قسط اٹھاون
جب سرکار سیّد الشہداء کے
تمام اصحاب باوفا
اپنی جانوں کا نذرانہ راہ خدامیں پیش کر چکے
اورشہزادہ علی اکبر بھی راہ خدا میں فدا ہو گئے
تو
حضرت قاسم محضر امام حسین ع میں شرفیاب ہوئے
اور عرض کی
چچا جان !
اب مجھے شہادت کی اجازت مرحمت فرمائیں
امام عالی مقام نے جواب دیا
اے قاسم!
اے میرے بھتیجے
تم تو میرے شہید بھائی حسن علیہ السلام کی نشانی ہو
تم میدان میں نہ جاؤ
میرے نور نظر
تمہارا وجود میرے دل شکستہ کی ڈھارس و سکون ہے
جناب قاسم نہایت غمگین اور افسردہ ہوئے
اور ۔۔۔ روتے ہوئےوہیں زمین پر بیٹھ گئے
اور
امام عالی مقام کے پیروں پر سر کو رکھ کر اصرار کرنے لگے
اسی اثنا میں
جناب قاسم کو یاد آیا
کہ
بابا نے وقت آخر بازو پر ایک تعویز باندھا تھا
اور فرمایا تھا
کہ
بیٹا!
جب تم پر کوئی سخت وقت آن پڑے
تو
تم ا س تعویز کو کھولنا اور اس کی عبارت کو پڑھنا
اور جو کچھ اس میں لکھا ہو اس کے مطابق عمل کرنا
چودہ سالہ جناب قاسم اٹھے اور خیمے کے اندر چلے گئے
جیسے ہی
انہوں نے تعویز کو کھولا اور تحریر کو پڑھا
ان کے والد محترم
امام حسن علیہ السلام نے لکھا ہواتھا
” میرے لاڈلے قاسم میں تمہیں وصیت کرتا ہوں
کہ
جب بھی تم اپنے چچا کو کربلا میں دشمنو ں کے نرغے میں گھراہواپاؤ
تو
ہر گز خداو رسول کے دشمنوں سے جنگ کو ترک نہ کرنا
اور اپنے چچا کے ہمرکاب رہ کر شجاعت حسنی کے جوہر دکھانا
اور اگر تیرے چچا اجازت نہ دیں تو اتنا اصرار کرنا کہ وہ راضی ہوجائیں
جناب قاسم خوشی خوشی پھر آئے
تحریر کو لاکر سر کار سیّد الشہدآء کے سپرد کیا
جیسے ہی آپ کی نظر بھائی کی تحریر پر پڑی
جناب قاسم کو گلے لگا کر بہت گریہ کیا
سیّد الشہداء جناب قاسم کو خیمے میں لےکرگئے
حضرت عباس ،عون ،اور امّ فروہ کو اپنے قریب بلایا
اور سیدہ زینب کبریٰ س سے فرمایا
بہن میرے اسلاف کے تبرکات کا صندوق لاؤ
مولا نے امام حسن کی قبا کو قاسم کے زیب تن کیا
امام مجتبیٰ کاعمامہ سر پر باندھا
اور فرمایا
اے میرے لال قاسم
کیااپنے پیروں آپ ہی موت کی طرف جارہے ہو ؟
قاسم نے جواب دیا
چچا جان کیسے نہ جاؤں ؟
آپ دشمنوں کے نرغے میں بے یارو مددگار ہیں
چچا اس بھتیجے کی جان آپ پر قربان ہو جائے
امام حسین علیہ السلام نے
جناب قاسم کے گریبان کو چاک کردیا
اور عمامے کے دونوں سروں کو قاسم کے چہرے پر ڈال دیا
اس طرح
آپ عالی مقام نے بھتیجے کو رخصت کیا
تاکہ
دشمنوں کی نظر بد سے بھی محفوظ رہیں
اور گرمی آفتاب سے بھی امان میں رہیں
میدان کربلا میں لوگوں نے
ایک ایسے نوجوان کو میدان کارزار کی طرف آتے دیکھا
جس کا پیراہن اور لباس کچھ پھٹا ہوا تھا
اور عربی نعلین پہنے ہوئے تھے
جس کابایاں تسمہ ٹوٹا ہوا تھا
اور وہ سب کو للکار کر کہہ رہا تھا
“ اگر تم مجھے نہیں جانتے
تو جان لو
کہ
میں ہوں حسن مجتبی(ع) کا بیٹا
اور فرزند ہوں سبط نبی مصطفی(ص) کا، جن کا لقب “امین” ہے
امام حسین(ع)
تمہارے درمیان
ایک گروی اسیر کے مانند
ایسے لوگوں کے درمیان
جن کو اللہ تعالی کبھی بھی جزائے خیر نہیں دے گا”
جناب قاسم نے
میدان میں پہچتے ہی بڑی شان سے جنگ کا آغاز کیا
اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے 35 افراد کو قتل کردیا
جب لشکر شام نے دیکھا
کہ
ہمارے پاس اس کا کوئی مقابل نہیں ہے
تو
انہوں نے یہ حربہ استعمال کیا
کہ
جناب قاسم پر پتھر برسانا شروع کردیے
جنگ کی اس افراتفری میں
عمر ازدی آگے بڑھا
آپ کے فرق اقدس پر ایک زوردار وار کیا
جناب قاسم نے
اپنے چچا امام حسین علیہ السلام کو مدد کے لئے پکارا
امام عالی مقام اس بازکے مانند
جو بجلی جیسا آسمان کی بلندیوں کو چھوڑ کر زمین پر آتا ہے
میدان کربلا کی طرف دوڑے اور دشمن پر حملہ آ ور ہوئے
امام عالی مقام نے شمشیر سے ایسا وار کیا
کہ
عمر ازدی کا ہاتھ کٹ کر اس کے بدن سے جدا ہوگیا
اس نے اپنے قبیلے والوں کو مدد کے لئے پکارا
ایک بار پھر
شدید جنگ کاآغاز ہوگیا
چودہ سالہ جناب قاسم کا جسم مبارک
گھوڑوں کی ٹاپوں تلے پامال ہوگیا
جب کچھ دیر کے بعد جنگ رکی
امام حسین علیہ السلام
جناب قاسم کے سرہانے پہنچے
عجیب منظر دیکھا
قاسم زمین پر ایڑیاں رگڑ رہے ہیں اور جان نکلنا چاہتی ہے
امام حسین علیہ السلام
شدت گریہ سے فرما رہے تھے
اے میرے لال قاسم!
میرے لئے بڑے دکھ کی بات ہے
کہ
تو نے مجھے مدد کے لئے پکارا اور میں وقت پر نہ آسکا ، نہ مدد کر سکا “
امام عالی مقام
جناب قاسم کو اپنے سینے سے لگاکر اٹھایا
پامالی سم اسپا کے سبب
جناب قاسم کے پیر زمین پر خط دے رہے تھے
امام حسین علیہ السلام نے
جناب قاسم کے جسد خاکی کو شہزادہ علی اکبر کے جسد اقدس برابررکھ دیا
جناب قاسم ان کے بیٹے تھے
جو امام حسین علیہ السلام کے بھی امام تھے
جنہیں دنیا نے کریم اہلیبیت ع کے نام سے یاد کیا
جنہیں رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورہ کوثر کی تفسیر قرار دیا
صد حیف
انہیں مسلمانوں نے
امام حسن ع کے بیٹے قاسم کو کربلا میں شہید کرڈالا
جن کیلئے
امام حسن ع نے فرمایا تھا
کہ
اگر میں معاویہ سے صلح نہ کرتا
تو
یہ لوگ (اہل شام)
آل محمد ع کے ہر چاہنے والے کو قتل کردیتے
کربلا میں یہی اہل شام بے نقاب ہو گئے تھے
سلام ہو آپ پر
جناب قاسم ابن حسین مجتبی
آپ نے اپنے جد کو سرخرو کیا
الا لعنة اللہ علی القوم الظالمین و سیعلم الذین ظلموا ایّ منقلب ینقلبون
جاری ہے













