قسط پچپن
یہ ہمشکل پیغمبر علی اکبر علیہ السلام
فرزند امام حسین علیہ السلام اور جناب ام لیلیٰ سلام اللہ علیہا
تھے
جو 11 شعبان سنہ 33 ہجری میں مدینہ منورہ میں ظہور ہوئے
آپ کا نام علی
بن حسین ع اور القاب اکبر اور ہمشکل پیغمبر
تھے
جناب علی اکبر علیہ السلام
انتہائی خوبصورت ، شیرین زبان اور پر کشش تھے
امام حسین علیہ السلام فرمایا کرتے
شہزادہ علی اکبرع
حبیب خدا صلی اللی علیہ وآلہ وسلم سے
تین قسم کی شباہتیں رکھتے تھے
خلقی، خُلقی، منطقی
شباہت خلقی یعنی قد و قامت اور صورتاً مشابہ
شباہت خُلقی یعنی اخلاق و خو میں مشابہ
شباہت منطقی یعنی گفتار میں مشابہ
ہمشکل پیغمبر شہزادہ علی اکبر علیہ السلام نے
مدینہ میں
غریبوں اور مسکینوں کے لیے ایک بہت بڑا مہمان خانہ بنا رکھا تھا
جس میں ہر روز و شب کھانا کھلانے کا انتظام کیا کرتے تھے
امام حسین علیہ السلام کو
جب بھی
اپنے نانا کی آواز سننے کا شوق ہوتا
آ پ جناب علی اکبر علیہ السلام سے کہتے
کہ
بیٹا !
اذان و اقامت کہو
اور ۔۔ پھر راز و نیاز اور عبادات و مناجات میں مشغول ہو جاتے
اسی وجہ سے
دس 10 محرم الحرام کی صبح
جناب علی اکبر علیہ السلام سے اذان دلوائی گئی
تا کہ
لہجہ رسول سن کر
شاید ان شقی القلب لوگوں کے دلوں پہ اثر ہو جائے
اسی طرح
شجاعت اور بہادری میں
شہزادہ علی اکبر ع
اپنے دادا امیر المؤمنین علی علیہ السلام سے مماثل تھے
انہیں کی طرح
جامع کمالات ، اور خصوصیات کے مالک تھے
ابو الفرج اصفہانی مغیرہ سے روایت ہے
ایک دن
معاویہ نے اپنے درباریوں سے پوچھا
تم لوگوں کے نزدیک اس خلافت کا حق دار کون ہے ؟
سب نے کہا!
ہمارے نزدیک اس منصب کے لائق صرف آپ ہیں
معاویہ نے کہا
نہیں ۔۔ بلکل اس طرح نہیں ہے
اس منصب کے
سب سے زیادہ حقدار علی بن حسین ع ہیں
جن کے
جد رسول خدا ہیں
جنہوں نے
شجاعت و دلیری بنی ہاشم سے ، سخاوت بنی امیہ سے
اور ۔۔۔۔۔ زیبائی اور فخر و حشمت ثقیف سے پائی ہے
جناب علی اکبر علیہ السلام کا سینہ
معرفت خداوندی سے پر تھا
انہوں نے
جنت کے سرداروں سے تعلیم و تربیت حاصل کی تھی
ان کا علم و ایقان اوج ثریا پر تھا
سفر کربلا میں
امام حسین علیہ السلام کی منزل قصر بنی مقاتل پر آنکھ لگ گئی
جیسے ہی آپ نیند سے بیدار ہوئے
تو
آپ نے تین بار اننا للہ واناالیہ راجعون پڑھا
جناب علی اکبر علیہ السلام نے
آپ سے
کلمہ استرجاع کی وجہ پوچھی
تو
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا
کہ
بیٹا!
میں نے خواب میں ایک گھوڑ سوار کو دیکھا ہے
جو کہہ رہا تھا
کہ
یہ قافلہ موت کی جانب رواں دواں ہے
جناب علی اکبر علیہ السلام نے پوچھا
بابا کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟
آپ نے فرمایا
کیوں نہیں ۔۔۔ ہم حق پر ہیں
تو
شہزادے نے فرمایا
پھر ہمیں موت کی کیا پرواہ ہے؟
وہی شہزادہ
دلبند حسین ع
جناب علی اکبر علیہ السلام
جنہیں
شجاعت اپنے دادا مولا علی مر تضیٰ علیہ السلام شیر خدا سے ورثے میں ملی تھی
گھوڑے پر سوار ۔۔تلوار کھینچے ۔۔۔۔ میدان کربلا کی طرف جا رہے تھے
شہزدہ علی اکبر ع کی آواز گونج رہی تھی
“ میں علی، حسین بن علی کا بیٹا ہوں
خدا کی قسم
ہم پیغمبر اسلام کے سب سے زیادہ نزدیک ہیں
نیزوں سے تمہارے اوپر اس قدر وار کروں گا
کہ ۔۔۔۔نیزے ٹیڑھے ہو جائیں
اور ۔۔۔اس قدر
تلوار سے تمہاری گردنیں ماروں گا
کہ ۔۔۔ کند ہو جائے
تا کہ
اپنے بابا کا دفاع کر سکوں
ایسی تلوار چلاوں گا جیسی بنی ہاشم اور عرب کا جوان چلاتا ہے
خدا کی قسم
اے ناپاک کے بیٹو
تم
ہم پر حکومت نہیں کر سکتے “
آپ جس طرف رخ فرماتے
لو گوں کو خاک و ہلاکت میں ملاتے جاتے تھے
آپ نے اسقدر شجاعت علوی کا مظاہرہ کیا
کہ
مقتولین کی کثرت پر
لوگ گریہ و شیون کرنے لگے
شہزادہ علی اکبر نے پیاس کی شدت کے باوجود
ایک سو بیس افراد کو تہ تیغ کیا
پہلے حملے بعد
جناب علی اکبر واپس خیام حسینی میں آئے
اور امام حسین علیہ السلام سے عرض کی
بابا !
پیاس سے دم گھٹ رہا ہے
امام عالی مقام نے
اپنی زبان
علی اکبر ع کے پیاسے دہن پر رکھ دی
علی اکبر ع بولے
بابا !
آپ کی زبان تو مجھ سے بھی زیادہ کانٹے دار ہو رہی ہے
اس پر امام حسین علیہ السلام نے
اپنی انگوٹھی علی اکبر کی زبان پر رکھی
شہزادہ علی اکبر علیہ السلام
اپنے بابا امام حسین علیہ السلام سے
گلے ملے اور دوبارہ میدان میں اترے
جاری ہے













