آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان امداد کی بحالی کیلئے نہیں کہے گا،امریکی امداد نہ بھی ہوتو دہشت گردی کیخلاف مخلصانہ کوششیں جاری رکھیں گے،خطے میں بڑی طاقت کے ٹکرائو کی وجہ سے پاکستان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق امریکی سنٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل جوزف سے ٹیلی فونک گفتگو میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم سمجھتی ہے کہ دہائیوںکے تعاون کے باوجود حالیہ بیانات سے دھوکا دیا گیا ۔

آئی ایس پی آر کے مطابق امریکی سنٹرل کمانڈ کے کمانڈر نے آرمی چیف سے گفتگو میں امریکی امداد سے متعلق فیصلےسے متعلق آگاہ کیا۔

جنرل جوزف کا کہناتھاکہدہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو سراہتےہیں، موجودہ صورتحال عارضی ہے ، امریکا پاکستان کے اندر کسی یکطرفہ کارروائی کا نہیں سوچ رہا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق امریکی جنرل کا مزید کہناتھاکہ افغانستان کے خلاف پاکستانی سرزمین استعمال کرنے والوں سےنمٹنے میں تعاون چاہتے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل باجوہ نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کےخلاف کوششوں کو اسٹیک ہولڈرزسے مل کر منطقی انجام تک پہنچائیں گے،افغان باشندوں کی پاکستان میں سرگرمیوں پر امریکی تحفظات سے مکمل آگاہ ہیں،ہم آپریشن ردالفساد کے ذریعے پہلے ہی کئی کارروائیاں کررہے ہیں ۔

ان کا مزید کہناتھاکہ پاکستان میں ہررنگ و نسل کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے، افغان مہاجرین کی واپسی انتہائی ضروری ہے۔

آرمی چیف نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم سمجھتی ہے کہ دہائیوں سے تعاون کے باوجودہ حالیہ بیانات سے دھوکا دیا گیا ،اسی طرح متفقہ قومی ردعمل ایسےہی جذبات کا مظہرہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف سے ایک امریکی سینیٹر نے بھی ٹیلی فون پر بات کی ۔

SHARE

LEAVE A REPLY