اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے سلسلے میں ہونے والے دھرنے کو رکوانے کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں متفرق درخواستیں دائر کردی گئیں۔

خیال رہے کہ اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 17 جنوری کو دھرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ میں دھرنے کے خلاف درخواست ایڈووکیٹ اے کے ڈوگر نے شہری غلام یاسین کی جانب سے دائر کی جس میں وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا۔

درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی حکومت کے خلاف دھرنے کا اعلان غیر آئینی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے دھرنے کا اعلان آئین کے آرٹیکل 124 اے کی خلاف ورزی ہے۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے دھرنے سے ملک میں انتشار پھیلنے کا خدشہ ہے جبکہ اس کی وجہ سے شہریوں کی زندگی بھی مفلوج ہو جائے گی۔

درخواست گزار نے لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی کہ عدالت سیاسی جماعتوں کو 17 جنوری کو دھرنا دینے سے روکنے کا حکم دے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ آل پارٹی کانفرنس کے بعد بنائی گئی کمیٹی نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ کل 17 جنوری سے ملک بھر میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت اور اسے جماعت کے عہدہ دینے کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔

یہ اعلان وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر قانون کو 7 جنوری تک استعفیٰ دینے کی ڈیڈ لائن گزر جانے کے بعد سامنے آیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY