غیرمعمولی طور پر مسئلہ افغانستان کے سلسلے میں کسی بات پر اتفاق ظاہر کرتے ہوئے پاکستان اور امریکا نے افغان امن عمل میں طالبان کی شمولیت کی ضرورت پر زور دیا۔

تاہم امریکا کی جانب سے پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا مبینہ الزام دونوں ممالک کے دہائیوں پرانے تعلقات میں مسائل کی وجہ ہے۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان ہیتھر نوریٹ نے سیکریٹری اسٹیٹ ریکس ٹلرسن کے نظریات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسی بات جو سیکریٹری اسٹیٹ بہت زیادہ محسوس کرتے ہیں، وہ یہ ہے کہ ہمیں ایک واضح نقطہ تک پہنچنا چاہیے، جس کے لیے طالبان کے کچھ اراکین کو ساتھ بٹھا کر بات چیت کرنی ہوگی۔

اس حوالے سے امریکا میں پاکستان کے سفیر اعزاز احمد چوہدری نے واشنگٹن کے انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز میں خطاب کرتے ہوئے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، افغانستان میں باہمی سیاسی مفاہمتی عمل کی حمایت جاری رکھے گا اور یہی خطے میں پائیدار امن حاصل کرنے کا واحد راستہ ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جنگ سے متاثرہ افغانستان کا امن فوجی حل سے ممکن نہیں ہے۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ فوجی آپشن افغانستان کے لیے مجموعی حکمت عملی کا حصہ ہے جس میں دونوں فریقین کو ان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی کہ افغان جنگ کے اختتام کے لیے سیکیورٹی اور خارجہ پالیسی کے ماہرین نئی حکمت عملی ترتیب دینے کے لیے کام کررہے ہیں۔‘

نئی حکمت عملی کے مطابق مزید 5 ہزار امریکی فوجی افغانستان میں تعینات کیے جائیں گے جبکہ وائٹ ہاؤس کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ سفارتکاری اس سلسلے میں ایک اہم جز ہوگا۔

SHARE

LEAVE A REPLY