( یہ قسط در حقیقت قسط اول ہی کا اگلا حصہ ہے۔جس میں صوبہ بلوچستان کے ذرائع نقل و حمل کے متعلق مختصر جائزہ لیا جا رہا تھا ۔ )
ہوائی اڈے:۔ پاکستان میں سب سے زیادہ ائر پورٹ صوبہ بلوچستان میں ہی قائم کیئے گئے ہیں جن کی تعداد تقریبا12 ہے ان میں سے تین انٹرنیشنل اور باقی علاقائی ہوائی اڈے ہیں ۔
انٹرنیشنل ائیر پورٹ: ۔ 1 ۔ کوئٹہ (قیام :1954 ) ، 2 ۔ تربت، مکران(قیام : 1970 کی دھائی ) ، 3 ۔ گوادر(قیام : 1984)
علاقائی ائیر پورٹ:۔ 4 ۔ پسنی ، 5۔ جیوانی ، 6 ۔ دالبندین ، 7 ۔ژوب ، 8۔سوئی 9 ۔ سبی
ان 3ہوائی اڈوں پر کوئی متعین پرازیں نہیں آتیں:۔ 10۔ اورماڑہ ، 11 ۔خضدار ، 12 ۔ پنجگور
بندرگاہیں:۔
پسنی کی بندرگاہ:۔ پسنی بندرگاہ (ضلع گوادر مکران )پاکستان کے صوبے بلوچستان میں پسنی شہر میں واقع ہے۔ بندرگاہ پاک بحریہ کے لیے ایک بحری اڈا ہے۔یہ بندرگاہ کراچی سے براستہ خشکی دو سو میل کے فاصلے پر ہے،۔
تاریخی تفصیلات کے مطابق 1931ء کے بعد سے یہاں بیرون ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کا آغاز ہوا۔ اس مقصد کے لیے پسنی کی بندرگاہ دوسری بندرگاہوں کے مقابلے میں زیادہ کار آمد ثابت ہوئی چنانچہ سندھ اور بلوچستان کے تاجروں نے ( جن میں اکثریت ہندوؤں کی تھی) یہاں سے تجارتی مال درآمدو برآمد کرنے کی طرف توجہ دی اور دیکھتے ہی دیکھتے ماہی گیروں کی یہ چھوٹی سی گمنام بستی وسط ایشیا میں شہرت حاصل کر گئی۔ جاپان سے ریشمی سوتی اور اونی کپڑے اور کیوبا سے چینی بڑی مقدار میں درآمد ہونے لگی اور یہاں سے خشک مچھلی اور پیش کی چٹائیاں وغیرہ ہندوستان کی بندرگاہ اور کولمبو کو برآمد کی جانے لگی۔
گوادرکی بندرگاہ:۔گوادر بندرگاہ کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ سمندر کے جس حصے پر واقع ہے وہاں کا پانی گرم ہے جو دنیا کہ بہت ہی کم بندرگاہوں کی یہ خصوصیت ہوتی ہے، گرم پانی والے سمندری حصے پر تمام سال تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کو جاری و ساری رہتے ہیں یوں تجارت اور مختلف اشیاء کو براستہ سمندر ترسیل کرنے میں کوئی مشکل نہیں ہوتی، اس کے برعکس جو بندرگاہیں ٹھنڈے پانی پر واقع ہیں ان کے ذریعے تجارت کرنا مشکل ہوتاہے بلکہ مختلف موسموں میں تو ناممکن ہوجاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بلوچستان کے سواحلِ سمندر : ۔
مکران :۔مکران کا بڑا حصہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں واقع ہے، جو 25 ہزار مربع میل اور تقریباً 6 لاکھ کی آبادی پرمشتمل ہے۔ اس کا صدر مقام کیچ ، تربت ہے۔ دیگر شہروں میں گوادر اور پنجگور شامل ہیں ۔
1:۔ کُنڈ ملیر ساحل، مکران
کنڈ ملیر بلوچستان میں واقع صحرائی ساحل ہے جو کہ ہنگول نیشنل پارک کے نزدیک واقع ہے، یہ مکران کوسٹل ہائی وے پر زیرو پوائنٹ سے 145 کلو میٹر کی دوری پر ہے، کنڈ ملیر سے اورماڑہ کا سفر انتہائی حسین ہے، اس ساحل کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین ساحلوں میں ہوتا ہے۔کنڈ ملیر کا کراچی سے فاصلہ 4 گھنٹے کا ہے۔
گوادر ، مکران کے ساحلی مقام :۔
1 ۔ سٹولہ یا کوسٹ گارڈ(پسنی ، گوادر ، مکران، بلوچستان ) اسٹولہ جزیرہ جسے مقامی لوگ ہفتلار کہتے ہیں، کا مطلب ہے سات چوٹیاں۔ اورہر چوٹی ایک دوسرے سے بالکل جڑی ہوئی ہے۔ اسٹولہ جزیرہ کے بارے میں شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں۔لیکن اس جزیرے کے سحر انگیز مناظر واقعی قابلِ دید ہیں ۔
2 ۔ جیوانی ،( گوادر ، بلوچستان)
جیوانی کا ساحل ایران کی سرحد سے 34 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے، اس علاقے میں نیوی کا اڈہ اور ایئرپورٹ بھی ہے ۔ یہاں تیمر کے جنگلات پائے جاتے ہیں۔جیوانی کو جنگ عظیم دوم میں اتحادی افواج کی جانب سے فضائی اڈے کے طور پر بھی استعمال کیا گیا تھا ۔وکٹوریہ ہٹ بھی یہیں واقع ہے ۔
3 ۔ساحلِ دران ، جیوانی (گوادر ، بلوچستان ) گوادر کا مغربی ساحل
جیوانی شہر سے 10 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک اہم سیاحتی پوائنٹ دران ساحل ہے۔تین اطراف پہاڑوں کے دامن میں واقع دران بیچ کچھوؤں کی افزائش نسل کے حوالے سے ایک اہم پوائنٹ اور محفوظ پناہ گاہ ہے۔ دران ایک سینڈی بیچ ہے. ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے ساحل میں پانچ اقسام کے میرین کچھوے پائے جاتے ہیں جن میں زیادہ تر گرین ٹرٹل Chelonia mydas ہیں۔ دران بیچ میں” بر ” کے درخت بھی پائے جاتے ہیں جنہیں مقامی لوگ کرگ کہتے ہیں۔ یہ درخت مکران کے مختلف ساحلی علاقوں میں پائے جاتے ہیں اور بعض علاقوں میں اب ختم ہو چکے ہیں.
4۔ ساحلِ پیشکان ،گوادر
5 ۔ برمباہ ( گوادر، مکران ، بلوچستان )
6 ۔ گوادر کے مشرقی ساحل (دیمی زِر)
7۔ گوادر کے مغربی ساحل (پدی زِر): ۔ پدی زِر میں کشتی سازی کی جگہ ہے۔
8 ۔ ساحلِ پسنی ،(گوادر، مکران، بلوچستان ) :پسنی، مچھلی کی بندرگاہ اور صوبہ بلوچستان کا ایک اہم شہر ہے۔
9 ۔ ساحلِ اورماڑہ، گوادر ، مکران
10 ۔کچھووں کا ساحل ، اورماڑہ، ضلع گوادر، مکران
11 ۔اورماڑہ کا مضافاتی ساحل ، ضلع گوادر، مکران
12 ۔ ہیمر ہئڈ بیچ، اورماڑہ ،گوادر ، مکران
لسبیلہ کے ساحلی مقامات :۔
ضلع لسبیلہ بلوچستان کا سب سے بڑا ضلع ہے۔ اس کے مشہور علاقوں میں حب، سونمیانی اور گڈانی شامل ہیں۔ 2005ء میں اس کی آبادی تقریباً 700000 کے لگ بھگ تھی۔ یہ گوادر اور کراچی کے درمیان واقع ہے۔ اس ضلعے کا جنوبی حصہ سمندری ساحل سے لگا ہوا ہے اور شمال میں ضلع خضدار واقع ہے۔
13۔ ساحلِ لسبیلہ (ہاشمی ساحل ) لسبیلہ :۔
14 ۔ ساحلِ سون میانی، لسبیلہ :۔ سونمیانی کا ساحل حب کے نزدیک ہے، جہاں کراچی سے 2 گھنٹے میں پہنچا جاسکتا ہے، سونمیانی کا ساحل پاکستان کا چوتھا ڈیپ سی پورٹ بھی ہے اور سیاحت کے حوالے سے کافی مشہور ہے۔
15۔ حب ساحل یا تحصیل حب ساحل ، گڈانی، لسبیلہ :۔ گڈانی کا ساحل بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں حب دریا کے قریب واقع کیپ مونزے کے نزدیک ہے، یہ کراچی سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر ہے، گڈانی کا ساحل کراچی کے ساحلوں سے کسی حد تک مماثلت رکھتا ہے مگر قدرے صاف ستھرا ہے، اس کے نزدیک دنیا کا تیسرا بڑا شپ بریکنگ یارڈ بھی ہے۔














