اسلام اورحقوق العباد (23)۔ شمس جیلانی

0
133

ہم نے گزشتہ مضمون میں یہ کہا تھا چونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ تو بے نیاز ہے ، دراصل حقوق اللہ یا اللہ کی عبادت ذریعہ ہے لوگوں کو ایک دوسرے کے لیے قربانی دینے پر تیار کرنے کا؟ جبکہ لوگوں نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ نماز روزہ کرکے اللہ کو خوش رکھو اور انسانوں کے ساتھ ہر زیادتی چلے گی؟ جبکہ سب جانتے ہیں وہ بے نیاز ہے۔ اسے اپنے لیے عبادت کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس کے لیے فرشتہ بہت ہیں اس کا مقصد ہمیں انسان بنانا ہے۔ اور یہ بھی بتادیا کہ اگر اس میں خلوص نہ ہوا تو کرنے والے کے منہ پر تمام عبدات ماردی جا ئے گی۔ عبادت کے لیے جسم بھی وہ قبول کیا جا ئے گا جو کہ حلال مال سے پل رہا ہوگا وہ نہیں جو مالِ حرام سے پل رہا ہو؟ حدیثِ جبرائیل (ع) میں ایک بہت اچھا نماز کا گر بتا گیا ہے کہ “ سب سے بہتر نماز وہ ہے کہ اس کے سامنے کھڑا ہو نے والا یہ سمجھے کہ وہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے اور اس سے کم تر یہ ہے کہ اسے یہ احساس ہو کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔ اور دوسری حدیث میں تقویٰ کی تعریف یہ ہے کہ“ متقی وہ ہےجس کو ہر وقت خیال رہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ میرے اوپر نگراں ہے“ اگر کسی کے دل میں یہ خیال پیدا ہو جا ئے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ میرے اوپر نگراں ہے؟ تو پھر اس سے کیاکو ئی گناہ سرزد ہو سکتا ہے۔ یقیناًہر عقل مند کا جواب ایک ہی ہو گا کہ جس طرح کہ مالک کےسامنے کوئی چور ، چوری نہیں کر سکتا،اسی طرح اس کے سامنے بھی کوئی جرم کرنا تو بہت بڑی بات ہے جرم کاسوچ بھی نہیں سکتا ااس لیے کہ مومن ایمان ہے کہ وہ سوچ بھی پڑھ لیتا ہے۔ اسی لیے تمام علما ء اس بات پرمتفق ہیں کہ انسان جب گناہ کرتا ہے تو“ وہ حالت ایمان میں نہیں ہوتا“ انسانوں کے ساتھ بہتر برتا ؤ کے لیے جو کہ ہر جمعہ کوخطبہ میں آیت پڑھی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ“ اللہ تمہیں عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے“ اس میں صرف دو چیزیں ہیں ایک عدل دوسرے احسان۔ عدل تو ہر ایک ہی جانتا ہے کہ اس کے معنی کیا ہیں بس وہ ہی پورے کر دیں اللہ راضی ہو جا ئے گا؟ جبکہ احسان اردو میں کسی کی مدد کر نے کو کہتے ہیں۔ اور عربی میں اس کے معنی بہت ہی وسیع ہیں؟ یہ جس لفظ کے ساتھ لگا دیا جا ئے تو لفظ سپر لیٹو ڈگری کا حامل ہو جاتا ہے۔ جیسے حسن تحریر ، حسن تقریر حسنِ تعمیر ، حسن سیرت ، حسن صورت وغیرہ وغیر۔ مقصد یہ ہے کہ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم جو ڈیوٹی، جس حیثیت سے بھی انجام دے رہو اس میں اپنی پوری صلاحیتیں صرف کرو؟ اس کو ئی سامنے رکھے تو ڈنڈی نہیں مارسکتا ؟ ملازم ملازمت کے اوقات میں دوستوں کے کے ساتھ بیٹھ کر چائے نہیں پی سکتا ،آفس میں بیٹھ کرگپیں نہیں لڑا سکتا، رشوت سے بچوں کا پیٹ نہیں پال سکتا ؟ باپ ہے تو بیٹے کے ساتھ زیادتی نہیں کرسکتا بیٹا ہے تو باپ کے حقوق ادا کر نے میں سستی نہیں برت سکتا، بیوی ہے تو شوہر کے حقوق میں ہیر پھیر نہیں کر سکتی، نہ ہی شوہر بیوی کے حقوق میں ڈنڈی مارسکتا ہے۔ یہ ہے دین میں عبادت کا مغز ۔کیونکہ ان دو چیزوں کا خیال رکھتے ہو ئے آپ جو کام بھی کریں گے وہ عبادت میں شمار ہوگا۔ اگر حقوق العباد کو نکال دیں اور صرف عبادت کو لے لیں بغیر اس کی روح کے تو حضور (ص) کی ایک حدیث ہے کہ آسمان پر تل بھر جگہ باقی نہیں ہے جہاں کوئی نہ کو ئی فرشتہ عبادت نہ کر رہا ہو۔ اور فرشتہ ہیں بھی اتنے کہ آسمان ان کے وزن سے چر چرا رہا ہے وہ اس کی عبادت کے لیے بہت ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ ہم سے کیا چاہتا ہے؟ اس کی وضاحت ایک چھوٹی سی حدیث میں حضور (ص) نے فرمادی ہے کہ “جو اپنے لیے چاہتے ہو وہی اپنے مسلمان بھائی کے لیئے بھی چاہو“پھر ہمیں یہ بھی فرما دیا کہ تم میرے گناہ روز کرو اور توبہ کرلو تو میں معاف فرمادونگا۔ پھر بھی حشر میں گناہوں کا پہاڑ لیکر آؤ گے تو بھی میں معاف کردونگا۔ لیکن حقوالعباد میں معاف نہیں کرونگا وہ وہی کریگا جس کا تم نے حق مارا ہو گا؟ ورنہ میں اس دن تمہاری نیکیاں اس کو منتقل کردونگا اگر وہ ختم ہوگئیں تو اس کے گناہ بھی تمہارے کھاتے میں منتقل کردونگا؟ اگر کچھ بھی نہ بچا تو تمہاری جگہ جہنم ہو گی جو بد تریں جگہ ہے۔ یہ تو فرد کی بات ہے۔ اگر بیت المال میں گڑ بڑ کی ہے تو پاکستاں کے با ئیس کروڑ عوام حصہ دار ہیں؟ ایک ایک سے معاف کرانا ناممکن ہے؟ اور اس سے بھی برا حال چیزوں میں ملاوٹ کا ہے کہ پتہ نہیں کس کس نے کھائی ہر ایک کو تلاش کرکے معاف کرانا ملاوٹ کرنے کے بعد ناممکن ہے۔ اسی پر لمیٹیڈ کمپنیوں کو بھی قیاس کرلیں؟ کیا بہتر نہیں کہ ہم برائی کے قریب ہی نہ جائیں اور کیوں نہ ان لوگو ں میں شامل ہو جائیں جو بغیر حساب کے جنت میں جا ئیں گے؟

SHARE

LEAVE A REPLY