آنس معین,آنے والی صد ی کا توانا شاعر،ہیرا نندسوز

0
661

آنس معین — آنے والی صد ی کا توانا شاعر
تحریر: ہیرا نند سوز
ہریانہ بھارت

یہ میری کم نصیبی ہے کہ مجھے آنس معین سے بالمشافہ ملاقات کا شر ف حا صل نہ ہو سکا ۔ وہ اتنی جلد ی سب سے روٹھ کر چلا جا ئے گا ۔ایسا کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔ اس کی پہلی غزل ہی اس کی شنا خت بن کر میرے سا منے آئی ۔

وہ میرے حال پہ رویا بھی، مسکر ایا بھی
عجیب شخص ہے اپنا بھی ہے ،پرایا بھی

اس کی یہ غزل پڑھ کر مجھے شد ت سے احسا س ہوا تھا کہ عصری حسیت کے اس نو جوان شا عر نے اپنی شمع ِ فکر اپنے خونِ جگر سے روشن کر رکھی ہے اور اپنی ذات کے کر ب کولفظوں میں ڈھا ل کر اپنے نو ک ِقلم سے اسے سطح ِ قر طا س پر بکھیر تا ہے ۔مجھے اس کی طبیعت میں حزن، ما یو سی ۔محر ومی ۔ما ند گی اور عد م تحفظ کے احسا س کے سا ئے بہت گہر ے لگے ۔ اس کی بعد کی تخلیقا ت نے بھی جو میری نظر سے گذریں ،میرے اس یقین پر صا د کیا کہ آنس معین زمین۔ذات اورکا ئنات کا شا عر ہے اور اس نے اس تثلیت کو اپنے جسم و جا ن میں پو ری طر ح جذب کر کے اور جزو ِ بد ن بنا کر فکر ی سطح پر ابھا را ہے ۔

ہے میرے اند ر بسی ہو ئی ایک اور دنیا
مگرکبھی تم نے اتنا لمبا سفر کیا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔O۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ آندھیا ں بھی اپنی معا و ن سفر میں تھیں
تھک کرپڑاٶ ئوڈا لا تو خیمے اکھڑ گئے

مجھے آنس معین کے اند ر ایک ایسا جوالا مکھی سلگتا ہوا دکھائی دےرہا ہے۔ جس میں روشنی بھی ہے اور تپش بھی۔ا سکے فکر ی رویوں میں ایک طر ف اگر جذبو ں کی بر قِ خا طف ہے تو دوسر ی طر ف خوف وخدشا ت کی اند ھی اور تا ریک غاریں ہیں ، جن میں جھا نکنے سے ڈر لگتا ہے ۔ وہ اپنی ذات کے اندر بہت گہرا اتر گیا ۔لگتا ہے جہا ں سے چاروں طرف ویر انوں کے منظر دکھا ئی دیتے ہیں اور با ہر کھلنے والی کھڑکی بند نظر آتی ہے ۔

اند ر کی دنےا سے ربط بڑھاٶ آنس
با ہر کھلنے والی کھڑ کی بند پڑ ی ہے

شا ید اسی لئے اس کی شا عر ی میں مہیب گنبدوں کی صدا ئے با زگشت سنا ئی دیتی ہے اور ہمارے با طن کے نہا ں خا نو ں میں اتر جا تی ہے

گو نجتا ہے بد ن میں سنا ٹا
کو ئی خا لی مکا ن ہو جیسے

آنس کی شا عر ی میں جہا ں ذات کی پر اسر اریت کا عر فا ن ہے، وہاں دل گر فتگی کی بھی بھر پو ر عکا سی ہے اور ذاتی زند گی میں پا یا جا نے والا انجا نا خو ف بھی اس کی شا عر ی پر چھا یا ہوا لگتا ہے ۔ اپنے غموں،محر ومیوں، بے چا رگیوں ۔اداسیو ں اور تنہا ئیو ں کو غزل کا مو ثر لہجہ عطا کر کے اس نے اولین مراحل میں ہی اہل ِادب کو اپنی طر ف متو جہ کر لیا تھا ۔ وہ اپنی عمر سے کہیں زیا دہ عمر رسید ہ ۔ تجر بے سے کہیں زیا دہ تجر بہ کا راور قد وقا مت والا نظر آتا ہے ۔وہ آنے والی صد ی کا شا عر ہے، جو شعر و سخن میں نیا ر نگ و آہنگ لے کر آیا اور پا ئید ار نقش چھوڑ گیا ۔

آنس معین کے کلا م سے یہ بھی ظا ہر ہو تا ہے کہ اس نے اند ر کی دنیا میں اتر جا نے کے با وجو د با ہر کی دنیا کوبھی بغو ردیکھا ہے اور مختلف خا رجی عوامل کو شعر ی تو انا ئی کے طو ر پر بر تا ہے ۔

سب لو گ سوالی ہیں ،سبھی جسم بر ہنہ
اور پا س ہے بس ایک رِدا دیں تو کسے دیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔O۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سچ کہنے کا حو صلہ تم نے چھین لیا ہے ورنہ
شہر میں پھیلی ویر انی کو سب ویرا نی کہتے

سو چ رہے ہو سو چو لیکن بو ل نہ پڑ نا
دیکھ رہے ہو شہر میں کیسا سنا ٹا ہے؟

آنس کی شا عر ی میں عر فا نِ ذات کی جلو ہ گر ی تو ملتی ہے مگر وہ اند ر اور با ہر کے تضا دات کی زد میں آیا ہوا بھی لگتا ہے اور اپنی مدا فعت کے لئے کو شاں بھی نظر آتا ہے ۔

کبھی میں سو رج کو دوں صدا تیر گی کے ڈر سے
کبھی یہ سو چوں کہ بر ف کا ہے مکا ن اپنا

آنس کا شعر ی سفر دراصل تلا ش و جستجو کا سفر ہے ۔ کبھی نہ ختم ہو نے والا لمبا سفر ۔

بیا ض بھر بھی گئی اور پھر بھی سا دہ ہے
تمہا رے نا م کو لکھا بھی اور مٹا یا بھی

بھر ی ہو ئی بیا ض کا سا دہ لگنا آنس معین کی جستجو ئے مسلسل کا غما ز ہے۔ وہ جتنا آگے بڑھا ہے اسے اتنا ہی وسعتوں کی لا متناہیت کا احسا س ہوا ہے۔ وہ خو د اپنی ذات میں بھی ایک بحر ِ بےکراں تھا۔ اند ر سے پر سکون ۔ شا نت اور با ہر سے متلاطم ۔یہ شعر آنس کی اس شنا خت کا مظہر ہے۔

حیر ت سے جو یو ں میری طر ف دیکھ رہے ہو
لگتا ہے کبھی تم نے سمند ر نہیں دیکھا ؟

آنس معی ن کا بیشتر کلا م ان کی ذات کا الم نا مہ ہے ۔جس کا کر ب قا ری کے دل میں منتقل ہو جا تا ہے اور اسے بھی مسلسل کر ب میں مبتلا کردیتا ہے ۔ اس کی شا عری میں شگفتگی ‘یاسیت اور اضمحلا ل کی تہیں جمی نظر آتی ہیں ۔ غم اس کے رگ و پے میں اترا ہو ا لگتا ہے ۔ اس نے زند گی کو ٹکڑے ٹکڑے ہوتے دیکھا ہے اور جب کرب نا قا بلِ بر داشت ہو گیا تو اس نے اس کر ب کومجسم کر کے اشعا ر میں ڈھا ل دیا ہے ۔
عجب اند از سے یہ گھر گر ا ہے
مِرا ملبہ مِرے اوپر گر ا ہے
اس کے بعض اشعا ر میں فر شتہ ءاجل کے قدمو ں کی چا پ سنا ئی دیتی ہے ۔

انجا م کو پہنچوں گا میں انجا م سے پہلے
خود میری کہا نی بھی سنا ئے گا کو ئی اور
۔۔۔۔۔O۔۔۔۔۔
رہتا ہو ں جس زمیں پہ وہی اوڑھ لو ں گا میں
جا ئے اما ں اک اور بھی ہو تی ہے گھر کے بعد
۔۔۔۔۔O۔۔۔۔۔
وسعتِ دریا میں گم ہو جاٶں گا
ایک بچے کی طر ح سو جاٶں گا

مند رجہ با لا اشعا ر سے صا ف ظا ہرہو تا ہے کہ اسے دروازے پر مو ت کی دستک سنا ئی دے رہی تھی ۔ اس نے اسے زیا دہ انتظا ر کی زحمت نہیں دی اور خو د ہی دروازہ کھول دیا ۔

آنس معین — آنے والی صد ی کا توانا شاعرتحریر: ہیرا نند سوزہریانہ بھارت

SHARE

LEAVE A REPLY