سَیّد فخرالدین بَلّے ۔۔ بَلّے بَلّے۔ ایک
بھرپور کتاب
پاک و ہند کے نامور ادیبوں اور شاعروں کی آراء سے
مزّین ہے۔
سید فخرالدین بَلّے مایہءناز ادیب ، شاعر ، دانشور، اسکالر ،
محقق ، کہنہ مشق صحافی ، ماہرِ تعلقات عامہ ، فنون و ثقافت
کےدلدادہ ، امیر خسرو کے سات سو سال بعد نئے قول ترانے
کے خالق اور اعلی انسانی اقدار و ورایات کی امین ایک تہذیبی
شخصیت کا خوبصورت نام ہے ۔ جمیل الدین عالی نے اپنے کالم
نقارخانے میں لکھا کہ وہ محض ایک شخصیت نہیں، ایک ادارہ
،ایک آدرش ،ایک انجمن بلکہ اپنی ذات میں ایک جہان تھے۔تمام
زندگی محبتیں بانٹیں ، محبتیں سمیٹیں اور محبتیں لٹائیں ۔اشفاق
احمد،پیر حسام الدین راشدی، ڈاکٹروزیرآغا،اور ممتازمستشرقہ
این میری شمل نے سَیّد فخرالدین بَلّےّ کوتصوف پراہم اتھارٹی
قراردیا۔ علامہ سید غلام شبیر بخاری علیگ نے بڑا تفصیلی
سوانحی خاکہ لکھا اور بتایا کہ سَیّد فخرالدین بَلّے نے اردو ،
انگریزی ، فارسی اور ہندی میں جو تالیفات ترتیب دیں ، ان کی
تعداد ڈیڑھ سو کے لگ بھگ ہے۔ ان مطبوعات میں کتابیں ،
کتابچے، سووینئیراور بروشرز شامل ہیں ۔ یہ تمام مختلف
موضوعات پر ہیں ، جن سے سَیّد فخرالدین بَلّے کی وسعت علمی
اور حب الوطنی کا پتا چلتا ہے۔ فیض احمد فیض سید فخرالدین
بلے کو چُھپا رستم کہتے تھے اور بقول احمد ندیم قاسمی وقت
نے فیض صاحب کےاس تجزئیے پر مہر تصدیق ثبت کردی۔
جون ایلیا کہتے تھے سید فخرالدین بلے کی خوبصورت شاعری
ان کی دلکش شخصیت کا پرتو ہے۔ڈاکٹر انورسدید نے لکھا وہ
ادبی اور ثقافتی تنظیم قافلہ کے بانی بھی تھے، جس کے پڑاﺅ
لاہورمیں ان کے گھر پر دس برس تک بڑی باقاعدگی کے ساتھ
ہوتے رہے ۔ اس قافلے کے پڑاﺅ کی بازگشت ان کے ہفت روزہ
جریدے آواز جرس میں بھی سنائی دیتی تھی۔ اشفاق احمد اور
بانو قدسیہ کہتے تھے کہ سید فخرالدین بلے تو خودایک قافلہ ہیں
، ایک ایسا قافلہ جو سب کو ساتھ ساتھ لے کر چلتاہے۔ ملتان میں
پچیس روزہ جشن تمثیل کرانے پر سَیّد فخرالدین بَلّے کو آرٹس
اورتھیٹر کی دنیا کے اکابرین نے محسن فن اور مین آف دا اسٹیج
کے خطاب سے بھی نوازا۔ اس کا اعلان ان کے ساتھ ایک شام
منا کرکیاگیا۔ پاک و ہند کے نامورادیبوں اور ناقدوں نے ان کی
فکر ، شخصیت اور فن کی بہت سی جہتوں کو اپنے مقالات اور
نگارشات میں اجاگر کیاہے۔ اولڈ بوائز ایسوسی ایشن مسلم
یونیورسٹی علی گڑھ نے ان مضامین کے اقتباسات کو کتابی
صورت میں یکجا کردیا ہے ، جسے سَیّد فخرالدین بَلّے۔۔ بَلّے
بَلّے۔ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ کتاب بلے بلے ۔ سید فخرالدین بلے ۔
کےعنوان کے تحت بھی منظرعام پر لائی گئی ہے۔ یہ کتاب پڑھ
کرادب و ثقافت کی ایک مینارقامت شخصیت ہمارے سامنے
آجاتی ہے، آپ سے اس مینارقامت شخصیت کی ملاقات کرانے
کیلئےکتابِ مستطاب کے مندرجات کی جھلکیاں عالمی اخبار کے
قارئین کرام کی نذرہیں ۔{ادارہ}
{ادارہ}
سید فخرالدین بَلّے کی ذات گرامی بے شمار کمالات کی جامع
تھی، افتخارعارف
نامور ادیب ، شاعر اور دانشور افتخارعارف نے سید فخرالدین
بلے، ایک فرد ۔ایک روایت کےعنوان کے تحت لکھا ہے کہ وہ
ہمارے زمانے کے ان یگانہء روزگار شخصیتوں میں تھے کہ
جن کی ذاتگرامی بے شمار کمالات کی جامع تھی۔ شاعر، ادیب
، نقاد، محقق ، اسکالر۔ پروردگارِعالم نے سیدگرامی کو بہت
نوازا تھا۔ پھر بھی شخصی طور پر وہ ایک انتہائی ملنسار، خوش
مزاج، کشادہ ذہن ، کشادہ نظر آدمی تھے کہ ایک بار جو بھی ان
سے مل لیتا ،وہ ان کا گرویدہ ہو جاتا تھا۔حضرت محمدﷺ اور آلِ
محمد ﷺسے ان کی تمام و کمال عقیدت ان کے اشعار میں بھی ان
کے دل کی ترجمانی کرتی نظر آتی تھی۔ آج بھی ان کاکلام
مودت و عقیدت کے ساتھ پڑھا اور پسند کیا جاتا ہے۔ اپنے اہل
کمال کو یاد رکھنا اور ان کی خدماتِ جلیلہ کا اعتراف کرنا زندہ
قوموں کی روایت میں شامل ہوتا ہے۔ لازم آتا ہے کہ ہم سید
فخرالدین بلّے کی علمی و ادبی خدمات کو یاد رکھیں اور زیادہ
سے زیادہ حلقوں تک ان کے فیضان کو عام کریں۔ اپنے ایک
محسن کا یہ کم سے کم حق ہے ،جو ہم ادا کر سکتے ہیں۔۔
سید فخرالدین بَلّےکا کلام سوچ کے درکھولتا ہوا دکھائی
دیتاہے‘جوش ملیح آبادی
جوش ملیح آبادی نے بھری محفل میں کھل کراعتراف کیا کہ سیّد
فخر الدین بَلّے کے کلام میں دریا کی روانی اور جذبوں کی
فراوانی ہے۔ تاریخ‘ ادب اور تصوف کا وسیع مطالعہ ان کے کلام
میں بولتا ہوا اور سوچ کےدر کھولتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔۔
آپ انہیں تصوف پراہم اتھارٹی قراردے سکتے ہیں، ڈاکٹروزیرآغا
نامور شاعر اور نقاد ڈاکٹر وزیرآغا نےسیّد فخرالدین بَلّے کے
سرگودھا سے لاہور تبادلے پر منائی جانے والی ایک شام میں
اپنا مضمون پڑھتے ہوئے کہا میرے لئے بَلّے صاحب کی ذات
اور شخصیت کے دریا کو کوزے میں بند کرنا بہت مشکل ہے۔
وہ اتنے اچھے ہیں ، اتنے اچھے ہیں کہ بہت ہی اچھے ہیں اور
یہی شاید ان کا قصور بھی ہے۔ جب مہاتما گاندھی کو گاڈسے نے
گولی کا نشانہ بنایا تو جارج برنارڈ شا نے برملا کہا تھا ۔دیکھا
!اس دنیا میں اچھا ہونا کتنا خطرناک ہے۔ کچھ یہی بَلّے صاحب
کا حال ہے۔ انہوں نے زمانے سے جو زخم کھائے ہیں۔ اس کی
داستان طویل تو ہے لیکن لذیذ ہرگز نہیں۔ البتہ اس میں قطعاً
کوئی کمال نہیں ہے کہ ان چرکوں نے وہی کام کیا ہے ،جو
گاڈسے کی گولی نے کیا تھا۔ اب غلام جیلانی اصغر چاہیں تو
برملا کہہ سکتے ہیں کہ "بَلّے صاحب‘ میں نہ کہتا تھا کہ اتنا
اچھا ہونا اچھا نہیں"۔ ڈاکٹروزیرآغا نے مزید لکھا کہ ادب کے
لئے بَلّے صاحب کی لگن اور لگاﺅ مثالی حیثیت رکھتا ہے۔ قدرت
نے انہیں اعلیٰ ذوقِ نظر ہی عطا نہیں کیا۔ دل کی بات کو لفظوں
میں ڈھالنے کا گُر بھی سکھایا ہے۔ اس کی نثر اتنی پختہ ‘ نین
نقش کی اتنی صحیح اور لفظوں کے انتخاب کے معاملے میں اس
قدر سخت مزاج ہے کہ کسی فقرے پر تو کجا ان کے استعمال
کردہ لفظ پر بھی انگلی رکھنا بہت مشکل ہے۔ اس پر مستزاد ان
کا وسیع مطالعہ ہے۔ انہوں نے کتابوں کو خود پر لادا نہیں بلکہ
انہیں ہضم کیا ہے اور پھر ان کے مطالبہ کو اپنی سوچ سے ہم
آہنگ کر کے بڑے خوبصورت انداز میں لفظوں کے حوالے کر
دیا ہے۔ تصوف کے موضوع پر ان کی نظر اتنی گہری ہے کہ
آپ بلا تکلف انہیں اس سلسلے میں ایک اہم اتھارٹی قرار دے
سکتے ہیں۔ بَلّے صاحب شاعر بھی بہت اچھے ہیں۔ شاعری کے
بھی ان کے ہاں دونوں رنگ ملتے ہیں۔ کلاسیکی بھی اور جدید
بھی۔ پچھلے دنوں مجھے ان کی بیاض دیکھنے کا اتفاق ہوا تو
میں ان کے رنگ دیکھ کر دنگ رہ گیا۔
وہ قادرالکلام شاعر، خوبصورت نثرنگاراورچُھپے رستم تھے۔
احمد ندیم قاسمی
معروف علمی وادبی شخصیت اور اپنے وقت کے مقبول جریدے
فنون کے بانی ایڈیٹر احمد ندیم قاسمی سیّد فخر الدین بَلّے کو فنون
و ثقافت کادلدادہ سمجھتے تھے ۔ان کاکہنا تھاسیّد فخر الدین بَلّے
ایک قادرالکلام شاعر،خوبصورت نثرنگار اوراپنی ذات میں ایک
انجمن ،ایک قافلہ اورایک تہذیبی ادارہ ہیں۔علم و ادب ان کا
اوڑھنا بچھونا ہے۔
تلاش رزق ہو یا جستجوئے معرفت بَلّے
ہماری زندگی شعرو ادب یوں بھی ہےاوریوں بھی
اعلیٰ سرکاری عہدوں کا فائز رہے۔ کچھ حکمرانوں کے ساتھ
ذاتی سطح پر قریبی مراسم ہونے کے باوجود اپنا کوئی مکان
نہیں بناسکے۔دوران ملازمت سرکاری بنگلوں اور کوٹھیوں میں
رہےاور پھرکرائے کےمکانوں میں زندگی اطمینان کےساتھ
گزاری ۔ہمیشہ ان کی زبان پر کلمہ ء شکررہا۔اس صورت حال پر
بھی ان کا اپنا ایک شعر ان کی مثبت سوچ کاپتادیتاہے ۔
سر اُٹھاکر زمیں پہ چلتا ہوں
سرچُھپانے کوگھرنہیں، نہ سہی
بلے صاحب برائی کابدلہ ہمیشہ بھلائی سے دیتے نظرآئے۔دائیں
ہاتھ سے مدد کریں تو اپنے بائیں ہاتھ کو پتا نہیں چلنے دیتے۔
خوبصورت محفلیں سجانا ان کے بائیں ہاتھ کاکھیل ہے۔وہ پندرہ
جرائد کے بانی ایڈیٹراور ایڈیٹر بھی رہے لیکن اس کے باوجود
خود نمائی سے ہمیشہ کوسوں دور دکھائی دئیے۔اخترحسین
جعفری ان کے کمالات فن کے مداح تھے۔ان کی دل میں اتر
جانے والی نعت سن کر اہلمحفل نے حفیظ تائب کی آنکھیں
بھیگتی دیکھیں ۔ ضمیر جعفری کو بآواز بلند سرِ بزم "جے میں
ویکھاں اوندھے ولّےبلے بلے بلے" کہتے سنا ۔فیض احمد فیض
انہیں چُھپا رستم کہتے تھے۔اور وقت نے ان کے اس تبصرے پر
مہر تصدیق ثبت کردی ۔ان کی تخلیقی شخصیت کے بہت سے
رنگ دنیائےادب پرشعروں کے معانی کی طرح رفتہ رفتہ کھلے۔
دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی ادب دوست ان کاذکر عزت
واحترام سے کرتے دکھائی دئیے۔ اس لئے کہ وہ اپنےحلقہ
ءیاراں کےدلوں میں آج بھی بسے ہوئے ہیں۔
سید فخرالدین بَلّے۔ ادب وثقافت کی متحرک شخصیت تھے،
انتظارحسین
معروف افسانہ نگار انتظار حسین نے لکھا ہے سید فخرالدین بلّے
بڑی متحرک قسم کی شخصیت تھے۔ جتنا بھی ان کے متعلق سنا
،جانا اور دیکھا انہیں سرگرم عمل ہی پایا۔ ہماری قومی زندگی
میں جو شعبہ سب سے زیادہ توجہ کا محتاج تھا اور جس کی
اہمیت کا کم لوگوں کو احساس تھا، اسے ہی انہوں نے اپنی
سرگرمی کا میدان بنایا۔ یہ ادب، فنون اور تہذیب کا شعبہ
تھا۔انہوں نے لاہور سے دور کے مقامات پر جا کربھی فنون کے
لئے بہت کام کیا۔جن کے اندر کوئی لگن ہوتی ہے، ان میں ایک
یہ صفت بھی ہوتی ہے کہ حالات کیسے بھی ہوں، انہیں وہ اس
طرح برتتے ہیں کہ ان کی لگن کی تسکین کی صورت پیدا ہوتی
رہتی ہے۔ بلے صاحب میں یہ صفت بہرحال تھی۔ انہوں نے
ایسےملازمت کی کہ ملازمت والے فرائض بھی پورے کئے اور
جس کام کی انہیں چیٹک لگی ہوئی تھی، اسے بھی ملازمت کے
ذریعہ پروان چڑھانے کا کام لیا۔ پھر ساتھ میں شاعری بھی کی،
جتنی شاعری کی، اس کے ساتھ انصاف کیا۔ اس پر ان کا علمی
کام مستزاد۔ اس ملک کو سب سے بڑھ کر ایسے ہی لوگوں کی
ضرورت ہے ،جو اپنے آپ کو کسی بھلے کام کے لئے وقف
کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں مگر پاکستان میں اس نام کی
مخلوق عنقا ہے۔ بلے صاحب نے اس ملک کے تہذیبی فروغ کے
لئے اپنے آپ کو وقف کر رکھا تھا ،اپنی حد تک انہوں نے یہ کام
جوش و جذبے کے ساتھ انجام دیا۔ ان کے اس جذبے اور اس کام
کی ہمیں قدر کرنی چاہئے۔ نام نیک رفتگاں ضائع مکن۔
سیّد فخرالدین بَلّے کے اند نامعلوم جہان آباد ہیں ۔ڈاکٹرعنوان
چشتی
ڈاکٹر عنوان چشتی نے اپنے تحقیقی مضمون میں لکھا سیّد فخر
الدین بَلّے کے اندر نامعلوم جہان آباد ہیں ۔جو وقتاً فوقتاً ان کے
رویوں اور کردار میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔ وہ خواجہ غریب نوازؒ
کی یادگار ہیں۔ اس لئے ان کی زندگی اور شاعری میں چشتیہ
مسلک اور تصوف کا رنگ اور بھی کھِلتا اور کھُلتا ہوا نظر آتا
ہے۔قوالی کے باب میں انہوں نے نیا قول ترانہ اور نیا رنگ
تخلیق کرکے حیران کردیا۔ یہ اتنا بڑا کام ہے،جو امیرخسرو کے
سات سو سال بعدسامنے آیا۔ مجھے یقین ہے کہ جلد یابدیر سچے
موتیوں کے متلاشی ان دونوں علمی سمندروں سے معانی
کےنایاب گوہر نکال کرباہر لائیں گے۔
سیّد فخرالدین بَلّے الفاظ کے مصور ہیں ، فراق گورکھپوری
نامور نقاد اور شاعر فراق گورکھپوری نے لکھاہے سیّد فخر
الدین بَلّے رنگوں کے بجائے الفاظ سے تصویریں بنانے کاہنر
جانتے ہیں اوران کی یہ لفظی تصویریں نہیں، بولتی تحریریں ہیں
۔۔
سَیّد فخرالدین بَلّےبلند پایہ کلام کے خالق ہیں ، آل احمد سرور
نامور ادبی شخصیت آل احمد سرور نے گواہی دی کہ سَیّد
فخرالدین بَلّے نے ادب ، تصوف اورتاریخ کا بڑاگہرا مطالعہ
کیاہے۔جس نے انہیں حقیقت کاعرفان بخشا اوربصیرت عطا کی
ہے، جس کی جھلک ان کی غزلوں، نظموں اور نثرپاروں میں
دیکھی جاسکتی ہے۔انہوں نے دانشوری اور پُرسوزعقلیت کی
جوشمعیں جلائیں،ان کی روشنی سرحدپاربھی پہنچی ہے۔میری
نظرسے ان کاجوکلام گزراہے،وہ بلندپایہ بھی ہے اورگراں مایہ
بھی۔
بابائے اردو مولوی عبدالحق بھی سیّد فخر الدین بَلّے کے مداح
نکلے
بابائے اردو مولوی عبدالحق کاکہناتھا سیّد فخر الدین بَلّے کی نظم
ہو یا نثر، اس میں کوئی نقص نکالنا محال ہے۔انہیں
اردو،سنسکرت،ہندی ،انگریزی اور فارسی زبان پر جو قدرت
حاصل ہے،وہ ان کے گہر ے مطالعے کی غماز ہے۔۔
یہ نام بَلّے بَلّے، ہرکام بَلّے بَلّے، کنورمہندر سنگھ بیدی سحر
ادب دوست شخصیت کنور مہندر سنگھ بیدی سحر بھی سَیّد
فخرالدین بَلّے کے بڑے قدردان بلکہ مداح تھے ۔اکثر کہاکرتے
تھے کہ سَیّد فخرالدین بَلّے کا نام ، کام ،فن ،شخصیت اورکلام
دیکھ کرایک ہی لفظ بار بار زبان پر آتا ہےاور وہ ہے ۔۔۔بَلّے بَلّے
بَلّے۔
جگر مراد آبادی نے انوکھے انداز میں انہیں داد
دی،ڈاکٹرانورسدید
ڈاکٹر انورسدید نےنوائے وقت گروپ کے مجلے ندائے ملت میں
بزرگ دوست کے عنوان کے تحت مضمون لکھااور بتایا کہ مسلم
یونیورسٹی علی گڑھ کے دور طالب علمی ہی میں سید فخر الدین
بلّے نے سینئراساتذہ کے ساتھ مشاعرے پڑھنا شروع کردئیے
تھے ۔ان کے پاکستان ہجرت کرجانے کے بعد پہلی باراستادشاعر
جگرمراد آبادی علی گڑھ میں ایک محفل مشاعرہ میں شرکت
کیلئے آئے اور انہیں پتا چلا کہ اب سید فخر الدین بلّے پاکستان
جاچکے ہیں تو انہوں نے اپنا کلام پیش کرنےسے پہلے فی
البدیہہ یہ شعرپڑھا۔
کیا کوئی شعر پڑھے آج کہ بلّے کے بغیر
کاٹنے دوڑتی ہے محفل اشعار مجھے
اسی مضمون میں ڈاکٹرانورسدید نے مجروح سلطان پوری کے
ایک شعر کاحوالہ بھی دیا ہے اور یہ شعر بھی سید فخر الدین
بلّے کے لئے ہے ۔
وہی ہے فخرِ ادب اور شہنشاہ سخن
کہ بَلّے نام سے یہ ساراشہرجانے جسے
مسعود اشعر نےاخباروالوں میں سید فخرالدین بلّے کی مقبولیت
کاراز کھول دیا۔
صف اول کے جدید افسانہ نگار مسعود اشعرنے فخرالدین بَلّے،تن
اجلا تو من اجلاکے عنوان کے تحت مضمون لکھ کر صحافیوں
میں ان کی مقبولیت کاراز فاش کردیا ۔لکھتے ہیں فخرالدین بَلّے
صاحب تمام اخباروالوں میں تحمل ،بردباری اور خوش مزاجی
کی وجہ سے مقبول تھے۔ سب سے پیار۔ کسی سے بیر نہیں۔اصل
میں تو وہ شاعر تھے اور شاعر بھی صوفیانہ مزاج والے۔ سب
کا بھلااور سب کی خیرچاہنے والے۔ لیکن آگئے تھے سرکارکے
محکمہ اطلاعات میں۔ وہ بھی اس محکمے کے بڑے افسر کے
عہدے پر۔ یہاں انہیں بھانت بھانت کے لوگوں سے واسطہ پڑتا
تھا۔چاہے کسی سے مزاج ملے نہ ملے، اسے خوش رکھنا ان کا
پیشہ تھا۔بلے صاحب کھڑے ہوکر لکھتے تھے۔ لوگ بیٹھ کر
لکھتے ہیں مگر بلے صاحب نے اپنے لکھنے کیلئے ایک پوڈیم
سابنایاہواتھا، جس پر کاغذ رکھے ہوتے تھے۔ بلے صاحب کو
جب بھی لکھنا ہوتا وہ پوڈیم کے پاس جاکر کھڑے ہوجاتے
اورلکھناشروع کردیتے۔ کھڑے ہوکر لکھنے والوں سے میں
واقف ہوں۔ ان میں ایک تو پولیس افسر تھے اور ایک ناول
نگار۔پولیس افسر ملتان میں ڈی آئی جی تھے۔ ان کا تعلق حیدرآباد
دکن سے تھا۔ انہیں میں نے کھڑے ہوکرلکھتے دیکھا۔دوسرے
جرمن نوبیل انعام یافتہ ناول نگار گنٹرگراس ہیں ،جن کے بارے
میں، میں نے پڑھا ہے کہ وہ کھڑے ہوکر لکھتے ہیں۔ چند
اورغیرملکی لکھنے والوں کے بارے میں میں نے ایسا ہی پڑھا
ہے۔ لیکن پاکستان اور ہندوستان میں کبھی کسی ایسے لکھنے
والے کے بارے میں نہ سنانہ پڑھا۔اب یہ کسی نفسیات داں سے
ہی معلوم کرنا پڑے گا کہ کھڑے ہوکر لکھنے میں کون سے
نفسیاتی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ لیکن اگر غور کیا جائے تو
ایسا لگتا ہےکھڑے ہوکر لکھنے والے وقت کو شکست دینے کی
کوشش کرتےہیں۔ یا یہ وہ لوگ ہوتے ہیں۔ جن کے دماغ بیک
وقت کئی گتھیاں سلجھانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کے
اندر کا شاعر ہمیشہ بغاوت پر آمادہ ہوتا ہوگا۔ یہ کشمکش انہیں
آرام سے نہیں بیٹھنے دیتی ہوگی۔خیر، میں کون ہوتا ہوں ان کا
نفسیاتی تجزیہ کرنے والا۔ اور میں یہ بھی نہیں جانتا کہ دنیا میں
دوسرے ایسے لکھنے والےجو ہیں۔ ماہرین نفسیات ان کے بارے
میں کیا کہتے ہیں۔ میں نے تو جودیکھا، وہ بیان کردیا۔
سید فخرالدین بِلّےسے بڑا ماہر تعلقات عامہ نہیں دیکھا۔جاوید
احمد قریشی
سابق چیف سیکریٹری پنجاب ، شاعر، ادیب اور دانشور جاوید
احمد قریشی نے لکھاہےسَید فخرالدین بَلّے میرے دوست بھی
تھے اور رفیق کار بھی۔ ہماری رفاقت نصف صدی کا قصہ
ہے۔وہ کوئٹہ ،قلات اور خضدار گئے تووہاں بھی ادبی ہنگامہ
خیزیاں جاری رکھیں۔سرگودھا،ملتان اور بہاول پورمیں بھی ان
کے جنوں نے انہیں فارغ نہیں بیٹھنے دیا۔لاہوراورراولپنڈی میں
بھی ادبی اورثقافتی ہلچل مچائے رکھی۔تخلیقی صلاحیتوں سے
مالامال اس شخصیت میں دست قدرت نے بہت سی شخصیات کو
یکجاکررکھاتھا۔ادیب،شاعر،دانشور،مقرراورماہرتعلقات عامہ ہی
نہیں ،وہ بہت کچھ تھے۔ان میں بلاکی خوداعتمادی تھی۔وسیع
العلمی ان کی پہچان تھی۔اورقادرالکلامی ان کاطرہّ امتیاز۔جس
رستے پر چلے،اپنی ذہانت اور علمیت کے گہرے نقوش
چھوڑے۔انسانیت ان کے انگ انگ میں بھری ہوئی تھی۔مٹی
کاقرض چکانااپنا فرض سمجھتے تھے۔۔ملک پر مارشل لاکے
بڑھتے ہوئےسائے دیکھ کران کے اندرکاشاعر کبھی خاموش
نہیں رہا۔اپنے کاموں کاکریڈٹ دوسروں کو بلاجھجک دیناان کی
عادت تھی۔دوسروں کے نام سے ساری زندگی لکھا،کبھی دفتری
مجبوری کے تحت ،کبھی کسی کی فرمائش پر۔صدور،وزرائے
اعظم ،گورنروں ،وزرائے اعلیٰ سمیت مقتدرشخصیات کے لئے
ہزاروں تقریریں لکھیں،بیسیوں بروشرز،سووینئیرز،کتابیں اور
کتابچے شائع کرائے۔بزم آرائیوں کے شوقین تھے۔لاہور میں ادبی
تنظیم قافلہ بنارکھی تھی،جس کے تحت بڑی خوبصورت محفلیں
سجائیں ۔ راولپنڈی آرٹس کونسل اور ملتا ن آرٹس کونسل کے
سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے ان دونوں ثقافتی اداروں کونئی
زندگی بخشی۔سَید فخرالدین بِلّے سے بڑا ماہر تعلقات عامہ میری
نظرسے نہیں گزرا۔۔ہرمشکل وقت میں ان کی پیشہ ورانہ مہارت
سرکاراور وطن عزیزکے کام آئی۔ وہ محکمہ تعلقات عامہ پنجاب
کاچہرہ تھے۔ان کی عظمت یہ بھی ہے کہ اس محکمے میں ان
کے ساتھ بہت سی ناانصافیاں بھی ہوئیں مگرانہوں نےاپنے کام
سے ہمیشہ انصاف کیا۔کام کو ہمیشہعبادت سمجھا۔لوگ ساری
زندگی دولت سمیٹتے رہتے ہیں اور پھر خالی ہاتھ دنیاسے
رخصت ہوتے ہیں لیکن سَید فخرالدین بِلّے نے صرف عزت اور
نیک نامی کمائی اوردنیاکوبہتکچھ دے گئے۔
سیدفخرالدین بَلّے کے کلام کے سحر سے آزاد ہونا مشکل ہے،
جگن ناتھ آزاد
نامورنقاد جگن ناتھ آزاد کہاکرتےتھے" سیّد فخر الدین بَلّےکی
خوبصورت شعری تخلیقات پڑھنے یا سننے کے بعد برسوں تک
ان کے سحر سے آزاد ہونا مشکل ہے۔"
سَیّد فخرالدین بَلّےعلم و ادب کی آبرو ہیں، میرزا ادیب
مایہ ءناز ادبی شخصیت میرزاادیب نےاپنےمخصوص انداز میں
سَیّد فخرالدین بَلّے کی تخلیقی شخصیت کو خراج تحسین پیش
کرتے ہوئےلکھا " ہر ملاقات میں ان کی شخصیت کا ایک نیا رُخ
میرے سامنے آیا‘ میں اس کثیر الجہت شخصیت کو پورے اعتماد
کے ساتھ علم و ادب کی آبرو قرار دے سکتا ہوں"۔
فخرالدین بَلّے کی شخصیت اور نظم و نثر میں رنگارنگی
تھی،ڈاکٹرخواجہ زکریا
ڈاکٹر خواجہ زکریا نے انہیں مجید امجد کی زبان میں حلم و آبرو
والے قراردیا اور اسی عنوان کے تحت اپنے مقالے میں لکھا ہے
کہ ''سیّد فخر الدین بَلّے کی ذات میں جتنا تنوع تھا۔ اسی قدر رنگا
رنگی ان کی نظم و نثر میں موجود تھی۔ ان کی گفتگو بھی
مطالعہ اور تجربے کا امتزاج ہوتی۔ ان سے ملنے والے ایک
خوشگوار شخصیت کا نقش دل پر لئے ہوئے ان سے رخصت
ہوتے''۔
سیدفخرالدین بلےکاقول ترانہ تاریخ ساز کارنامہ ہے،علامہ سید
احمد سعید کاظمی
غزالی ءزماں رازی ءدوراں علامہ سید احمد سعید کاظمی نے
اپنے تاثرات قلمبند کرتےہوئے لکھاہے''قولِ سیّد المرسلین
حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ”من کُنتُ مولاہ
فھٰذا علی مولاہ“ کی تصریحی و صوتی تہذیب کا جو کام حضرت
نظام الدین اولیاؒ نے امیر خسروؒ کے سپرد فرمایا تھا‘ بَلّے صاحب
کی یہ نئی تصریحی تہذیب اسی کا تکملہ نظر آتی ہے۔ ان کا یہ
قول ترانہ ایک تاریخی کارنامہ ہے، جو بلا شبہ قابلِ داد اور
موجب ستائش ہے''۔
سبحان اللہ ! سبحان اللہ۔ بَلّے بَلّے ۔ خواجہ نصیرالدین
نصیرگولڑوی
خواجہ نصیرالدین نصیرگولڑوی نے قوالی کے باب میں تاریخی
کارنامہ انجام دینے پر دل کی گہرائیوں سے داد دی اور
کہاسبحان اللہ ! سبحان اللہ۔ بَلّے بَلّے ۔ سیّد فخر الدین بَلّے کا یہ
”قول ترانہ“ موجب تحسین و آفرین اور لائقصد ستائش تاریخی
کارنامہ ہے اور سات صدیوں کے بعد دوسری بارقول کی نئی
تصریحی تہذیب کا اعزاز ملتان کا مقدر بنا ہے۔
سیّد فخر الدین بَلّے ادب کی دیوقامت شخصیت ہیں، پریشان
خٹک
پریشان خٹک نے سیّد فخر الدین بَلّے کو ادب کی دیو قامت
شخصیت کا نام دیا اور کہا کہ انہوں نے ادب اور فنون کی دنیا
میں جو کام کئے‘ وہ بہت سے اداروں کی مجموعی کارکردگی پر
بھاری ہیں۔
وہ حُب اہل بیت کےآداب کامکتب ہیں،استاد سبط جعفر زیدی
نامور علمی اور ادبی شخصیت استاد سبط جعفر زیدی نے اپنے
مخصوص انداز میں سید فخرالدین بلے کوخراج تحسین پیش کیا
اور شعری پیرائےمیں کہا
فخرالدین بلے کو اتنا جانتا ہوں میں
حُب اہل بیت کےآداب کامکتب ہیں وہ
نامورادیبوں کو ان کاقدردان پایا، ڈاکٹرسیدحامد سابق وی سی
مسلم یونیورسٹی علی گڑھ
سابق وائس چانسلر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ ڈاکٹرسید حامدنے
پاکستان آکر سیّد فخرالدین بلے کے ساتھ خاصا وقت گزارا،
اوراپنے تاثرات کااظہارکرتےہوئےلکھاشاعر،ادیب، اسکالر،
دانشور ، اور محقق ، یہ ہیں سیّد فخر الدین بَلّے علیگ۔ بھارت
کے بہت سے ادیبوں اور شاعروں کو ان کاقدردان پایا۔شکیل
بدایونی انہیں فلمی گیت نگاری کی طرف لانا چاہتے تھے۔گوپی
چند نارنگ اور ڈاکٹرجگن ناتھ آزاد سے بھی ان کی بہت سی
باتیں سنتا رہا ہوں ۔ پاکستان کے علمی اور ادبی حلقوں میں بھی
انہیں بڑی قدرو منزلت حاصل ہے۔ سیّد فخر الدین بَلّے نے اپنے
دل اوردماغ میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کوبسا رکھاہے ۔ زبان
کھولیں تو پاکستان کی محبت ان کے لب و لہجے میں بولتی ہوئی
سنائی دیتی ہے۔ادبی تنظیم قافلہ کے بانی بھی ہیں اور اس قافلے
کے ساتھ مجھے بھی پڑاﺅ ڈالنے کااعزازحاصل ہواہے۔مجھے
سیّد فخر الدین بَلّے کی محبتیں یاد رہیں گی اورقافلے کی یادوں
کاقافلہ میرے ساتھ بھارت جائے گا۔
وہ دنیائےادب و ثقافت کے ایک بڑے آدمی تھے،ڈاکٹراجمل
نیازی
ممتاز کالم نگار اور نقاد ڈاکٹراجمل نیازی نے لکھاہےکہ بڑا
آدمی وہ ہوتا ہے،جسے اس کےعہد کے بڑے لوگ بڑاآدمی مان
لیں،سیدفخرالدین بلے اس لئےبھی ایک بڑےآدمی تھے کہ ان کے
عہد کے بڑے بڑے ادیبوں اور ناقدوں نےانہیں ادب و ثقافت کی
دنیاکاایک بڑا آدمی تسلیم کیا۔ان کی ادبی اور ثقافتی خدمات قابل
قدرتھیں اور انہیں مدتوں فراموش نہیں کیاجاسکتا۔۔
ادب کی مانگ میں پہلاسا وہ سنگھارنہیں، فضیل جعفری
بھارت کے ممتازشاعر،ادیب، انگریزی ادبیات کے استاد اورنقاد
فضیل جعفری نے سید فخرالدین بلے کی خدمات کااعتراف کرتے
ہوئے شعری پیرایہ ءاظہاراختیارکیا ۔ان کے دواشعار ان کے
جذبوں کی ترجمانی کرتے نظرآئے۔
کنور ، فراق ، جگر ، بلے اور خمار نہیں
ادب کی مانگ میں پہلاسا وہ سنگھار نہیں
اور اب دوسرا شعر بھی ملاحظہ فرمالیں ، اس میں انہوں نے
جگر، فراق ، خمار اور بلےچاروں کو محبتوں کے ساتھ یاد
کیاہے۔۔
مِری نظرسے ہی دیکھ لوتم مقام چاروں کاکم نہیں ہے
یقین جانو کہ معتبرہیں جگر ، فراق اور خمار بلے
سیدفخرالدین بَلّے نے تعلقاتعامہ کی تاریخ کانیا باب لکھا۔اظہرامام
زیدی
سیداظہرامام زیدی ریٹائرڈڈائریکٹر محکمہ تعلقاتعامہ،حکومت
پنجاب لکھتے ہیں ایک مرتبہ ذوالفقار علی بھٹو بحیثیت
وزیرخارجہ پاکستان سردار سورن سنگھ سابق وزیرخارجہ
بھارت سےکشمیر پر مذاکرات کیلئے نئی دہلی گئے۔ اور انہوں
نےسیدفخرالدین بلے کوبھی اپنے وفد میں شامل کرلیا۔ اسی
دورےکے دوران ایک دن پاکستان کے ہائی کمشنر برائے بھارت
آغا ہلالی بھٹو صاحب سے ملاقات کے لئے آئےتو اس وقت
فخرالدین بلے بھی اس کمرے میں موجود تھے۔ دوران گفتگو آغا
ہلالی نے بھٹو صاحب کو بتایا کہ اگلے روز بھارت کے ایک
قومی سطح کے روزنامے میں ان کے خلاف ایک نہایت زہریلا
مضمون شائع ہو رہا ہے۔ یہ سن کر فخرالدین بلے صاحب چپکے
سے کمرے سے باہر آگئے اور تقریبا دو گھنٹے بعد واپس پہنچ
کر بھٹو صاحب کو مذکورہ مضمون کا مسودہ پیش کر دیا ۔جسے
دیکھ کر بھٹو صاحب حیران رہ گئے اور تعجب سے بلے صاحب
سے دریافت کیا کہ کیا اب یہ مضمون اخبار میں شائع نہیں ہوگا
۔بلے صاحب نے کہا کہ اس کی اشاعت اب کیسے ممکن ہے؟۔
کیونکہ مضمون کا اصل مسودہ تو آپ کے ہاتھ میں ہے (یاد رہے
کہ اس وقت تک فوٹوسٹیٹ مشین دریافت نہیں ہوئی تھی ) وطن
واپس پہنچ کر ذوالفقار علی بھٹو نے بلے صاحب کی اس حیران
کن اور فقیدالمثال کارکردگی سے متاثر ہو کر ان کی رپورٹ میں
یہ درج ذیل ریمارکس لکھے ۔
The performance of MrFakhruddinBalley at
New Delhi was Excellently Excellent
ایک غیر ملک میں ایسا محیر العقول کارنامہ سرانجام دینا یقیناً
تعلقات عامہ کی تاریخ میں اپنی نظیر نہیں رکھتا ۔
سید فخرالدین بِلّےعلم وادب کااثاثہ تھے،کمال احمد رضوی
پی ٹی وی کی مقبول و معروف مزاحیہ سیریل الف نون کے خالق
کمال احمدرضوی نے سَید فخرالدین بِلّے کو علم وادب کااثاثہ
قراردیا اور لکھاہے کہ خداداد صلاحیتوں سے مالامال اورباکمال
شخصیت سَید فخرالدین بِلّے ادب ، صحافت ، ثقافت ، اسٹیج
اورقوالی کی دنیا میں ایسے کام کرگئے، جومدتوں فراموش نہیں
کئے جاسکیں گے۔وہ بڑےملنسار، خوش اخلاق اور مروت و
محبت کا پیکر تھے۔ جو ملتا اسے اپنا گرویدہ
بنالیاکرتےتھے۔پاکستان ٹیلی ویژن لاہور اسٹیشن انیس سو چونسٹھ
میں بنا اور یہی ہم دونوں کی دوستی کاپہلاسال تھا۔جو وقت کے
ساتھ پروان چڑھتی چلی گئی۔ایسابھی ہواکہ کئی کئی سال ملاقات
نہ ہوپائی لیکن جب ہوئی تو سلسلہ وہیں سے جڑگیا،جہاں سے
ٹوٹاتھا۔بہت سی شامیں ان کے ساتھ گزاریں،گھنٹوں گپ شپ
رہی۔وہ بڑی پہلودار شخصیت کے مالک تھے۔دل کے غنی ۔دل
کی طرح ان کادسترخوان بھی بڑاکشادہ تھا۔ غزلوں،نظموں اور
نثرپاروں میں اپنے کمالات دکھائے۔سو سے زائد مطبوعا ت
مرتب کیں۔ایک درجن سے زیادہ جریدوں کی ادارت کی۔مولائے
کائنات حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہ کی سیرت و شخصیت
پر تحقیقی کتاب "ولایت پناہ "لکھی۔جشن تمثیل کرایااور وہ بھی
پچیس روزہ ۔ہرروز نیاڈرامہ۔نئے فن کاروں اور نئے اسکرپٹ
کے ساتھ اسٹیج کیاگیا۔یہ اپنی نوعیت کاانوکھاتجربہ تھا،جس کی
گونج ملک کے طول وعرض میں دوردورتک سنائی دی۔وہ اپنی
ذات میں خود ایک ادارہ اور ایک انجمن تھے۔ایک زمانہ ان کے
کام کامداح ہے ۔
سید فخر الدین بلّے تہذیب سازہستی تھے،اصغرندیم سید
مایہء ناز ڈراما نگاراصغر ندیم سید نے سید فخر الدین بلّے کو
تہذیب ساز ہستی کانام دیا اورلکھاہےسید فخر الدین بلّے سے
میری ملاقات اس زمانے میں ہوئی،جب وہ محکمہ اطلاعات کے
افسر اعلیٰ بن کر ملتان میں تعینات ہوئے۔ میں کالج کا طالب علم
تھا، میرے ساتھ کالج کے وہ دوست جو علم و ادب سے دلچسپی
رکھتے تھے اور شاعری، افسانہ نگاری اور کالم نگاری میں
کچھ نام بنانا چاہتے تھے۔ہم اکثر ان کے دفتر حاضری دیا کرتے
تھے۔حسن پروانہ روڈ پر ان کا دفتر ہوتا تھا۔ اسی سڑک پر
روزنامہ ”امروز“ کا دفتر بھی تھا،جواس علاقے کا سب سے
مقبول واحد اخبار تھا اور ترقی پسند نظریات کا حامل تھا۔اس
اخبار کے ایڈیٹر مسعود اشعر تھے،جو اردو کے صف اول کے
جدید افسانہ نگار ہیں۔ وہاں اکثر پروفیسرعرش صدیقی، پروفیسر
نذیر احمد،پروفیسر فرخ درانی اور سید فخر الدین بلّے صاحب
بھی آیاکرتےتھے۔اکثر ان صاحبان کی موجودگی میں ادبی نشست
بن جاتی تھی۔ ہم ان کی باتیں سن کر اپنے ذوق کی تربیت کے
لئے کوشاں رہتے تھے۔ یہ سب ادیب اور شاعر کلاسیکی ادب کا
گہرا شعور اور ذوق رکھتے تھے۔ ان سب میں سید فخر الدین
بلّے صاحب کی شخصیت من موہنی تھی، چونکہ وہ ہمارے استاد
نہیں تھے۔ اس لئے ہمیں ان سے ڈر نہیں لگتا تھا۔ وہ دوستانہ
انداز سے ہمیں اکثر اپنے دفتر لے جاتے تھے۔ ان کے دفتر کا
ماحول عام سرکاری دفاتر سے قطعاً مختلف ہوتا تھا۔ وہ لگتا تھا
ان کی لائبریری یا ان کے لکھنے کا کمرہ ہے۔ اس لئے کہ اس
میں بے شمار کتابیں اور لکھنے پڑھنے کا پورا ماحول ہوا کرتا
تھا۔بلے صاحب کھانے پینے کی ہر ضرورت کا خیال رکھتے
تھے۔ بے حد وسیع دل و دماغ کے مالک تھے اور ان کا دستر
خوان ان کی آخری سانس تک بے حد وسیع رہا۔ دوستدار انسان
تھے اور ہر طبقہ کے افراد سے ان کا گہرا تعلق تھا ۔ سیاست،
تجارت، ثقافت اور زندگی کے دیگر شعبوں کے افراد ان کے
پاس آیا کرتے تھے اور وہ ان سب سے مروت و اپنائیت سے ملا
کرتے تھے۔چونکہ میرا گھر ان کے دفتر سے زیادہ دور نہیں ہوا
کرتا تھا۔ میں اپنی سائیکل پر پہنچ جاتا تھا۔ وہ سرکاری کام بھی
ساتھ ساتھ نمٹاتے جاتے تھے اور نوجوانوں کی تربیت ایک غیر
محسوس طریقے سے کئے جاتے تھے۔ کبھی اپنے مطالعے کے
حاصل سے ہماری رہنمائی کرتے تھے، کبھی اپنے ہم عصروں
کی لکھی چیزوں پر رائے دیتے تھے۔ اس طرح وہ اپنے مطالعے
میں ہمیں شامل کر لیتے تھے۔ جو کچھ ہم کالج میں نہیں سیکھ
سکتے تھے، وہ سید فخر الدین بلے غیر رسمی طریقے
سےسمجھا دیتے تھے۔ سید فخر الدین بلّے بے حد خوش لباس
اور جاذبنظر شخصیت کے مالک تھے ، اوپر سے اللہ نے
انہیں گداز سے بھری آواز عطا کی تھی۔ وہ بولتے تو لگتا کوئی
محبت سے تھپکیاں دے رہا ہے۔ ان کے کام کا دائرہ بے حد وسیع
ہے ۔مولاعلیؓ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے علم ،تفکر اور
فلسفے کو سمجھنے کی انہوں نے بھر پور سعی کی۔ اگرچہ
مولاعلی کرم اللہ وجہہ کے علم اور فکر کو سمجھنے کے لئے
صدیوں کی ریاضت کم ٹھہرتی ہے۔ میں نے اور میرے دوستوں
نے فخر الدین بلے کی صحبت میں ان تمام نشانیوں کو بھانپ لیا
تھا۔ اس لئے مجھے بہت روحانی سرور ملتا تھا۔
بلے بلے سبھی کی زبانوں پہ ہے، ڈاکٹر مقصود زاہدی
ملتان میں پچیس روزہ جشنتمثیل کااہتمام کرنے پر ایک شام سید
فخرالدین بلے کے نام کردی گئی۔ ڈاکٹر مقصود زاہدی نے جو
مضمون پڑھا ،اس کاعنوان تھا، سید فخرالدین بلے۔محسن فن،
آبروئے شعروسخن۔اپنے مضمون کی تان انہوں نے اپنے ہی اس
قطعے پر توڑی۔
فخرِ شعر و ادب، آبروئے سخن
محسنِ فن سمجھتے ہیں ارباب ِفن
بلے بلے سبھی کی زبانوں پہ ہے
ذات میں آ پ ہیں اپنی اِک انجمن
یاد رہے کہ اس محفل میں سید فخرالدین بلےکو مین آف دی اسٹیج
اور محسن فن کا خطاببھی دیاگیاتھا۔۔
۔
ان کی ادبی کاوشوں کے احاطے کے لئے ایک دفتر چاہئے۔احمد
رئیس چشتی
خواجہ خواجگاں حضرت خواجہ معین الدین چشتی سنجری
اجمیری رحمة اللہ علیہ کی سیرت و شخصیت کے حوالے سے
تحقیق کرکے شہرت کمانے والی کراچی کی ادبی شخصیت احمد
رئیس چشتی نے اپنے مضمون میں لکھاہے کہ سیدفخرالدین بلے
ادیب باکمال، شاعر بے مثال اور ایک شخص بے نظیر تھے، ان
کی علمی و ادبی کاوشوں کے احاطے کے لئے ایک دفتر چاہئے۔
مجھے فخر الدین بلے کے قول ترانے اور رنگ، کے مطالعہ کا
موقع ملا تو یہ دیکھ کر جی خوش ہوا کہ انہوں نے واقعی حسن
وعقیدت سے اس کڑی منزل میں کمالفن سے اپنی علمیت وہنر
مندی کا لوہا منوالیا ہے۔ ایک عالم ان کی اس منفرد کاوش کی
تعریف میں رطب اللسان ہے، میں بھی انہیں دل سے دُعا دے رہا
ہوں اور ایک ایک ایک مصرع پڑھ کر سرشاروبے خود ہوں۔،
سیدفخرالدین بلے نے بین السطور جو پیغام دیا، اسے عام کرنے
کی ضرورت ہے،۔
وہ اس زمیں پہ رہ کےبھی عرش بریں ہوا، صفدر ہمدانی
نامورشاعر، ادیب، صحافی، مرثیہ نگار اور
براڈکاسٹرصفدرہمدانی نےبڑے خوبصورت پیرائے میں خراج
محبت پیش کیاہے۔نام کی مناسبت سے بھی جونکتہ آفرینی فرمائی
ہے ،وہ بلاشبہ انہی کاحصہ ہے۔صفدرہمدانی کاقطعہ پڑھئے اور
سردُھنئے۔
جودیں کا فخر بن گیا،وہ فخرالدیں ہوا
لاریب خُلد میں وہ نَفَس ہے،مکیں ہوا
عشقِ رسول و آل نبی کا ہے معجزہ
وہ اس زمیں پہ رہ کےبھی عرش بریں ہوا
ان کی ذات میں بیک وقت کئی جہان آبادتھے،پروفیسرمنظرایوبی
استاذالاساتذہ اورشاعرو ادیب پروفیسر منظرایوبی نےاپنےمبسوط
مقالےکو" دیکھئے ،اس شخص میں کتنے جہاں آباد ہیں"کاعنوان
دیا ہے۔ لکھاہےسید فخر الدین بَلّے کا تعلق ایک ایسے علمی و
ادبی خانوادے سے تھا ۔جس کی فضیلت گذشتہ کئی نسلوں سے
مثالی حیثیت کی حامل تھی۔ ذہن کی ابتدائی نشوونما میں گھر کے
تربیتی ماحول اور ترکِ وطن کے بعد پنجاب کی خوشگوار ادبی
فضاءنے ان کی شخصیت سازی میں بہت اہم رول ادا کیا۔ ویسے
اللہ تعالیٰ نے انہیں جو قابلیت ‘ لیاقت‘ سوجھ بوجھ اور استعداد
عطا کیں۔ بلے صاحب نے ان سے بطریقِ احسن کام لینے میں
کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ۔ تنہا اپنی ذات سے ایسے ایسے
کمالات ہنر دکھلائے اور معجزاتی امور سر انجام دیئے کہ
دنیائے ادب میں انہیں ایک ادارے‘ ایک انسٹی ٹیوشن کے معتبر
حوالے کی حیثیت حاصل ہو گئی ۔منظرایوبی لکھتے ہیں بلے
صاحب ادیب‘ شاعر‘ صحافی‘ تجزیہ نگار‘ محقق‘ تخلیق کار ہی
نہیں تھے بلکہ دینی عالم‘ دانشور اور بہ اعتبارِ مشرب تصوف
کے علمبردار بھی تھے۔ سائنس کے گریجویٹ ہونے کے باوجود
انہوں نے سائنسدان کی حیثیت سے زندگی گزارنے کے بجائے
ذرائعِ ابلاغ کے سرکاری محکموں میں ملازمت اختیار کرنے کو
ترجیح دی۔ گویا تعلقاتِ عامہ اور محکمہ اطلاعات کو روزی کا
ذریعہ بنایا۔ عمر بھر متعلقہ ادارات اور دیگر عوامی فلاحی دفاتر
سے منسلک رہے اور اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لا کر
مہارتِ کاملہ کا لوہا منوایا۔نظم نگاری کے تعلق سے سیّد فخر
الدین بلے اپنی ایک الگ شناخت رکھتے ہیں ۔جس کا ابتک کھل
کر اس لئے اظہار نہ ہو سکا کہ ہم بھی ڈاکٹر وزیر آغا کے بقول
بلے صاحب کی غزلوں کے سحر سے باہر نہیں نکلے۔ لیکن اس
حوالے سے صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ بلے صاحب کو نظم و
غزل دونوں اصناف پرقدرت کاملہ حاصل ہے۔ میں اپنے عمیق
مطالعہ کی بنیاد پر بلے صاحب کو جملہ اصنافِ سخن کا تخلیق
کار سمجھتا ہوں۔ مختلف موضوعات پر مبنی جتنی نظمیں میری
آگاہی کا حصہ بنی ہیں، تمام کی تمام نظم نگاری کی تکنیک اور
جدید فنی تقاضوں پر پوری اترتی ہیں۔ ان کی چند نظمیں بالکل
تازہ اور انوکھے موضوعات کے ساتھ ساتھ ”ہئیت“ کے جدید
تجربوں کی آئینہ دار بھی ہیں۔شاعر کا ہر خیال‘ تصور‘ جذبہ یا
احساس اپنے ساتھ اظہار کا طریقہ یا پیرایہ اپنے ساتھ لاتا ہے۔
بلے صاحب کی ہر نظم کی ہئیت یا خارجی شکل موضوع کی
مناسبت سے ظہور پذیر ہوئی ہے۔ بلے صاحب کی نظموں کے
موضوعات میں رنگا رنگی ‘ ہمہ گیری یا بوتلمونی کوئی مسئلہ
نہیں۔ یہ اوصاف یا محاسن تو خود ان کی پر شکوہ ترنم ‘ ڈکشن‘
لہجہ کی مٹھاس‘ مصرعوں کی کاٹ‘ روانی ءطبع‘ مقصدیت اور
تخلیقیت کے جواب سے پیدا ہو جاتے ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ
زندگی اور کائنات کی ان گنت جہتیں‘ زمانے کی تیز رفتاری‘
بدلتی دنیا کا اہم رخ‘ ان کی طویل نظموں اور مختصر نظمانوںمیں
اپنی اپنی بہار دکھاتا محسوس ہوتا ہے۔ فرش تا عرش اور شرق
سے غرب تک پھیلے ہوئے دامنِ قلب و نظر کو اپنی طرف
کھینچتے ہوئے قدرتی مناظر کی تصویر کشی بلے کی نظموں کا
خاصہ ہے۔بلے صاحب کےحوالےسے مستند قلمکاروں کی بے
شمار آراءمیری نظر سے گزری ہیں ۔لیکن مقالہ ہذا میں ان سب
کااحاطہ ممکن نہیں۔ البتہ بعض ناقدینِ ادب کے گراں قدر
اظہاریوں اور اپنے مطالعہ کی روشنی میں ہم بڑی حد تک بلے
صاحب کے قدو قامت کا تعین کر سکتے ہیں۔ میری نظر میں ان
کی ذات ایک ایسے باغ کی مانند ہے، جس میں انواع و اقسام کے
گل بوٹے‘ طرح طرح کے پودے‘ سبزے کی روشیں‘ رنگ
برنگے پھولوں کی کیاریاں اپنی اپنی بہار دکھا رہی ہیں۔ فضائیں
مختلف رنگوں میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ ہوائیں خوشبوﺅں میں گندھی
ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ گویا بلے صاحب کی زندگی کا ہر گوشہ
سیاحانِ ادیہ کے دل و دماغ کو معطر کرتا ‘ آنکھوں کو ٹھنڈک
بخشتا اور ذہنوں کو جلا عطا کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ان کی پوری
شاعری کو خواہ لب و لہجہ ‘ اسلوب اور زبان و بیان کے اعتبار
سے پرکھیں یا موضوعاتِ شعری کی میزان میں تولیں، ہر لحاظ
سے ان کے یہاں دریاﺅں کی روانی‘ ہواﺅں کا شور‘ تپتے
ریگزاروں کی حدت‘ سمندروں کے سکوت کے ساتھ حسن و
جمال کی شگفتگی اور عشق و محبت کی رعنائی‘ روح کو
چھوتی اور دلوں کو موہ لیتی محسوس ہوتی ہے۔ مختصر یہ کہ
سیّد فخر الدین بلے صرف حیات و کائنات کے ترجمان ہی نہیں،
اپنے عہد کی ایک پوری تہذیب‘ تمدن‘ سماج اور معاشرت کی
منہ بولتی تصویرنظر آتے ہیں۔ بے شک کسی بھی عہد کا مورخ
ان کی پہلودار شخصیت اور ان کے ادبی و شعری کارناموں کا
ذکر کئے بغیر ادبی تاریخ مکمل نہیں کر سکتا۔
سید فخرالدین بلے کی گفتگو وسعت علمی کا پتا دیتی تھی، جلیل
عالی
معروف علمی و ادبی شخصیت جلیل عالی نے یادوں کی کھڑکیاں
کھولتے ہوئے لکھاہے کہ جن دنوں بَلّے صاحب راولپنڈی آرٹس
کونسل کے سربراہ تھے‘ ان سے اکثر ملاقات رہتی تھی۔ ہر شام
ہم چند دوست روزنامہ "نوائے وقت" کے قریب واقع "داتا
ریسٹوران" میں بیٹھا کرتے تھے۔ باقاعدگی سے آنے والے احباب
میں شفیع ضامن مرحوم‘ یوسف حسن‘ نوازعلی‘ جہانگیر عمران
اور آصف ڈار شامل تھے۔ یہاں سے آرٹس کونسل کی عمارت کا
فاصلہ بمشکل ایک فرلانگ تھا۔ ہم ہفتے میں دو تین بار داتا
ریسٹوران سے اٹھ کر بَلّے صاحب کے ہاں چلے آتے۔ رات گئے
تک نشست جاری رہتی۔ چائے بھی چلتی رہتی اور گپ شپ کا
سلسلہ بھی جاری رہتا۔ ادب، سیاست،مذہب، کلچر گویا ہر
موضوع پر گفتگو ہوتی ۔ پھر بَلّے صاحب کے تعاون سے "حلقہ
ارباب ذوق" راولپنڈی کے ہفتہ وار اجلاس بھی کونسل کے دفتر
ہی میں منعقد ہونے لگے۔ بَلّے صاحب نہ صرف باقاعدگی سے
ان میں شرکت کرتے بلکہ زیربحث تخلیقات پر بھرپور اظہار
خیال بھی فرماتے ۔ان کا لب و لہجہ بڑا دلپذیر ہوتا۔ ٹھہر ٹھہر کر
بڑے دھیمے انداز میں بولتے اور موضوع کے حوالے سے بڑی
وقیع گفتگو کرتے۔ ان کے خیالات سے ان کی علمی وسعت اور
حافظے کا تاثر نمایاں ہوتا۔ کبھی کبھار مشاعروں میں ان کا کلام
سننےکاموقع بھی مل جاتا۔ایک دن ان کی علمی گفتگو نے حیران
کردیا۔بولے اسلام اورسائنس میں تو کوئی تضاد نہیں۔ قرآن میں نہ
صرف علم و تحقیق پر بہت زور دیا گیا ہے بلکہ بعض ایسے
حقائق بھی بیان ہوئے ہیں ،جن تک سائنسی تحقیق کی رسائی بہت
بعد میں جا کر ہوئی۔ مثلاً عورت کے پیٹ میں استقرارِ حمل سے
لے کر بچے کی پیدائش تک کے جن مختلف مراحل کا ذکر چود
ہ سو سال پہلے جس صراحت کے ساتھ قرآن میں آیاہے، ان
مراحل پر قرآن کے حوالے سے بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی
اور ہمیں ایک خوشگوار حیرت سے دو چار کر دیا۔ ہمارے
استفسار پر انہوں نے بتایا کہ حیاتیات ان کا خاص مضمون ہے۔
ان کا کچھ منتخب کلام نظر سے گزرا تو مجموعی طور پر یہ
تاثر بنا کہ اردو کی کلاسیکی شاعری پر ان کی گہری نظر
ہے۔ان کی غزلوں میں روایت اور جدت کا خوبصورت امتزاج
موجود ہے ۔ان کے اشعار انسان ، زندگی اور کائنات کے بارے
میں ان کے گہرے مشاہدے اور مطالعے کا پتہ دیتے ہیں۔ان کے
ہاں اس حقیقت کی نشاندہی بھی موجود ہے کہ بعض اوقات
زندگی اور کائنات کے بارے میں مختلف فلسفے اور تصورات
انسانی ذہن کو منتشر کر کے رکھ دیتے ہیں۔ انسان متبائن و
متضاد نظریات کی بھیڑ میں ذہنی کشمکش کا شکار ہو کر رہ
جاتا ہے کہ ان میں سے کس کو درست تسلیم کرے اور کس کو
غلط گردانے۔ اس حوالے سے ان کا ایک شعر دیکھئے۔
ہے فلسفوں کی گرد نگاہوں کے سامنے
ایسے میں خاک سوچ کو رستہ دکھائی دے
تاہم انہیں اس بات کا احساس ہے کہ انسانی وجود اور انسانی
زندگی کی وسعتوں، گہرائیوں اور لطافتوں کا کسی عقیدے
،فلسفے اور نظریئے کی حدود میں سمانا محال ہے۔ یہ
تنوعات،تضادات اور پیراڈاکسس کا ایسا سلسلہ ہے کہ عقلی
پیمانوں کی محدودیت اس کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ اسی لئے وہ
کہتے ہیں
رہیں گے قصرِ عقائد نہ فلسفوں کے محل
جو میں نے اپنی حقیقت کا انکشاف کیا۔
روایت کے گہرے شعور اور تخلیقی اُپج کے کامیاب امتزاج نے
بَلّے صاحب کو بعض ایسے اشعار عطا کئے ہیں کہ جو نہ
صرف ان کے تخلیقی جوہر کی بہترین نمائندگی کرتے ہیں بلکہ
حسنِ اظہار کے دلکش نمونوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔
رُتوں کی ریت یہی ہے ،یہی ہوا کی روش
تپش بڑھے گی تو بادل ضرور برسے گا
اب تو مرنا بھی ہو گیا مشکل
آپ کیوں آ گئے عیادت کو
اپنی کتاب زیست پہ تنقید کے لئے
آخر میں چند سادہ ورق چھوڑ جاﺅں گا
محسن اعظم محسن ملیح آبادی نے کتاب نما طویل مقالہ لکھ ڈالا
عظیم المرتبت علمی ادبی شخصیت اور معروف نقاد محسن اعظم
المعروف محسن ملیح آبادی نے سید فخرالدین بلے کی شخصیت
،فن اور ان کے تخلیقی ،جمالیاتی اور فکری زاویوں پر بڑا
خوبصورت تحقیقی اور تنقیدی مقالہ لکھاہے ،جو اپنی طوالت
اورضخامت کی وجہ سے کسی ایک جریدے میں تو شائع نہیں
ہوسکتا، البتہ ایک ضخیم کتاب اس کی متحمل ضرور ہوسکتی
ہے۔لکھتے ہیں کتنی ہی ایسی شخصیات گزری ہیں، جن کی
شہادت تواریخِ علم وادب کی زبان پر ہیں۔ جو نادر صفات
سےمُتصفِ تھیں۔ ماضی بعید ہو یا ماضی قریب ان ہستیوں نے ہر
دور میں اپنے جامع کمالات ہونے کے نقوش ونشانات مختلف
صورتوں میں چھوڑے ہیں،جن کا اعتراف تمام اساطینِعلم وفنون
نے کشادہ دلی سے کیاہے۔ ایسی ہی ایک نابغہ روزگار شخصیت
ماضی قریب میں تھی ، جو اپنی دانشورانہ عبقریت اور طباعی
میں اہلعلم وشعور میں مشہورتھی۔ جس کا اعتراف متبحر
صاحبانِ علم وفنون اور ادب وصحافت کی زعیم ہستیوں نے کیا
ہے۔ سید فخرالدین بلے کا سلسلہء نسب ولی الہند حضرت خواجہ
معین الدین چشتی سنجری ثمہ اجمیری سے ہوتا ہوا حضر ت علی
کرم اللہ وجہہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے تینتالیس واسطوں سے مل
جاتا ہے۔ وہ فاطمی سادات تھے۔وہ صوفیانہ فکروفلسفہ پر عبور
رکھتے تھے ۔ اور ان پرعملاً خود بھی عامل رہے۔ انکی روشنی
ءفکر ونظر ہرخاص وعام پراثراندازہوتی رہی۔ وہ اپنی فیض
رساں شخصیت کے اعتبار سے مندرجہ ذیل فارسی شعر کی
معنویت کے مصداق رہے ۔
پر تو مہر بہ ویرانہ و آباد یکسیت
حسن، گر تنع کشد بندہ و آزاد یکسیت
ان کی ذات اور علم و فکر سے بقدرِ ظرف وعلمی وذہنی استعداد
سبھی نے فیض حاصل کیا ۔ان کی فکری تموجات اور علمی
جہات بہت سی ہیں، جن کا احاطہ کرنا اس اجمالی مقالے میں
نہیں ہوسکتا۔ میں ان کا تعارف بحیثیت شاعر۔ انتقادی تناظر میں
کرائوں گا۔ انکی قادرالکلامی ،ریاضتِ شعری، شاعرانہ عظمت
پر تفصیلاً بات کروں گا۔دیگرخصوصیات بطور اجمال بیان
ہونگی۔ وہ بیسویں صدی کے معتبر شعرا ءکی صف کے سخنور
تھے۔ شاعری میں انکا اعتراف علم وادب کے ثقہ ومستند اساطین
وزعما نے کیا ہے۔ مثلاً شاعرانقلاب حضرت جوش ملیح آبادی ،
فراق گورکھپوری ، جیسے نابغہ روزگار ان کے کمال شاعری
کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں جو ہیں تو بہت مختصر مگروہ
صفتِ ”ماقل ودل“ کے حامل ہیں۔ حضرت جوش ملیح آبادی
فرماتے ہیں "سید فخر الدین بلے کے کلام میں دریا کی روانی
اور جذبوں کی فراوانی ہے۔ تاریخ، ادب اور تصوف کا وسیع
مطالعہ ان کے کلام میں بولتا ہوا، اور سوچ کے درکھولتا ہوا
دکھائی دیتا ہے"۔ فراق گھورکھپوری جو کلاسیکل اور جدید غزل
کے صاحبِ طرز شاعر ہیں ،ارشاد فرماتے ہیں"سید فخر الدین
بلے رنگوں کی بجائے الفاظ سے تصویریں بنانے کا ہنر جانتے
ہیں"۔ ان اساطین کے مختصر اظہار کی روشنی میں ، انتقادی
کسوٹی پر ان کی شاعری کا سوناکھرا ہے۔ وہ عروضی فنی امور
میں محتاط نظر آتے ہیں۔ ان کے سرمایہ شاعری میں جو اس
وقت میرے سامنے ہے۔اس میں محاسن و روائع زیادہ ہیں۔
خوبیوں کی بھی افراط انہیں متحرک اور زندگی سے جڑا ہوا
شاعر دکھاتی ہے۔ ان کے شاعری کلاسیکل اور جدید کا بہترین
مربع التاثیر آمیزہ ہے۔ سب سے بڑی خوبی ان کے کلام کی یہ
ہے کہ قنوطیت وجمود سے مبرا ہے۔ وہ امید و رجا کے بیدار
دماغ شاعر ہیں۔ ان کا شاعرانہ لہجہ تقلیدی نہیں، خود آفریدہ ہے۔
ان کے اسلوبِبیان میں تازہ کاری ہے، شائستگی اور شگفتگی ان
کی شاعری کا جوہرِ خاص ہے۔ فصاحت کے ساتھ طلاقتِ لسانی
، شوکتِ خیال اور خوبصورت الفاظ کے دروبست کے وہ ماہر
شعری صورت گر ہیں۔ ان کے شعری کینوس پر ان کا فیصلہ کن
مشاہدہ پھیلا ہوا ہے۔ ان کے احساسات کا دائرہ اپنے اندر بہت سی
جذباتی، فکری اور نفسیاتی بوقلمونیاں سمیٹے ہوئے ہے۔ ان کی
شاعری ہر اعتبار سے اظہار کے مضبوط ستونوں پر ٹھہری
ہوئی ہے۔ انتقادی تناظر میں یہی وہ خوبیاں ہیں، جو کسی شاعر
کو منفرد ونادر صورت میں سامنے لاتی ہیں۔ اور اس کو آفاقی
ادب میں بلند مقام دینے پر اصرار کرتی ہیں۔ میں نے موصوف
کا وہ شعری سرمایہ بالاستیعاب پڑھا ہے، جو مجھے دستیاب ہوا
۔ وہ انتقادی تناظر کے ساتھ میری استحسانی وتاثراتی روشنی میں
ایک ماہر شعری صورت گر ٹھہرے ہیں۔ وہ ان شعراءکی صف
کے شاعر ہیں ۔جو اپنے کلام کے بل پر زندہ رہنے والے ہیں۔ ان
کے کلام کے جسم میں جو حرکتِ عزیزی موجود ہے، وہ بڑی
توانا ہے۔میں نے مندرجہ بالاسطور میں جو بیان کیا ہے۔ اس کی
شہادت ان کے مندرجہ ذیل اشعار خود ہی دینگے۔ شعری ذوق
رکھنے والوں میں اعلیٰ سخن فہم، اورسلیم الحواس قاری کو ان
کی عظمتِ شاعرانہ کے اعتراف میں اپنا سر تسلیم خم کرنا ہی
پڑے گا۔ میں فخر الدین بلے کو اپنے انتقادی تناظر میں ایک
ہنرمند اور ممتاز شاعر کے روپ میں دیکھ رہا ہوں۔ بحیثیت ایک
نقاد میری نظر میں تو سید فخر الدین بلے صاحب کی غزلیں اور
نظمیں بڑی جان دار اور سریع الاثر ہیں۔ ان کی شاعری حیات
وکائنات کی بہترین عکاسی کی حامل ہے۔ آیئے ان کے شعری
آئینہ خانے میں دیکھتے ہیں کیسے کیسے آئینے ہیں۔ کون سا
آئینہ پورا چہرہ دکھاتا ہے اور کون سا آئینہ ادھورا چہرہ پیش
کرتاہے۔ ان کے شعروں کی نرملتایعنی شفافیت اورکوملتا اور
تازگی ولطافت کس درجے پر ہے۔ شاعری آسان ہنر نہیں، بڑی
ریاضت اور مہارت کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ سب کچھ دیکھنے
کیلئے مندرجہ ذیل اشعار پیش کئے جاتے ہیں۔
کھڑا ہوں جادہء حیرت پہ آج بھی تنہا
کبھی تو کوئی مسافر ادھر سے گزرے گا
ہے فلسفوں کی گرد نگاہوں کے سامنے
ایسے میں خاک، سوچ کو رستہ دکھائی دے
دیدہ وروں کے شہر میں ہر ایک پستہ قد
پنجوں کے بل کھڑا ہے کہ اونچا دکھائی دے
سید فخرالدین بلے
مندرجہ بالا اشعار مختلف النوع خیال کے ہیں مگر ان میں شعری
حسن کہیں ماند نظر نہیں آتا۔ نہ ثقلِ بیان ہے نہ تعقیدِ لفظیِ
ومعنوی ۔ نہ غرابتلفظیات، عام فہم الفاظ کے چنائوکے ساتھ
خیالات کی شعری صورت گری کی گئی ہے۔بہ لحاظفکروخیال
اور بہ اعتبارِ اسلوبِ بیان قاری کو مایوس نہیں کرتے۔اسی تناظر
میں اور اشعار سے بھی احتظاظ واستلذاذِ ذہنی وقلبی حاصل
کیجئے اور اپنے ذوق شعری کی کسوٹی پر کسیے ۔
آگ پانی میں ہے کیا فرق کہ ہم سب کے بدن
کبھی بارش میں، کبھی دھوپ میں نم ہوتے ہیں
میں تو لے آیا ہوں ایمان فرشتوں پہ،مگر
ان کا کیا ہوگا بھلا مجھ سے جو کم بھولے ہیں
انا کا علم ضروری ہے بندگی کے لئے
خود آگہی کی ضرورت ہے بے خودی کے لئے
سیدفخر الدین بلے صاحب تصوف کے بڑے عالم تھے۔
فلسفہءتصوف پر جس انداز سے وہ سمجھتے اور سمجھاتے،
بڑے بڑے صوفیا ءاس کے قائل تھے۔ پیر آف ہالہ شریف مخدوم
طالب المولیٰ، مخدوم سجاد حسین قریشی، ڈاکٹر برہان الدین
فاروقی، اور پیر حسام الدین راشدی ان کے گہرے علمتصوف
کے دل سے قائل رہے۔ خواجہ سید نصیر الدین نصیرگولڑوی
بھی ان کے علم وتصوف کی تعریف کرتے تھے۔ مشہور
مستشرقہ اپنی میری شمل صاحبہ بھی علم تصوف پر ان کی
دسترس کی قائل تھیں اورانہیں اتھارٹی کہتی تھیں۔ مشہور دانش
ور اور ڈرامہ نگار جناب اشفاق احمد تصوف ومعرفت میں انہیں
مستندکہتے تھے۔
بھارتی ادیبوں سےمل کر پتاچلامیں سید فخرلدینبلے کوجانتاہی
نہیں تھا ،ڈاکٹر آغاسہیل
اورینٹل کالج لاہور کے پروفیسر اور معروف ادبی شخصیت
ڈاکٹر آغا سہیل فرماتے تھےکہ پہلے میراخیال تھامیں ہی سید
فخرالدین بلےصاحب کواچھی طرح جانتا اور پہچانتاہوں لیکن رام
لعل جی، ڈاکٹرقمررئیس، گوپی چند نارنگ ، جگن ناتھ آزاد،
مختار مسعود اور اخترالایمان جیسی معتبر ہستیوں نے جس
اندازمیں سید فخرالدین بلےصاحب کی شخصیت کی پرتیں
کھولیں،اس سے مجھ پر آگاہی کے کئی دروازے کھل گئے ۔
اور یہ حقیقت کھلی کہ میں تو انہیں جانتا ہی نہیں تھا۔ دور دیس
سے آنے والے ادب دوست بھی ان کے گھر بسیرا کرلیاکرتے ہیں
۔اس لئے میزبانی کی سعادت سے میں محروم رہتا۔ سچی بات یہ
ہے کہ میں خود بھی جب بلے صاحب کے گھر جاتا تو گھنٹوں
میرا اٹھنے کودل نہیں کرتا۔ ان کی ادب نوازی ، مروت و
رواداری اور وضعداری کے رنگ دنیا نے دیکھے ہیں ۔
سیدفخرالدین بَلے۔ایک تہذیبی ادارہ اورایک یونیورسٹی تھے،
ڈاکٹرعاصی کرنالی
ڈاکٹر عاصی کرنالی نےلکھاہے کہ سیدفخرالدین بلے ایک شخص
کا نام نہیں، ایک یونیورسٹی اور ایک تہذیبی ادارے کا نام تھا۔
اس شخص کے زرخیز دماغ میں ایک کمپیوٹر نصب تھا۔ جس
میں حکمتِ الٰہی نے ان گنت اور بے حدوشمار علوم فیڈ کر دئے
تھے۔جن کا ظہور حسبِ ضرورت ہوتا رہتا تھا۔ ہم ان مظاہر کو
دیکھتے اور حیرت زدہ رہ جاتے۔ وہ عالم تھے، ادیب تھے،
شاعر تھے، ناقد اور محقق تھے۔ لیکن بنیادی طور پر وہ ایک
انسان تھے۔ شریف اور مہذب، وضعدار، با مروت، مخلص، خیر
خواہ اور سراپا صداقت و محبت۔ اس لئے ان کی انسانی شخصیت
پر اوصاف و صفاتِ عالیہ کے تمام لباس خوبصورت لگتے
تھے۔انہوں نے چاہا کہ وہ ملتان کے ادب و ثقافت کی پردہ کشائی
اور چہرہ آرائی کریں۔ ان کا یہ منصوبہ جامع اور ہمہ جہت تھا۔
وہ نہ صرف اس سرزمین کی تاریخ، تہذیب و تمدن، دین و
تصوف، ادب اور آرٹ کے تمام ذخائر و خزائن کو محفوظ کرنا
چاہتے تھے بلکہ انہیں حیاتِ نو عطا کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے
اس کام کا آغاز بھی کر دیا تھا۔ لیکن ان کی جانب پرجوش انداز
میں رفاقت و اعانت کے ہاتھ نہ بڑھ سکے۔بعض لوگوں کو بد
گمانیوں نے آ گھیرا۔ یہ کہتے بھی سنا گیا کہ بلے صاحب کون
ہوتے ہیں ہمارے ادب و ثقافت میں ہاتھ ڈالنے والے۔ اندازہ ہے کہ
بلے صاحب اس حوصلہ شکنی کی فضا میں کام کو پیش رفت نہ
دے سکے۔ اس مختصر تحریر کو میں ان اشعار پر ختم کر رہا
ہوں ،جو میں نے ان کی وفات پر فخرالدین بلے ،ایک زندہ
شخصیت کے عنوان کے تحت کہے تھے۔
محبت تھا عمل، ہر گام فخرالدین بلےکا
یہ ہےاحسان اور انعام فخرالدین بلےکا
قلم سے اور زباں سے صرف تبلیغ محبت کی
دلوں کو جوڑنا تھا کام فخرالدین بلےکا
زمیں کو سب بہشتِ امن میں تبدیل کر ڈالیں
تھا دنیا بھر کو یہ پیغام فخرالدین بلےکا
وہ مر کر بھی رہینگے یاد کی صورت ہر اک دل میں
سدا زندہ رہے گا نام فخرالدین بلےکا
ہم سب سید فخرالدین بَلّے کے قرض دار ہیں،پروفیسر وفا یزدان
منش
نامور ادیبہ ، شاعرہ اور شعبہء اردو، یونیورسٹی آف تہران
کی پروفیسر وفا یزدان منش نےبلے صاحب کے بارے میں
ایک تالیف کامقدمہ بڑی عرق ریزی کے ساتھ لکھا اور اسے "ہم
سب سید فخرالدین بلے کےقرض دار ہیں " کاعنوان دیا ہے ۔
لکھتی ہیں "سید فخرالدین بلے ۔ایک آدرش، ایک انجمن" ایک
خوبصورت کتاب ،نادر تالیف اور ایک ایسی کاوش کا نتیجہ ہے
،جس میں سید فخرالدین بلے کے بارے میں بہت سی اہم معلومات
کویکجاکردیاگیا ہے۔کتاب کا یہ عنوان بلے صاحب کی ہمہ گیریت
کو زیب دیتا ہے۔روزنامہ جنگ میں جمیل الدین عالی نے اپنے
سلسلہ وار کالم ''نقارخانے میں ''بلے صاحب پر ایک یا دو نہیں،
قسط وار تین کالم لکھےاور۔"سید فخرالدین بلے ۔ایک آدرش، ایک
انجمن" کےتحت انہوں نے اپنی یادداشتوں کومرتب کردیا۔اہل ادب
اور مرتبین کو یہ عنوان اتنا پسند آیا کہ انہوں نے اپنی کتاب کو
اسی عنوان کےتحت یکجا کردیا۔ اس کتاب میں تمام مشہورِزمانہ
علمی اور ادبی شخصیات کےمضامین شامل ہیں۔بلے صاحب کو
فارسی زبان پر اتنا عبور تھاکہ اس زبان میں روانی سے گفتگو
کیا کرتے تھے۔ فارسی صرف ان کی زبان میں نہیں ،ان کی
شاعری میں بھی روانی سے جاری ہے۔وہ انوکھی فارسی تراکیب
و الفاظ جیسے رعنائی و شوخیء گلِ تر، دامنبرگ ،زندہ داران
شب، کو برتتے ہوئے اردو شاعری کو موسیقی اور بحر سے
جوڑدیتے ہیں۔ اس کتاب کے آخری صفحات میں سیدفخرالدین
بلے کی نعتیں،منقبتِ علی ،سلام بحضور امام عالی مقام کےساتھ
ساتھ بلے صاحب کی کچھ شاہکار نظمیں اور غزلیں بھی شامل
کی گئی ہیں ، جواس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ انہوں نے
تمام اصناف سخن میں طبع آزمائی کی اوراپنے عہد کے استادانِ
فن و سخن سے دادو تحسین ہی نہیں سمیٹی ،بلکہ اپنی شاعرانہ
عظمت کا لوہابھی منوایا ہے بلے صاحب نےجادہء ادب و ثقافت
پر بڑے انمٹ نقوش چھوڑے، الطاف فاطمہ
معروف و عظیم افسانہ نگاراور ناول نویس محترمہ الطاف فاطمہ
کا کہنا تھا سید فخرالدین بلے کی تخلیقی شخصیت کے اتنے
رنگ ہیں کہ انہیں یکجا کرنے کےلیے ایک بڑے کینوس کی
ضرورت ہے ۔حمد ہو یا نعت ۔ نظم ہو یا غزل ۔ منقبت ہو یا سلام
۔ ۔ نثر ہو یا شعری پیرایہ ءاظہار ۔ ادب ہو یا ثقافت ۔قوالی ہو یا
اسٹیج ۔ تحقیق ہو یا تدقیق ۔ تصنیف ہو یا تالیف انہوں نے حرف
کی حرمت اور قلم کی عصمت کاہمیشہ خیال رکھا اور جادہء ادب
و ثقافت پر بڑے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ مولائے کائنات
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی سیرت اور شخصیت پر ان کی
کتاب ”ولایت پناہ “ کا مسودہ دیکھ کر میں گھنٹوں سردُھنتی رہی
ہوں۔
ان کی ادب نواز شخصیت نےتومجھے بھی خود ساختہ گوشہ
نشینی ترک کرنے پرمجبورکردیا اورمیں متعدد بارانکی اقامت
گاہ پر ادبی تنظیم”قافلہ“کے پڑاٶمیں شریک ہوئی اورانہی
کےحکم کی تعمیل میں اپنے افسانے بھی پیش کئے ۔۔
قول ترانہ اور رنگ ، یہ کام علی کاملنگ ہی کرسکتا تھا،
ڈاکٹرثروت رضوی
ڈاکٹر ثروت رضوی ادب کا ایک معتبر نام ہے ، امیر خسرو کے
سات سو سال بعد سید فخرالدین بلے نے جو قول ترانہ اور رنگ
تخلیق کیا، اسے ایک تاریخی کارنامہ قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر
ثروت رضوی نے لکھاہے کہ بلاشبہ یہ سب کچھ اسی در کی
عطاہے ،جسے باب العلم کہاجاتاہے ۔قولرسول مقبول صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم " من کنت مولاہ فھٰذا علی مولاہ "کی تصریحی
تہذیب بتارہی ہے کہ یہ کام علی کا ملنگ ہی کرسکتاتھا اور
مودت سے سرشار سید فخرالدین بَلّے نےیہ کام کردکھایا،جوکسی
کرامت سے کم نہیں ۔بلاشبہ یہ نجف والی سرکار کی خصوصی
عطاہے ۔سید فخرالدین بَلّے نے مولائے کائنات کی سیرت و
شخصیت پر ولایت پناہ کے نام سے ایک خوبصورت تحقیقی
کتاب بھی لکھی ہے۔ بلے صاحب پر نجف اشرف کے مولا علی
کارنگ چڑھا ہوا نظر آتاہےاور جس پر یہ رنگ چڑھ جائے، اس
پر کوئی اور رنگ نہیں چڑھتا ۔
سید فخرالدین بلےجیسی زندہ ہستیوں کا ہر آنے والا زمانہ قرض
دار ہوتا ہے ۔اسکالرافتخارحیدر
کینیڈا میں کئی دہائیوں سے مقیم ممتاز پاکستانی شاعر ،ادیب،
اسکالر، محقق اور قرآن پاک کے مترجم سید افتخار حیدر نے
سید فخرالدین بلےکی ادبی خدمات پر کھلے دل کے ساتھ
اظہارتحسین کرتے ہوئے لکھاہے کہ وہ ایک قادرالکلام شاعر
تھے۔ان کا دل حُب اہل بیت اطہار سےسرشار تھا،ادبی حلقوں
میں انہیں بہت قدر و منزلت حاصل رہی اور ہے۔سید فخرالدین
بلےصاحب جیسی زندہ ہستیوں کا ہر آنے والا زمانہ قرض دار
ہوتا ہے ۔
تابش الوری نے سیدفخرالدین بَلّے ایک داستان ۔ ایک دبستان
کتاب ترتیب دےدی
نامور شاعر، ادیب اور غیر منقوط نعتیہ مجموعہ ء کلام کی
بنیاد پر غیر معمولی شہرت حاصل کرنے والی شخصیت سیدتا
بش الوری تمغہء امتیاز نےبڑے بڑے اربابعلم و ادب کے
مقالات اور نگارشات کویکجا کرکے ایک مبسوط کتاب مرتب
کی ہے، جسے سیدفخرالدین بَلّے ایک داستان ۔ ایک دبستان کانام
دیا گیاہے۔اس کتاب کامقدمہ یادیباچہ انہوں نے بڑی محبت کے
ساتھ لکھاہے ، جوان دونوں شخصیات کے ساٹھ سالہ تعلق خاطر
کی گواہی دیتانظرآتاہے۔سید تابش الوری لکھتے ہیں کچھ لوگ
بڑے پیداہوتے ہیں۔ کچھ لوگ اتفاقات سے بڑے ہوجاتے ہیں اور
کچھ لوگ اپنی محنت اور ذہانت سے بڑے بنتے ہیں۔ ان میں سے
کوئی ایک سبب ہی کسی کوبڑا بنانے کیلئے کافی ہوتاہےلیکن
جہاں تینوں اسباب کاامتزاج ہوجائے ،وہاں بڑاآدمی کس کمال
کاہوگا؟ اس کاایک عکس سید فخرالدین بَلّے کی شخصیت میں
دیکھاجاسکتاہے ۔جوایک بڑےعلمی اور تہذیبی خانوادے میں
پیداہوئے۔حسن اتفاقات نےپروان چڑھایا اور محنت و ریاضت
نے منزلتکمیل تک پہنچایا ۔سیدفخرالدین بَلّے سے میری
شناسائی چھے دہائیوں تک پھیلی ہوئی ہے ۔میں نے اس ماہتاب
کو طلوع ہوکر چودھویں کاچاند بنتے اور غروب ہوتے
دیکھاہے۔بَلّے صاحب اپنی ذات میں ایک کائنات تھے ۔ بوقلموں ۔
گوناگوں اور رنگا رنگ۔بیک وقت ایک کرشمہ ساز افسر،ایک
عظیم الشان انسان، ایک پختہ کار شاعر، ایک برق رفتار
نثار،ایک غیرجانبدار محقق ،ایک ہمہ صفت دانشور، ایک تیز
طرار صحافی ،ایک جدت طراز موسیقی نواز، اور ایک فعال
ادبی اور ثقافتی سفیر۔ قدرت نے انہیں عجب رنگ و آہنگ سے
تراشا تھا اور ان کے رگ و پے میں بجلیاں سی بھردی تھیں ۔
ہردم کچھ نہ کچھ کرنے کیلئے بے قرار۔ ہرلمحہ کوئی نیا فیصلہ
۔ نیامنصوبہ ۔ نیاراستہ ۔نئے مرحلے ۔نئے اقدام ۔ نئے چیلنج ۔نئی
فکر ، نئی مہم اور نئی منزل۔ایک چکر ہے مِرے پاءوں میں
زنجیرنہیں۔
اس کتاب کے تازہ ترین ایڈیشن میں نامور صحافتی، علمی اور
ادبی شخصیت محمود شام کا حال میں میں لکھا گیا مضمون بھی
شامل کردیا گیا ہے اور انہوں نے عنوان ہی یہ رکھاہے ۔سید
فخرالدین بلے ۔ بلے بھئی بلے ۔ ملاحظہ فرمائیے ،محمود شام کی
خوبصورت تحریر
سید فخر الدین بلّے. بلّےبھئی بلّے۔ تحریر: محمود شام
روشی کا سفر علی گڑھ سے شروع ہوا تھا۔
منزل نصیب ہوئی مدینة الاولیا ملتان میں۔
میں نے اپنی تیز رفتار جوانی میں۔ طلوع اور غروب ہوتی
جمہوریت کے دنوں میں ادبی اور سیاسی محفلوں میں یہ نام
بہت سنا تھا۔ بلّے صاحب۔ سید فخر الدین بلّے۔ عالی جی بہت
ذکر کرتے تھے۔ حنیف رامے سے بھی بہت حوالے سنے۔
لاہور کے ایڈیٹرز۔ صحافی۔ شاعر بھی بلّے بلّے کرتے
تھے۔ آج نصف صدی بعد عالمگیر وبا کے دَور میں جب
تنہائی ہماری ہمدم ہے۔ میں ایک گہرے تاسف میں ہوں۔
میرے سارے بزرگ۔ ہم عصر ۔ سید فخر الدین بلّے کی
تخلیقی۔ تحقیقی ۔ تصدیقی صلاحیتوں اور قربتوں کا ذکر
کررہے ہیں۔ میں اپنی یادوں کے ہجوم میں اس مشفق۔
مونس۔ محترم چہرے کی تلاش میں ہوں۔ ماہ و سال تیزی
سے بن برسے بادلوں کی طرح گزر رہے ہیں۔ وہ چہرہ وہ
منزل نظر نہیں آرہی ۔ ہر سمت دُھند پھیلی ہوئی ہے۔ غبار
اُڑ رہا ہے۔ چھٹنے ہی نہیں پاتا۔ دھواں ہی دھواں ہے۔
ہے آب آب موج بپھرنے کے باوجود
دنیا سمٹ رہی ہے بکھرنے کے باوجود
راہ فنا پہ لوگ سدا گامزن رہے
ہر ہر نفس پہ موت سے ڈرنے کے باوجود
میں سیاستدانوں کی بھیڑ میں کھویا رہا۔ قیمتی لمحے
تاریکیوں میں ڈوبتے رہے۔ اہلِ علم۔ صاحبان دانش کی
صحبتوں سے محروم رہا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خود بھی جنگلوں۔
جھاڑیوں میں بھٹکتا رہا۔ پھول فخر الدین بلّے صاحب کی
محفلوں میں کھلتے رہے۔ حکمت کی مے لاہور۔ ملتان اور
بہاولپور میں بٹتی رہی۔
ظفر معین بلّے کا شکر گزار ہوں کہ کووڈ کے اندھیروں
میں انہوں نے میرا ہاتھ تھاما ہے۔ دوسرے ہاتھ میں" سید
فخر الدین بلّے ۔ ایک آدرش ایک انجمن" تھمائی ہے۔ تو 70
اور 80 کی دہائیاں کہکشاں بن کر میرے سامنے سج رہی
ہیں۔
آل احمد سرور میری رہنمائی کررہے ہیں۔ ’فخر الدین بلّے
نے دانشوری اور پُر سوز عقلیت کی جو شمعیں جلائیں ، ان
کی روشنی سرحد پار بھی پہنچی ہے۔‘
بر حق۔ برملا۔ علم کی روشنی۔ دانش کی خوشبو کو سرحدیں
نہیں روک پاتیں۔ خار دار باڑ بھی احساس اور ادراک کی
راہ مسدود نہیں کرسکتی۔پروفیسر منظر ایوبی اپنے
مخصوص گھن گرج والے لہجے میں نور میرٹھی کے
حوالے سے مجھے بتارہے ہیں۔
"عمر کے ابتدائی اور تعلیمی ادوار میں مولانا ابوالکلام آزاد۔
ڈاکٹر ذاکر حسین۔ مولانا حسرت موہانی۔ مولوی عبدالحق ۔
رشید احمد صدیقی۔ جگر مراد آبادی۔ تلوک چند محروم۔
علامہ نیاز فتح پوری۔ سیماب اکبر آبادی۔ سر شاہنوار بھٹو
اور مولانا عبدالستار نیازی جیسے اکابرین کی محبتیں
حاصل رہیں۔ ہم عصر صاحبان علم میں احمد ندیم قاسمی ۔
سعادت حسن منٹو۔ فیض احمد فیض۔ میرزا ادیب۔ ڈاکٹر سید
عبداللہ۔ احسان دانش۔ قدرت اللہ شہاب۔ صہبا لکھنوی۔ ڈاکٹر
وحید قریشی۔ جگن ناتھ آزاد۔ صادقین۔ حفیظ جالندھری۔
مشکور حسین یاد سے خصوصی مراسم رہے۔"
اللہ اللہ ۔ کیسی کیسی با کمال ہستیوں۔ ایک ایک اپنی جگہ
مکتبِ خرد۔ جسے یہ صحبتیں حاصل رہی ہوں۔ اس کا ذہن
کتنا تاباں۔ فکر کتنی درخشاں ہوگی۔
میرے جھنگ کے خوبرو عاشق اُردو خواجہ محمد زکریا
افسوس کررہے ہیں کہ مجھے بلّے صاحب سے صحبت
نہیںرہی۔ وہ تو خوش قسمت ہیں کہ فخر الدین بلّے صاحب
کے کوارٹر کے عین سامنے سکونت پذیر رہے۔ ان کو یہ
افتخار حاصل رہا کہ بلّے صاحب کی رہائش گاہ پر ہونے
والی غیر رسمی محفلوں میں شریک ہوتے رہے۔ جہاں
سوال جواب ہوتے۔ بذلہ سنجی اور ذکاوت کے مظاہرے
بھی۔ بلّے صاحب تحمل کا پیکر تھے۔ ان کے بچوں نے بھی
باپ ہی کے مزاج پر خود کو ڈھال رکھا تھا۔ ظفر معین بلّے
اکثر میرے ہاں تشریف لاتے رہتے تھے۔ بڑے شائستہ اور
منکسر المزاج نوجوان تھے۔ معلوم نہیں آج کل کہاں ہیں۔؟
میں بزم خیال میں خواجہ صاحب کو بتارہا ہوں کہ ظفر
معین بلّے شہر قائد میں ہیں۔ بحیرہ عرب کے کنارے۔ مجھے
یہ فخر حاصل ہے کہ وہ میرے حلقہ ءاطراف میں ہیں۔ بہت
مہربان ہیں۔ شام اطراف میں شریک ہوتے ہیں۔ شعرو ادب
کی محفلوں کی جان ہیں۔ ہمیں ان میں بھی فخر الدین بلّے
صاحب کی شفقت۔ انس ۔تبحّر۔ مزاج شناسی دکھائی دیتی ہے۔
بابائے اُردو مولوی عبد الحق جب یہ کہہ رہے ہوں کہ سید
فخر الدین بلّے کی نظم ہو یا نثر، اس میں کوئی نقص نکالنا
محال ہے۔
فراق گورکھپوری کی آواز سنئے۔"سید فخر الدین بلّے
رنگوں کی بجائے الفاظ سے تصویریں بنانے کا ہُنر جانتے
ہیں۔"
ڈاکٹر وزیر آغا سے ہماری قربت رہی ہے۔ جھنگ شہر سے
سرگودھا ان کی 58 ۔سول ایئر لائنز والی کوٹھی پر حاضر
ہوتا رہا ہوں۔ سرگودھا ہمارا ننھیال بھی ہے۔ سسرال بھی۔
ڈاکٹر وزیر آغا خصوصی شفقت فرماتے تھے۔ نظم گوئی
اور انشائیے کی طرف ہمیں رغبت دلاتے رہے۔ وہ کہہ
رہے ہیں۔
"تصوف کے موضوع پر ان کی نظر اتنی گہری ہے کہ آپ
بلا تکلف انہیں اس سلسلے میں ایک اہم اتھارٹی قرار دے
سکتے ہیں۔"
میرزا ادیب اُردو کہانی میں ایک بالکل منفرد آواز۔ ان سے
ہماری نیاز مندی رہی ہے۔
کہتے ہیں۔" ہر ملاقات میں ان کی شخصیت کا ایک نیا رُخ
سامنے آیا۔ میں اس کثیر الجہت شخصیت کو پورے اعتماد
کے ساتھ علم و ادب کی آبرو۔ قرار دے سکتا ہوں۔"
جمیل الدین عالی جو خود ایک ہمہ جہت انسان تھے۔ ’انسان‘
پر ان کی طویل نظم ایک شاہکار ہے۔ ’جنگ‘ میں ان کے
کالم کئی عشروں تک ذہن و دل کو ولولہ ءتازہ دیتے رہے۔
وہ بات ہی یہاں سے شروع کررہے ہیں۔" سید فخر الدین بلّے
ایک شخصیت نہیں بلکہ ایک ادارے۔ ایک تنظیم۔ ایک انجمن
اور ایک جہان کا نام ہے۔ وہ ایک گھنا اور سایہ دار پیڑ
تھے ،جس کے سائے تلے آکر بہت سے لوگ دھوپ سے
بچے اور اس پیڑ کے پھل سے لطف اندوز ہوئے۔ اس سے
آکسیجن بھی حاصل کی۔ اور اس کی خوشبو سے مشام دل
و جاں کو معطر بھی کیا۔ انہیں اُردو ،فارسی۔ انگریزی اور
ہندی زبانوں پر قدرت حاصل تھی۔"
ظفر معین بلّے صاحب۔ آپ نے مجھے اپنی عاقبت سنوارنے
کا موقع دیا۔ بلّے صاحب جیسی طرحدار مجموعہ ءاوصاف
ہستی کے بارے میں جاننے میں تعاون کیا۔ حکومتی حلقوں
میں آج کل ایسی ہمہ صفت شخصیات کہاں ملتی ہیں؟ جو
شعر و ادب کی پرورش کرتی ہوں۔ اہل علم و دانش سے
صحبت رکھنے کے لیے بے تاب ہوں۔ علم و دانش کی
روشنی پھیلانے والی محفلیں برپا کرتی ہوں۔
آج کل تو سرکاری رہائش گاہوں میں ٹھیکیداری کے مجمع
لگتے ہیں۔ ڈالروں اور درہموں کی باتیں ہوتی ہیں۔ تبادلے
تقرریاں زیر بحث آتی ہیں۔ اَن پڑھ حکمرانوں سے تعلق اور
رابطے تلاش کیے جاتے ہیں۔
سید فخر الدین بلّے میرے لیے اس وقت ایک مرشد اور
محبوب کی حیثیت اختیار کرگئے ہیں۔ میں ان کی صحبت
میں زیادہ عرصہ گزارنا چاہتا ہوں۔ ظفر معین بلّے ہی یہ
پیاس بجھانے میں میری رہنمائی کریں گے۔ ان کی شاعری
سے باضابطہ فیض حاصل کروں گا۔ ان کے مخطوطات۔
مکتوبات ۔ مضامین سےگزروں گا۔ پھر اپنے اس سفر کی
داستان اپنے قارئین اپنے سامعین کی نذر کروں گا۔
اپنی بات بلّے صاحب کے اس شعر پر ختم کروں گا کہ یہی
آج کا چلن ہے۔
ہم شب میں رند بن کے رہے ،دن میں متّقی
دنیا میں اس چلن سے بڑی آبرو رہی
سید فخر الدین بلّے۔ بلّے بھئی بلّے۔ تحریر: محمود شام
–.
سَیّد فخرالدین بَلّے ۔۔ بَلّے بَلّے۔ ایک بھرپور کتاب ۔ پاک و ہند
کی نامور ادبی شخصیات کےمضامین اور مقالات کے اقتباسات
سے













i shall like to readsome ghazals of aslam koslari.[lease publish them in near future. arman najmi\
attention nikhat naseem. I am here at cnberra. my contact no +61261018561