہدی نقوی تھا،عرفیت اچھن تھی۔

آپ 12 ستمبر 1914ء کو یوپی کے شہر امروہہ کے علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔1936 میں صحافت سے وابستہ ہوئے، ابتدا میں امروہہ کے اخبارات قرطاس اور مخبر عالم کی ادارت کی۔

صحافتی کالم کے علاوہ آپ کے قصائد، نوحے اور مثنویاں اردو ادب کا بیش بہا خزانہ ہیں۔ نثر میں آپ نے نفسیات و فلسفۂ روحانیت کو موضوع بنایا۔

یہ کربلا ہے نذر بلا ہم ہوئے کہ تم

ناموس قافلہ پہ فدا ہم ہوئے کہ تم

کیوں دجلہ و فرات کے دعوے کہ نہر پر

تشنہ دہن شہید جفا ہم ہوئے کہ تم

بائیس ستمبر ۱۹۸۸ کی شام رئیس امروہوی کو سر میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا ۔اور یوں ملک و قوم کا یہ عظیم سرمایہ قبل از وقت ہم سے چھن گیا . برعظیم پاک وہند کی ریاست یوپی کے شہر امروہہ کا نام آتے ہی ذہن علم وادب،اعلیٰ تہذیب وتمدن کی جانب توجہ دلائے بغیر نہیں رہتا۔نثر ہو یا شاعری،مصوری ہو یا فلم، فنونِ لطیفہ کے ہر میدان میںمردم خیزسرزمین ِامروہہ نے ایسے ایسے عظیم سپوت پیدا کیے، جنھوںنے بین الاقوامی سطح پر اپنے شہر امروہہ کا نام روشن کیا۔

یہ جمعرات22ستمبر1988 کی شام تھی جب ملک کے ادبی اور عوامی حلقوں کو یہ افسوسناک خبر سننے کی ملی ، ملک کے ممتاز شاعر،صحافی،دانشور، ادیب اور روزنامہ جنگ کے شہرہ آفاق قطعہ نویس 72سالہ سید محمد مہدی المعروف رئیس امروہوی پرسرار حالت میں شدید زخمی ہونے کے بعد انتقال کرگئےآپ کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں آپ نے 72 سال کی عمر میں جام ِ شہادت نوش کیا

رئیس امروہوی کراچی میں اپنے دولت کدےپرمطالعےمیں مصروف تھےتو انہیں ایک نامعلوم شخص نے گولی مار دی تھی۔قلم کے اس مجاہد نے کبھی کہا تھا

قلم روداد خون و اشک لکھنے سے جھجکتا ہے
قلم کو اشک و خوں ہی میں ڈبو لیتے تو اچھا تھا

رئیس ؔامروہوی، جون ؔایلیا، کمال امروہوی اور عظیم امروہوی جیسے عظیم شاعر، ادیب، نقاد اور فن کار امروہہ کی سرزمین نے ہی پیدا کیے۔ رئیس ؔامرہوی کو شاعری ورثے میں ملی اور اس میں اُنھیں کمال حاصل تھا۔ اس کے علاوہ نثر میں بھی وہ اپنا ایک منفرداُسلوب رکھتے تھے۔

رئیسؔ ہم جو سوئے کوچۂ حبیب چلے
ہمارے ساتھ ہزاروں بلا نصیب چلے

رئیس ؔامرہوی کو شاعری ورثے میں ملی اور اس میں اُنھیں کمال حاصل تھا۔ اس کے علاوہ نثر میں بھی وہ اپنا ایک منفرداُسلوب رکھتے تھے۔ صحافتی شاعری یا قطعہ نگاری کو ادبی صنف کے طور پر منوانے والے رئیس امروہوی حیرت انگیز تخلیقی ذہن کے مالک تھے۔ اُن کا پورانام سید محمد مہدی نقوی تھا۔

جون ایلیا ،سید محمد تقی اورسید محمد عباس کے بڑے بھائی رئیس امروہوی 12ستمبر1914 کو سادات امروہہ کے معزز گھرانے میں سید شفیق حسن ایلیا کے گھر پیدا ہوئے۔انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم امروہہ میں ہی حاصل کی۔

گھرانہ کیونکہ علمی و ادبی تھا اس لئے جلد ہی اس ماحول میں اتنی مہارت حاصل کرلی کہ 13برس کی عمر سے ہی خوب شعر کہنے لگے۔

اپنے ادبی سفر کا آغازصبا عرفانی کے نام سے کیا لیکن والد کے مشورے پر صبا عرفانی سے رئیس امروہوی ہوگئے۔شاعری کا آغاز نظم سے کیالیکن پھر غزل کہنے پر توجہ مرکوز کی۔ان کا پہلا مجموعہ کلام ”الف “تھا۔

رئیس امروہوی کو اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی ،عربی اور فارسی زبان پر بھی عبور حاصل تھا۔ان کی صحافتی زندگی کاآغاز1941 میں مراد آباد کے ادبی ماہنامے”مسافر “ کی ادارت سے ہوتا ہے۔

بعدازاں ”جدت “کے مدیراعلیٰ مقرر ہوئے۔اس کے بعد دہلی جاکر روزنامہ ”انصاری“ سے منسلک ہوگئے اور ساتھ ساتھ ”شمع دہلی“اور مست قلندر لاہور کیلئے کالم لکھتے رہے۔دہلی کے ماہنامہ”مشہور “ سے بھی ان کا تعلق قائم رہا۔قیام پاکستان کے بعد انہوں نے کراچی میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔

رئیس امروہوی کے قطعات ہمیشہ وقت اور حالات پر تازہ ترین تبصرہ کی حیثیت رکھتے تھے،قطعات کیلئے موضوع کا انتخاب اور شعری اسلوب و انداز کا تعین بھی ان کا طرہ امتیاز تھا۔

رئیس امروہوی کا جنگ سے یہ تعلق اپنی زندگی کے آخری ایام تک رہا۔اس دوران وہ 41برس تک مستقل قطعہ نگاری کے ساتھ ساتھ کالم نگاری بھی کرتے رہے جس میں مختلف علوم و فنون پرمضامین لکھے۔

رئیس امروہوی نے اپنے بھائی کمال امروہوی کو خط لکھا

اپنی تنہائی کی شکایت کی انہوں نے لکھا کہ تمہیں دیکھے ہوئے اک زمانہ گزرگیا اور واقعی اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ زمانہ گزر جائے گا اور ہم ایک دوسرے کو نہیں دیکھ پائیں گے۔ کم از کم میری ہی خاطر پاکستان چلے آؤ ۔ یہاں بے حد تنہائی ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم اس ہجوم کا حصہ ہیں جو بے ہنگم دوڑا جارہا ہے، جانا کہاں ہے معلوم نہیں۔
رئیس امروہوی بنیادی طور پرلوگوں میں گھلنے ملنے اور بلاوجہ ملاقاتوں سے گریز کرنے والے انسان تھے۔ وہ ذیادہ تر اپنے رفقاء سے خطوط کے ذریعے رابطے میں رہتے۔ رئیس امرہوی کی جن افراد کے ساتھ باقاعدہ خط و کتابت جاری رہتی ان میں امیر حمزہ شنواری ، احمر رفاعی ، ابن انشاء ، احسان دانش ، ایم اسلم ، پطرس بخاری ، تحسین سروری ، جلیل قدوائی ، جوش ملیح آبادی ، حفیظ جالندھری ، حامد حسن قادری ، حضور احمد سلیم ، رشید احمد صدیقی ، راغب مراد آبادی ، زیڈ اے بخاری ، زیب عثمانیہ لدھیانوی ، سید ہاشم رضا ، سر رضا علی ، سید احتشام حسین ، عبدالحمید عدم ، ضمیر جعفری ، الطاف علی بریلوی ، شورش کاشمیری ، عبدالسلام خورشید ، عبادت بریلوی ، عبیداللہ علیم ، غلام رسول مہر ، کمال امروہوی ، گل بادشاہ ، مشتاق احمد خان ، مصطفےٰ زیدی ، مینا کماری ، ممتاز حسن احسن ، ممتاز احمد عباسی ، ماہر القادری ، محمد صلاح الدین ، ماجد الباقری ، محمد مسلم عظیم آبادی ، نیاز فتح پوری ، نظیر صدیقی ، نثار احمد صدیقی ، نیر واسطی ، وارث سرہندی اور ڈاکٹر وزیر آغا جیسے صاحبان علم شامل ہیں۔

رئیس امروہوی کی محبت نیاز مندی حضرت جوش ملیح آبادی سے بہت گہری تھی دیرینہ تعلقات اور محبت کا رشتہ قائم تھا ۔

موضوعات میں فلسفہ، سماجیات، سیاسیات، اخلاقیات نفسیات، مابعدالطبعیات، یوگا، علم نجوم، علم فلکیات، ہیپناٹزم ، روحانیت سمیت کئی اوردیگر علوم شامل تھے۔اپنے ان کالم میں وہ عوام کے خطوط کا جواب بھی دیتے تھے۔ ان کے جوابی خطوط کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہوگی۔

الف کے علاوہ ان کے دیگر شعری مجموعوں میں ’پس غبار،’حکایت نے‘،’لالہ صحرا‘،’ملبوس بہار‘ ،’آثار اور قطعات کے چار مجموعے ہیں۔نفسیات اور مابعدالطبیعات کے موضوعات پر ان کی نثری تصانیف کی تعداد ایک درجن سے زائد ہیں۔

رئیس امروہوی دور حاضرہ کے ممتاز شعراءمیں سے ہیں وہ تمام اصناف سخن میں قادر الکلام ہیں، پُر گو ہیں، حاضر طبع ہیں، زدو گو ہیں، فکر میں قدرت ہے، طرز ادا میں جدت ہے، زبان میں صفاحت ہے، بیان میں سلاست ہے، نظر میں وسعت ہے، غزل ہو یا نظم قطعات ہوں یا رباعیاں، ادب ہو یا فلسفہ، رندی و مستی ہو یا فقر و تصوف ، سنجیدہ مضامین ہوں یا طنز و مزاح ، وہ ہر میدان کے ”مرد میدان“ نظر آتے ہیں۔ اور جس موضوع پر لکھتے ہیں خوب لکھتے ہیں۔ ان کی غزل میں قدیم غزل کی روح نئے انداز بیاں کا جامہ پہن کر شاہد معنی کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔وہ شاہد معنی کوزبان شعر میں ”جان گل“ کہتے ہیں۔ رنگ کومجاز اور بُو کو حقیقت بنا کر گل کورنگ و بُو دونوں کا جامع کہتے ہیں۔

تم لاکھ ہم سفر تھے پر انصاف تو کرو
یارو ہلاک لغزش پا ہم ہوئے کہ تم

مرحوم مشہور شاعر جون ایلیا کے بڑےبھائی بھی تھے ۔۔۔ جون نے ان کی وفات پہ ایک تاریخی جملہ کہا تھا ۔۔۔بھائی کو گولی دماغ میں لگی ،شاید قاتل ان کا مرتبہ شناس تھا ،بھائی دماغ ہی تو تھے اور کیا تھے ۔۔۔

رئیس امروہوی کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

صبا چمن سے نوید ِبہار لائی ہے
کسی کلی کا جگر خون ہو گیا ہو گا

تحریر آفتاب احمد
کراچی پاکستان

SHARE

LEAVE A REPLY