ایل او سی پر فائرنگ، دونوں جانب فوجی ہلاکتیں

0
113

پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازع علاقہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر بھارتی سکیورٹی فورسز کی مبینہ بلا اشتعال فائرنگ میں چار پاکستانی فوجی ہلاک ہو گئے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے پیر کو جاری کردہ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ جوابی فائرنگ سے تین بھارتی فوجی بھی مارے گئے۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستانی فوجی لائن اف کنٹرول پر جندروٹ کوٹلی سیکٹر میں مواصلاتی لائنز کی مرمت کر رہے تھے کہ اچانک بھارتی فوج نے ان پر شدید گولہ باری شروع کر دی۔

بیان کے مطابق پاکستان کی جانب سے بھی موثر جوابی کارروائی کی گئی۔

رواں سال کے دوران لائن آف کنٹرول پر فائرنگ و گولہ باری میں ہونے والا یہ سب سے بڑا جانی نقصان ہے۔

اُدھر بھارتی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایل او سی پر جوابی کارروائی میں سات پاکستانی فوجیوں کو ہلاک اور چار کو زخمی کر دیا۔

جموں میں بھارتی فوج کے ایک ترجمان نے کہا کہ پاکستانی فوج کی ’’بلا اشتعال فائرنگ‘‘ میں ایک بھارتی فوجی کے ہلاک ہو جانے کے بعد بھارتی فوج نے حد بندی لائین کے پونچھ علاقے میں پاکستانی فوج کے خلاف جوابی کی کارروائی کی جس میں ترجمان کے بقول پاکستان کو بھاری جانی نقصان اُٹھانا پڑا۔

ترجمان نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی فوج نے نومبر 2003 میں طے پائے فائر بندی کے سمجھوتے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حد بندی لائن کے راجوری علاقے میں بھارتی فوج کی اگلی چوکیوں کو ہلکے اور درمیانی درجے کے خود کار ہتھیاروں اور مارٹر توپوں سے ہدف بنایا تھا، جس میں ایک بھارتی فوجی ہلاک ہوگیا۔

ترجمان نے کہا کہ ’’راجوری سیکٹر میں پاکستانی فوج کی بِلا اشتعال فائرنگ کے بعد ضلع پونچھ کے مینڈھر سیکٹر کے جگلوٹ علاقے میں جوابی کارروائی کی گئی جس میں سات پاکستانی فوجی ہلاک اور چار دوسرے زخمی ہوگئے۔‘‘

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق بھارت رواں برس کے پندرہ دنوں میں 71 مربتہ ورکنگ باؤنڈری اور لائن اف کنٹرول پر فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی کر چکا ہے جب کہ گزشتہ سال 1900 سے زائد مرتبہ بھارتی فورسز کی جانب سے مبینہ طور پر فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی۔

’’ایل او سی‘‘ اور ’’ورکنگ باؤنڈری‘‘ پر فائر بندی کے لیے 2003ء میں پاکستان اور بھارتی افواج کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا، تاہم اس کے باوجود اس کی خلاف ورزی کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے اور گزشتہ لگ بھگ دو سالوں میں اس میں شدت آئی ہے۔

نومبر 2017ء میں پاکستان رینجرز اور بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورسز کے اعلیٰ حکام کی ملاقات میں 2003ء کے معاہدے پر عمل درآمد کو یقین بنانے پر اتفاق کے باوجود دونوں اطراف سے ایک دوسرے پر مسلسل اس معاہدے کی خلاف ورزی اور فائرنگ میں پہل کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

دو روز قبل پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بھارتی آرمی چیف کے بیان پر رد عمل میں کہا تھا کہ بھارت ہمارا عزم آزمانا چاہتا ہے تو آزما لے، نتیجہ خود دیکھ لے گا ’’پاکستان بھارت کے کسی بھی مس ایڈونچر کا جواب دے گا۔‘‘

بھارتی آرمی چیف نے کہا تھا کہ وہ پاکستان کی جوہری صلاحیت کو ایک فریب قرار دینے کے لیے تیار ہیں۔

حد بندی لائن پر ہونے والی ان تازہ جھڑپوں کے بیچ بھارتی بّری فوج کے سربراہ جنرل بِپِن راوت نے پاکستان کے خلاف مزید سخت اقدامات اُٹھانے کی دھمکی دی ہے۔

بھارت میں 70 ویں آرمی ڈے کے موقعے پر فوجی افسروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’پاکستان بار بار فائر بندی کے سمجھوتے کی خلاف ورزی کا ارتکاب کر رہا ہے جس کا ہماری طرف سے موثر جواب دیا جارہا ہے۔ اگر ہمیں مجبور کیا جاتا ہے تو ہم دشمنوں کے خلاف اور زیادہ سخت اقدامات اُٹھائیں گے۔‘‘

جنرل راوت نے یہ الزام بھی لگایا کہ پاکستانی فوج در اندازوں کو مدد فراہم کر رہی ہے۔

اسلام آباد بھارت کی طرف سے لگائے گئے اس طرح کے الزامات کی بار ہا تردید کرچکا ہے۔

ادھر پیر ہی کو بھارتی فوج نے حدبندی لائین کے اوڑی سیکٹر میں ایک جھڑپ کے دوران چھ عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY