دو مرتبہ چاند پر جانے والے اور دنیا کے پہلے خلائی شٹل مشن کی قیادت کرنے والے امریکی خلا نورد جان ینگ 87؍ برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔

امریکی خلائی تحقیق کے ادارے ناسا کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ آج ناسا اور دنیا ایک عظیم بانی سے محروم ہوگئی۔

ناسا کے سربراہ رابرٹ لائٹ فٹ کا کہنا تھا کہ جان ینگ وہ واحد شخص تھے جنہوں نے اپالو، جیمنائی کے مشنز اڑائے جبکہ خلائی شٹل پروگرامز کیلئے بھی زبردست خدمات فراہم کیں۔

انہوں نے ایک مرتبہ کامیابی کے ساتھ خلائی پرواز کے دوران اپنے ساتھی کیلئے تحفے کے طور پر بیف سینڈوچ اسمگل کرکے لے گئے تھے۔

جان ینگ 2004ء میں 42؍ سال کے طویل کیریئر کے بعد ریٹائر ہوگئے۔ ناسا کا کہنا ہے کہ نمونیا کی وجہ سے مسٹر ینگ کا انتقال ہوا۔

رابرٹ لائٹ فٹ کا کہنا تھا کہ جان ینگ خلائی پروگرام کے ان ابتدائی بانیان میں سے ایک تھے جنہوں نے بہادری، عزم اور شجاعت کے ساتھ قوم کو زبردست کامیابیاں دلائیں۔

سن 1930ء میں سان فرانسسکو میں پیدا ہونے والے جان ینگ نے جورجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے ایروناٹیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد امریکی بحریہ میں بطور ٹیسٹ پائلٹ خدمات انجام دیں۔

انہیں 1962ء میں بطور خلانورد ملازمت کی پیشکش ہوئی جس کے بعد وہ جیمنائی تھری مشن کے ساتھ 1965ء میں خلا میں گئے۔

یہ زمین کے مدار میں چکر لگانے کا مشن تھا جس میں انہوں نے اپنے ساتھی گوس گریسوم کیلئے بیف سینڈوچ اسمگل کیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY