اے مصحفیؔ استاد فن ریختہ گوئی

0
1450

اول تو ترے کوچے میں آنا نہیں ملتا

آؤں تو کہیں تیرا ٹھکانا نہیں ملتا

ملنا جو مرا چھوڑ دیا تو نے تو مجھ سے

خاطر سے تری سارا زمانا نہیں ملتا

آوے تو بہانے سے چلا شب مرے گھر کو

ایسا کوئی کیا تجھ کو بہانا نہیں ملتا

کیا فائدہ گر حرص کرے زر کی تو ناداں

کچھ حرص سے قاروں کا خزانا نہیں ملتا

بھولے سے بھی اس نے نہ کہا یوں مرے حق میں

کیا ہو گیا جو اب وہ دوانا نہیں ملتا

پھر بیٹھنے کا مجھ کو مزہ ہی نہیں اٹھتا

جب تک کہ ترے شانے سے شانا نہیں ملتا

اے مصحفیؔ استاد فن ریختہ گوئی

تجھ سا کوئی عالم کو میں چھانا نہیں ملتا

مصحفی غلام ہمدانی

SHARE

LEAVE A REPLY