کراچی میں سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ملیر راؤ انوار کے قافلے پر گزشتہ روز ہونے والے مبینہ حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے قبول کرنے کا دعویٰ کردیا گیا۔

ٹی ٹی پی کی جانب سے جاری پریس ریلز میں مبینہ حملہ آور کا نام ‘اسمٰعیل آفریدی’ بتایا گیا۔

واضح رہے کہ 16 جنوری کو ایس ایس پی ملیر راؤ انوار اپنے بکتر بند گاڑی میں قافلے کے ساتھ دفتر سے گھر جارہے تھے کہ سپر ہائی وے لنک روڈ پر بکتر بند سے مبینہ خودکش حملہ آور ٹکرایا اور اس کے زمین پر گرتے ہی زوردار دھماکا ہوا۔

پولیس کے مطابق دھماکے کے بعد خودکش حملہ آور کے دیگر ساتھیوں نے فائرنگ بھی کی لیکن جوابی فائرنگ سے 2 دہشت گرد مارے گئے جبکہ باقی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ حملے میں 4 پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔

ایس ایس پی ملیر رائو انوار پر مبینہ خود کش حملے کا مقدمہ حکومتی مدعیت میں درج کر لیا گیا جس میں قاتلانہ حملہ، مقابلہ، املاک کو نقصان پہنچانا، ایکسپلوزیو اور دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل ہیں۔

یاد رہے کہ 13 جنوری کو راؤ انوار نے شاہ لطیف ٹاؤن میں مبینہ پولیس مقابلے میں 4 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور محض دو دن بعد ہی ان کے قافلے پر حملے کی اطلاع سامنے آئی۔

شاہ لطیف ٹاؤن میں پولیس کی کارروائی کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ پولیس نے خفیہ اداروں کی اطلاع پر ایک گھر پر چھاپہ مارا تھا جہاں دہشت گردوں نے اہلکاروں پر فائرنگ شروع کردی اور جوابی فائرنگ میں 4 دہشت گرد مارے گئے تھے۔

حملہ آور کا تعلق کالعدم جماعت سے ہے، ایس ایس پی ملیر
ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے مقامی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان پر حملہ کرنے والوں کا تعلق کالعدم جماعت سے تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے پہلے بھی کئی مرتبہ کراچی میں متعدد افسران و اہلکاروں کو نشانہ بنایا جبکہ یہ دہشت گرد پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی کارروائیاں کر چکے ہیں۔

ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ کچھ روز پہلے خیبر پختونخوا کے علاقے لنڈی کوتل پر بھی پولیس افسر کو ہدف بنایا گیا تھا جبکہ کوئٹہ میں بھی دہشت گردوں نے صوبائی اسمبلی کے پاس فورسز کو نشانہ بنایا۔

ایس ایس پی ملیر راو انوار نے بتایا کہ شہرِ قائد میں اب بھی دہشتگردوں کا نیٹ ورک فعال ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’مجھ پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں نے زمہ داری بھی قبول کرلی، واقعے کا مقدمہ درج ہوچکا ہے اور اس میں مذید تحقیقات جاری ہے‘۔

راؤ انوار پر گزشتہ دہشت گرد حملے
خیال رہے کہ 16 جنوری کو ہونے والے حملے سے قبل 2 مئی 2015 کو بھی ایس ایس پی ملیر کے قافلے پر دستی بم سے حملہ کیا گیا تھا تاہم وہ اس میں بھی محفوظ رہے تھے، جبکہ جوابی کارروائی میں 5 حملہ آور مارے گئے تھے۔

ان پر پہلا مبینہ خود کش حملہ 2012 کو اس وقت ہوا جب وہ عدالت میں سماعت کے لیے جارہے تھے۔

بعدِازاں انہوں نے میڈیا کو بتایا تھا کہ خودکش بم حملے کرانے میں پولیس انسپکٹر اعظم محسود اور اس کے بھائی ملوث ہیں اور ان چاروں ملزمان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرایا۔

یاد رہے کہ راؤ انوار کراچی میں متعدد بار ایسے پولیس انکاؤنٹر کر چکے ہیں جن میں کئی افراد مارے گئے جبکہ ان مبینہ مقابلوں میں کسی پولیس اہلکار کو خراش تک نہیں آئی، یہی وجہ ہے کہ انہیں ‘انکاؤنٹر اسپیشلسٹ’ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY