چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے خود سے منسوب احمد رضا قصوری کے بیان کی تردید کردی۔
ترجمان سپریم کورٹ سے جاری بیان کے مطابق چیف جسٹس نے آل پاکستان مسلم لیگ (اے پی ایم ایل) کے رہنما احمد رضا قصوری سے کمسن بچی زینب کے قتل کے ملزم کی گرفتاری سے متعلق بات نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ ’چیف جسٹس اور احمد رضا قصوری کی ملاقات کے دوران بچی کے قتل کے بعد سوشل میڈیا پر ملزم کی گرفتاری کے حوالے سے چلنے والی باتوں پر بات ہوئی کہ کیا یہ سچ ہے یا نہیں، اس سے متعلق کچھ معلوم نہیں۔‘
ترجمان کا کہنا تھا کہ ’جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے یہ قطعاً نہیں کہا گیا کہ ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور یہ ان کے علم میں ہے۔‘
واضح رہے کہ سینئر وکیل احمد رضا قصوری نے دعویٰ کیا تھا کہ ننھی بچی زینب کے قاتل کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور اس حوالے سے چیف جسٹس آف پاکستان نے انہیں بتایا ہے کہ زینب کا قاتل کوئی قریبی رشتے دار ہے۔
ڈان نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’میں جمعرات (11 جنوری) کو چیف جسٹس کے چیمبر میں گیا اور واقعے پر از خود نوٹس لینے پر شکریہ ادا کیا تو انہوں نے مجھے یہ خوشخبری دی کہ زینب کے قاتل کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ مجھے ملزم کے نام اور رشتے سے متعلق نہیں پتہ، تاہم میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ کوئی قریبی رشتے دار ہے۔
احمد رضا قصوری نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ بچی اس شخص کا ہاتھ پکڑ کر سکون سے جارہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ سب بتانے کا مقصد یہ ہے کہ قصور میں پرتشدد واقعات روکے جاسکیں۔












