قسط پینسٹھ
مالک بن نسَیر نے
امام ع کے سر مبارک پر وار کیا
جس سے امام کے سر پر موجود کلاہ پارہ پارہ ہو گئی
اور امام کا سر مبارک زخمی ہو گیا
امام حسین ع نے اس کلاہ دار جبے کو اتار دیا
اور اسکی جگہ سر پر عمامہ باندھ لیا
آپ نہایت خستہ حال ہو چکے تھے
اسی دوران
شمر بن ذی الجوشن ایک گروہ کے ساتھ آپ کے سامنے آیا
وہ امام اور خیام کے درمیان حائل تھے
انہوں نے خیام کا رخ کیا تو امام نے بلند آواز میں فرمایا
اے آل ابو سفیان کے پیروکارو !
اگر تمہارے پاس دین نہیں ہے
اور تم لوگ قیامت سے خوفزدہ نہیں ہو
تو کم سے کم
اپنی دنیا میں ہی آزاد رہو
اور اپنی عربی حمیت و غیرت کی طرف لوٹ آؤ
جیسا کہ
تم اپنے آپ کو عرب گمان کرتے ہو “
شمر نے بلند آواز میں کہا
حسین کیا کہتے ہو ؟
امام نے جواب دیا
میں تمہارے ساتھ جنگ کر رہا ہوں ، مجھ سے جنگ کرو
خواتین کا کیا قصور ہے
یہ سن کر شمر نے کہا
سچ کہا ہے اور اپنے ساتھیوں کو خیام سے دور ہونے کا حکم دیا
اور کہا
حسین پر حملہ کرو
جن کوفیوں نے ہر طرف سے امام پر حملہ کیا
ان کوفیوںمیں
ابو الجنوب ،قشعم بن عمر ،صالح بن وہب ،سنان بن انس ،خولی بن یزید پیش پیش تھے
امام حسین علیہ السلام نے ایسی جنگ کی
کہ
یزیدی لشکر کوفے کی دیواروں سے ٹکراتا نظر آيا
مقابلے میں
حضرت امام حسین علیہ السلام
دیر تک یزیدیوں کو واصل جہنم کرتے رہے
پورے یزیدی لشکر میں کہرام مچ گیا
حیدر کرار کا یہ فرزند جس طرف تلوار لے کر نکلتا
یزیدی لشکر خوفزدہ بھیڑوں کی طرح آگے بھاگنے لگتا
اسی دوران
ایک بچہ چاند کی مانند دمکتے چہرے کے ساتھ خیام سے برآمد ہوا
یہ عبد اللہ بن حسن تھے
جو امام حسین علیہ السلام کے ساتھ آ کر کھڑا ہو گئے
حضرت زینب اس بچے کے پیچھے پیچھے خیام سے باہر آئیں
تو
امام نے آپ سے خطاب کیا
بہن اسے سنبھالو
لیکن عبدللہ بن حسن نے جانے سے انکار کر دیا
اور کہا
خدا کی قسم !
اپنے چچا سے ہر گز جدا نہ ہوں گا
ابجر بن کعب نے امام پر تلوار سے حملہ کیا تو بچے نے کہا
اے خبیثہ عورت کی اولاد !
کیا تو میرے چچا کو قتل کرے گا ؟
اس نے تلوار سے امام ع پر وار کیا
تو
عبد اللہ نے امام ع کو بچانے کیلئے اپنا ہاتھ سامنے کردیا
ہاتھ تن سے جدا ہو گیا اور گوشت کے سہارے لٹکنے لگا
عبد اللہ نے آواز دی
اے اماں جان!
امام نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا
فرمایا
اے جان عمو !
جو کچھ تمہارے ساتھ ہوا اس پر صبر کرو
خدا تمہیں
تمہارے بہترین باپ، رسول خدا ، علی بن ابی طالب چچا حمزہ کے ساتھ ملحق کرے
امام حسین علیہ السلام
دن کا طویل حصہ میدان کربلا میں تنہا دشمن کا مقابلہ کرتے گزرا
دشمنوں میں سے ہر کوئی
آپ کے قتل کو دوسرے شخص پر ٹالتا رہا
کوئی بھی حضرت امام حسین علیہ السلام کا قتل اپنے ذمہ نہ لینا چاہتا تھا
حضرت سیدنا امام حضرت امام حسین علیہ السلام جنگ کرتے کرتے
نہر علقمہ (فرات) پر پہنچ گئے
انہوں نے اپنے بھائی کو پکارتے ہوئے فرمایا
اے عباس ۔۔ میرے بھائی
کاش تم ہوتے اور تین دن کے پیاسے حسین (ع) کی جنگ کا منظر دیکھتے
اسی دوران سیدہ زینب علیا خیمے کے دروازے پر آئیں
فرمایا
کاش آسمان زمین پر آجائے !
عمر بن سعد سے یوں مخاطب ہوئیں
اے عمر بن سعد !
تم پر وائے ہو !
ابو عبد اللہ قتل ہو جائیں گے اور تم یونہی دیکھتے رہو گے ؟
پھر زینب سلام اللہ علیہا نے کہا
کیا تم میں کوئی مسلمان نہیں ہے ؟
کسی نے کوئی جواب نہیں دیا
اتنے میں شمر نے اپنے ساتھیوں کو آواز دی
ہلاکت ہو تم پر!
تمہاری مائیں تمہارے غم میں روئیں!
تم کس کے منتظر ہو ؟
اور جب امام علیہ السلام نہر سے پلٹے تو عصر کی نماز کا وقت ہو چکا تھا
امام ع جنگ سے رک گئے
سپاہ انکے سامنے صف باندھ کر رک گئی
امام حسین علیہ السلام کو آواز سنائي دی
“اے نفس مطمئنہ
اپنے پروردگار کی طرف پلٹ آ
اس حال میں
کہ
میں تجھ سے راضی
اور تو مجھ سے راضی ہے “۔
امام حسین علیہ السلام نے تلوار نیام میں رکھ لی اور سجدے میں جھک گئے
تیروں ، نیزوں شمشیروں کی بارش ہونے لگی
زرعہ بن شریک تمیمی نے آپ کے بائیں ہاتھ پر اور دوسرا وار گردن پر کیا
عمر بن طلحہ نے پشت سے آپ کے کاندھے پر وار کیا
سنان بن انس نخفی نے نیزے سے ایسا وار کیا
کہ
امام حسین علیہ السلام گھوڑے سے گر گئے
سنان بن انس نخفی نے خولی بن یزید اصبحی سے کہا
حسین ع کا سر تن سے جدا کرو
اس نے ارادہ کیا
لیکن اس پر لرزہ طاری ہو گیا
شمر بن ذی الجوشن نے اس سے کہا
” تمہارا برا ہو
تیرے بازو کیوں لرز رہے ہو؟
کیا انتظار کر رہے ہو؟
حسین کا کام تمام کیوں نہیں کرتے؟
امام حسین علیہ السلام نے کہا
“ کیا میرے قتل پر ایک دوسرے کو ابھارتے ہو؟
واﷲ!
میرے بعد کسی بندے کے قتل پر
اﷲ پاک اتنا ناراض نہیں ہو گا
جتنا میرے قتل پر”
یہ سن کر
شمر بن ذی الجوشن اپنے گھوڑے سے نیچے اترا
اور امام حسین علیہ السلام کے سینے پر بیٹھ گیا
امام عالی مقام نے فرمایا
“ کیا تو مجھے جانتا ہے
میں کون ہوں
شمر بولا
میں تجھے خوب اچھی طرح جانتا ہوں
کہ
تمہاری ماں فاطمہ ، باپ علی
اور
جد امجد محمد مصطفی ہیں
پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں تمہیں ضرور قتل کروں گا “
اور
امام حسین علیہ السلام کا سر تن سے جدا کر دیا
اور ۔۔ سر انور انعام پانے کی لالچ میں خولی کے حوالے کر دیا
کربلا کے چشم دید گواہ
حمید بن مسلم لکھتے ہیں
“ خدا کی قسم !
میں نے دشمنوں کے نرغے میں گھرے ہوئے شخص کو
حسین جیسا
مضبوط دل ،جرات مند اور مطمئن شخص نہیں پایا
کہ
جس
کے بیٹے، اہل بیت اور اسکے اصحاب قتل کر دئے گئے ہوں
اور ۔۔ وہ ۔۔۔
پھر بھی ایک بپھرے ہوئے بھیڑیے کی مانند
دشمن کی فوج پر
جس طرف حملہ آور ہوتا
اسی طرف
دشمن
بھیڑوں کے گلے کی مانند
اسکے آگے آگے دوڑتا ہوا نظر آتا “
جاری ہے













