پارلیمانی جماعتوں نے بھارتی جارحیت کو خطے میں امن کیلئے خطرہ قرار دے دیا

0
318

پارلیمانی جماعتوں نے بھارتی جارحیت کو خطے میں امن کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے سرجیکل اسٹرائیک کا بھارتی دعویٰ متفقہ طور پر مسترد کردیا، پارلیمانی جماعتوں کے اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فوج، عوام، حکومت اور سیاسی جماعتوں کے مسئلہ کشمیر پر متحد ہیں، کشمیر پر اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عملدر آمد یقینی بنایا جائے۔ بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی مذمت کی گئی، سندھ طاس معاہدے کی بھارتی خلاف ورزی جنگ تصور ہوگی۔ سیاسی قیادت نے کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا اور بھارت کی بلوچستان میں ثابت شدہ مداخلت کی شدید مذمت کی۔

وزیراعظم کی زیر صدارت پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤںٕ کا اجلاس ختم ہوگیا، مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا۔ جس میں کہا گیا ہے کہ بھارتی جارحیت خطے میں امن کیلئے خطرہ ہے، فوج، عوام، حکومت، سیاسی جماعتیں مسئلہ کشمیر پر متحد ہیں، کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، بھارتی افواج نے گزشتہ 87 دنوں میں 110 کشمیریوں کو شہید کیا، بھارتی مظالم سے 700 کشمیری بینائی سے محروم ہوئے، کشمیر سے توجہ ہٹانے کی بھارتی کوششیں مسترد کرتے ہیں، کشمیریوں کے حق خودارادیت کے مطالبے کی حمایت جاری رہے گی، بھارتی مظالم انسانی حقوق کے عالمی معاہدوں کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔

اعلامیے میں بھارت کی بلوچستان میں ثابت شدہ مداخلت کی مذمت کی گئی، رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ کلبھوشن نے عدم استحکام کی بھارتی کوششوں کی تصدیق کی، بھارتی سرجیکل اسٹرائیک کا دعویٰ مسترد کرتے ہیں۔

تمام پارلیمانی سیاسی جماعتوں نے کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ساتھ ہی بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی مذمت بھی کی اور کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جنگ تصور ہوگی۔

اعلامیے کے مطابق سیاسی قیادت نے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کرنے کا مطالبہ کیا، ساتھ ہی کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے وزیراعظم قومی اتحاد پیدا کریں۔

پارلیمانی جماعتوں کے اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف، وزیر خزانہ اسحاق ڈآر، وزیر دفاع خواجہ آصف، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماﺅں سید خورشید شاہ، بلاول بھٹو زرداری، اعتزاز احسن، شیریں رحمن، قمر زمان کائرہ، حنا ربانی کھر اور فرحت اللہ بابر، پاکستان تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی اور شیریں مزاری، متحدہ قومی موومنٹ کے ڈاکٹر فاروق ستار اور خالد مقبول صدیقی، جماعت اسلامی کے سراج الحق اور صاحبزادہ طارق اللہ، جمعیت علمائے اسلام (ف) سے مولانا فضل الرحمن، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی، نیشنل پیپلز پارٹی کے غلام مرتضیٰ جتوئی، پاکستان مسلم لیگ (ق) کے کامل علی آغا، مسلم لیگ فنکشنل کے غوث بخش مہر، عوامی نیشنل پارٹی کے غلام احمد بلور اور نیشنل پارٹی کے میر حاصل بزنجو کے علاوہ انجینئر عثمان ترکئی، غازی گلاب جمال اور پروفیسر ساجد میر نے شرکت کی

SHARE

LEAVE A REPLY