رب چاہتا ہے کہ انسان خوش رہے، پر سکون رہے، اور اس کا سکون اپنے وجود میں موجود تمامتر نافیں کاٹنے ہی سے ممکن ہو پاتا ہے، وہ پہلی ناف میری “میں” کی ناف ہے اور پھر اس میں سے جڑی خواہشات کی ناف، کبھی رشتوں کی شکل میں، کہیں رزق،. کہیں اختیار، کہیں شہرت اور رتبے کی شکل میں، تو کہیں وہ سب درد جو ان چوٹوں سے پہنچتے ہیں جو توقعات کے باعث، تو کہیں اپنے حق سمجھنے کی غلطی کے باعث، توکہیں کسی بھی وجہ سے زندگی کو چوٹ کی شکل میں ملتا ہے،
زندگی صرف رب سے تعلق اور اس سے پہلے خود سے تعلق کا سفر ہے اس بیچ سب رشتوں ناطوں سے انسان اپنے حصے کی سانسیں لے لیتا ہے، اپنے حصے کا رزق پا لیتا ہے اور پھر اس سے اپنی کاینات کے مطلوبہ حصے کو سجا لیتا ہے اور آگے بڑھتا چلا جاتا ہے حتی کے پھر وہ سب کے سب پل ایک بھولی بسری سی یاد کے سوا کچھ نہیں رہتے سو زندگی میں جو اہم شے ہے وہ بے نیازی کی تربییت ہے خود کو کہ سب کے لیے بہترین جو بھی انسان کر سکے وہ کرے اور توقعات نہ رکھے، اپنا ظرف بلندی سے تعمیر کرے اور خود کو مثبت رکھے ہر حال میں،
اکثر مایوسی اور منفی سوچیں شیطانی وسوسوں کے باعث وجود پہ دستک دیتی ہیں اور انسانی وجود کو زہریلا اور مایوس بنا دیتی ہیں اور جب بھی ایسی دستک محسوس ہو تو سمجھ لینا چاہییے کہ یہ شیطانی وسوسہ ہے جو مایوسی، منفی سوچ کو ہمارے وجود پہ دستک دے رہا ہے،
مایوسی کو رخصت کرنے کے لیے یقین کو کسب کرنا پڑتا ہے اور یقین کو کسب کرنے کا زریعہ علم ہے، معرفت کی گود میں ہی یقین پلتا ہے اور اخلاص جنم لیتا ہے اور اخلاص کا نتیجہ رہائی اور آزادی ہے ہر وسوسے، ہر مایوسی، ہر منفی سوچ اور عمل سے آزادی، شیطان کے منہ پہ طمانچہ ہے ایک مایوس وجود، ایک منفی وجود شیطان کا گھر بن جاتا ہے اور رحمان کی رحمت سے خود کو دور کر بیٹھتا ہے، رب سراسر محبت ہے، یقین ہے، رجا ہے اور انسان اس یقین کو اپنے وجود میں بیدار کرنے والا، اس کو کسب کرنے والا، اس کو بڑھانے والا کہ جس طرح جناب ابراہیم علیہ السلام نے رب سے کہا کہ اے رب میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ تو مردوں کو زندہ کسطرح سے کرتا ہے، تو رب نے پوچھا سے ابراہیم کیا تم اپنے رب پہ یقین نہیں رکھتے تو فرمایا، جناب ابراہیم نے کہ میں اپنے یقین میں اضافہ کرنا چاہتا ہوں،
انسان یا تو یقین کی حالت میں ہے یا شک کی حالت میں ہے اگر یقین کی حالت ہو تو شک، منفی سوچیں انسان کا گھیراو نہیں کر سکتیں کیونکہ اہل یقین جانتے ہیں کہ رب راست نکالتا ہے، مشکلات حل کرنے والا ہے اور اس کی قربت کے سفر پہ اہل یقین ہی رہ سکتے ہیں، سو اگر انسان کا وجود کسی وسوسے، کسی منفی بات کے گھیراو میں ہے کہ جہاں ہر سمت راستے بند ہیں اور ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا بھی میسر نہیں تب یقین سے استوار رہنا اور بھی اہم ہے کیونکہ انسان اپنے یقین کا امتحان دے رہا ہوتا ہے اور امتحان کے وقت امتحان لینے والا صرف دیکھ رہا ہوتا ہے، سن رہا ہوتا ہے، اور انسان کے جواب جو وہ عمل سے لکھتا ہے، فکر سے سوچتا ہے، گمان میں رکھتا ہے، اشارتا، شکوہ کے طور سے کہتا ہے یا شکر، صبر، ڈٹ جانے سے استوار کرتا ہے یہ اس کی قیمت متعین کرتے ہیں رب کے عاشق اپنے رب کی جانب سدا بہترین گمان رکھتے ہیں اور سدا پر امید رہتے ہیں کہ ہر آزمائش کے انجام پہ رب انعام کرتا ہے منحصر انسان پہ ہے کہ وہ کس انعام کا حقدار بن پاتا ہے کہ رب کی محبت کے اس کے عشق کے مراتب طے کرنے کے واسطے درد کے ان چاہے گھونٹ پی کر بھی سدا صبر، شکر اور رب سے راضی رہنا ہوتا ہے ان سب سے ابھرنے کی بعد ہی انسان رب کی جانب بڑھنے کی منزل کی سمت پہلا قدم اٹھا پاتا ہے ورنہ اپنی خواہشات اور حالات کے بنے جالوں ہی میں الجھکر خود کو گنوا دیتا ہے اور انسان کو زیب نہیں کہ وہ خود کو گنوا دے بلکہ خود کا سہارا خود بننا اور رب پہ توکل کر کے حالات کا سامنا کرنا ہی انسان کی اصل ہمت اور طاقت ہے…
رب سے محبت ہی رب کا احسان ہے انسان پہ رب کا انتخاب بن پائے انسان اس کو یہی منزل سجتی ہے اور اصلی ہنر یہی ہے کہ رب کا انتخاب بن پائے انسان یہی خوبصورتی ہے یہی طاقت ہے۔ ۔ ۔
فائزہ عباس













