بِلال میرا وہ مولا نَجف میں رہتا ہے

0
1115

دَیارِ عِشق کا آقا نَجف میں رہتا ہے
مرے حَضور کا پیارا نَجف میں رہتا ہے

سَلام کے لئے دُنیا نہ کیوں نَجف آئے
اِمامِ عَصر کا دادا نَجف میں رہتا ہے

جو شاہ ِ کَرب و بَلا ہے شہادتوں کا اَمین
اُسی حُسین کا بابا نَجف میں رہتا ہے

نَبی کے عِلم کا جِس سے چَراغ روشن ہے
وہ شمَع دِیں کا اُجالا نَجف میں رہتا ہے

جِسے رَسول نے خیبر میں خود نَوازا عَلم
وہ دست_ خالق_ یکتا نجف میں رہتا ہے

سَند سے جِس کی وِلایت مِلی ہے وَلیوں کو
وہ ہر ولی کا وَسیلہ نَجف میں رہتا ہے

ہے فَرض جِس کی محبت ہر ایک مومن پر
بِلال میرا وہ مولا نَجف میں رہتا ہے

بلال رشید

SHARE

LEAVE A REPLY