ایران کے صدرحسن روحانی نے امریکا کے ساتھ جاری کشیدگی کے جلو میں جوہری تنازع پر ریفرنڈم کرانے کی تجویزپیش کی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی صدرکا کہنا ہے کہ مُمکن ہے کہ عوامی ریفرنڈم جوہری تنازع پرکسی پیش رفت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ایرانی صدر کی طرف سے یہ تجویزسپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نےکہا ہے کہ ایران جوہری معاملے میں کوئی لچک نہیں دکھائے گا۔
تہران میں ذرائع ابلاغ کےنمائندوں سے بات کرتےہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 59 کے تحت ملک کو درپیش کسی بھی بحران کے حل کے لیے عوامی ریفرنڈم کرایا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فی الحال یہ ایک تجویز ہے اور اس پرعمل درآمدکی ضرورت محسوس ہوئی تو اس کا اعلان بعد میں کیا جا سکتا ہے۔اس حوالے سے ہم آئین کے اس آرٹیکل کو کب اور کیسے استعمال کریں گے اس کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔
حسن روحانی کا کہنا تھا کہ جب سنہ 2004ء میں قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری تھے توانہوںنے خامنہ ای سے جوہری قضیے پر ریفرنڈم کی تجویزپیش کی تھی۔ انہوں نے تجویزکوپسند کیا تھا۔
خیال رہے کہ ایران میں جوہری معاملےمیں پیدا ہونے والے تنازع پر ریفرنڈم کے لیے پہلے بھی تجاویز دی جاتی رہی ہیں۔ سنہ 2017ء میں حساس معاملات میں ریفرنڈم کرانے کی تجویز پیش کی گئی تھی تاہم خامنہ ای اور ان کے حامیوں کی طرف سے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا۔
گذشتہ بدھ کو ایرانی طلباء کےایک گروپ سے خطاب میں آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا تھا کہ وہ جوہری معاہدے کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتے۔انہوں نے جوہری معاہدے پر صدر حسن روحانی اور وزیرخارجہ محمدجواد ظریف پرالزام عاید کیا ہے۔













