یونانی قانون سازوں نے اسلامی مذہبی عدالتوں کے دائرہ کار کو محدود کرنے سے متعلق ایک قانون نیا منظور کر لیا ہے۔ وزیر اعظم الیکسس سپراس نے اس پیش رفت کو تاریخی قرار دیا ہے۔
اب یونان میں ایسی مذہبی عدالتیں صرف طلاق، بچوں کی سرپرستی اور وارثت کے معاملات میں ہی فیصلے سنا سکیں گی، جس کے لیے تمام فریقین کی رضا مندی ایک لازمی شرط ہو گی۔
یورپی یونین میں صرف یونان ہی ایک ایسا ملک ہے، جہاں مسلمانوں کی اسلامی عدالتیں کام کرتی ہیں۔ یونان میں قریب ایک لاکھ بیس ہزار مسلمان آباد ہیں۔












