ریاض دنیا کے مہنگے شہروں میں شامل

0
53

دنیا بھر میں رہنے کے حساب سے مہنگے ترین شہروں کی بات کی جائے تو زیورخ کا شمار اول نمبر پر ہوتا ہے لیکن اسلامی ملک سعودی عرب کی بات جائے تو یہاں کا دارالحکومت ریاض بھی مہنگے ترین شہروں کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے۔

سعودی گیزٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق عالمی مالیاتی سروس فراہم کرنے والی کمپنی یو بی ایس کی جانب سے ایک سروے میں بتایا گیا کہ ریاض میں رہنے والے لوگ اگر تقریباً 25 منٹ کام کریں تو وہ ایک بگ میک برگر خریدنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔

اسی طرح اگر 130 گھنٹے 20 منٹ ( تقریباً 6 دن ) کام کریں تو حاصل آمدنی ایک آئی فون X) 10) خریدنے کے لیے کافی ہے، اس کے علاوہ مردوں کے سیلون میں بال کٹوانے کا معاوضہ دینے کے لیے تقریباً 53 منٹ کام کرنا کافی ہے جبکہ بیوٹی پارلر میں خواتین کے بال کٹوانے کے لیے انہیں 161 منٹ کام کرنا پڑے گا۔

یو بی ایس کی جانب سے دنیا بھر کے 77 شہروں میں قیمتوں اور آمدنی کا جائزہ لیا گیا، اس تحقیق کے دوران اس چیز کو دیکھا گیا کہ لوگ کس طرح کماتے ہیں، ان کی خریداری کا اوسطاً خرچ کتنا ہے اور ان دونوں چیزوں کا قوت خرید سے موازنہ کیا گیا۔

اس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کے سعودی دارالحکومت ریاض روز مرہ زندگی کے اخراجات کے حوالے سے 60 ویں پوزیشن پر ہے جبکہ ریاض میں قیمتوں کے انڈیکس کی سطح، کام کرنے کا دورانیہ اور قوت خرید اعلیٰ درجوں پر ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ریاض میں 60 لاکھ سے زائد لوگ آباد ہیں، جن میں سے 35 فیصد سعودی نہیں ہیں اور یہ سعودی عرب کا سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے، جس کی عالمی سطح پر قیمتوں کے انڈیکس کی سطح 60 ویں درجے پر ہے، اسی طرح آمدنی کی سطح 39 ویں جبکہ قوت خرید میں 24 ویں نمبر پر موجود ہے۔

یو بی ایس کی جانب سے اپنے سروے میں 128 اشیاء اور سروسز، 77 شہروں میں 15 پیشوں کی آمدنی کے 75 ہزار ڈیٹا پوائنٹس اکھٹے کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق سوئٹزرلینڈ کا شہر زیورخ دنیا میں رہنے کے حساب سے سب سے مہنگا شہر رہا جبکہ قائرہ سستا ترین شہر شمار کیا گیا، اسی طرح مجموعی آمدنی میں جینیوا سب سے زیادہ رہا جبکہ نئی دہلی، ممبئی قائرہ سب سے کم درجے پر رہے۔

اسی طرح لوگوں کی قوت خرید میں لاس اینجلس سب سے اوپر رہا جبکہ لاگوس آخری درجے پر رہا۔

تاہم اگر کینیا کے شہر نیروبی کی بات کی جائے تو وہاں 577 گھنٹے کام کرنے کے بعد ایک نیا ایپل فون خریدا جاسکتا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY