فلسطین کے راہنما محمود عباس نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ کہنے پر شرمندہ ہونا چاہیے کہ فلسطینیوں نے امن مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے۔

امریکی صدر کی فلسطین سے متعلق پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے عباس نے فلسطینی سنٹرل کونسل سے خطاب میں کہا کہ وہ امریکہ کو امن کے مزید ثالث کے طور پر قبول نہیں کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ “اگر معاملات ہمارے مستقبل اور ہمارے عوام سے متعلق ہوں تو ہم کسی کو بھی انکار کر سکتے ہیں اور اب ہم ٹرمپ کو انکار کر رہے ہیں۔ ہم نے انھیں بتایا دیا ہے کہ ‘صدی کا معاہدہ’ درحقیقت صدی کا طمانچہ ہے، لیکن ہم بھی جواب میں طمانچہ ماریں گے۔”

محمود عباس نے امریکی زیرقیادت امن عمل کی بجائے بین الاقوامی ثالثی میں اس عمل کو آگے بڑھانے کا مطالبہ کیا۔

صدر ٹرمپ تواتر سے مشرق وسطیٰ کے امن معاہدے کو “صدی کا معاہدہ” قرار دیتے آئے ہیں۔ لیکن ان کی انتظامیہ کی طرف سے ایک طویل عرصے سے معطل مذاکرات کو بحال کرنے کی کوشش تاحال کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔

امریکی صدر نے متنبہ کیا تھا کہ اگر فلسطین امن مذاکرات سے علیحدہ ہوتا ہے تو وہ فلسطینیوں کے لیے دی جانے والی امداد بند کر دیں گے۔

فلسطینی راہنما محمود عباس نے ٹرمپ کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ وہ ثابت کریں کہ فلسطینیوں نے امن مذاکرات سے انکار کیا تھا۔ انھوں نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری کرتے ہوئے 1993ء کے اوسلو امن معاہدے کو بھی ختم کر رہا ہے۔

ٹرمپ کی طرف سے حال ہی میں یروشلیم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے امریکی سفارتخانے وہاں منتقل کیے جانے پر بھی فلسطین سمیت بین الاقوامی برادری کی طرف سے ناراضی کا اظہار کیا جا چکا ہے۔

فلسطین مغربی کنارے اور مشرقی یروشلیم کو اپنی مسقتبل کی آزاد ریاست کا حصہ تصور کرتا، لیکن اسرائیل یروشلیم کو اپنا ابدی اور متحدہ دارالحکومت مانتا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY