بشام میں چینی باشندوں کے قافلے پر حملے کی تحقیقات میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سی ٹی ڈی نے حملے میں ملوث 4 دہشتگرد گرفتار کرلیے ۔
بشام میں چینی انجینئرز کے قافلے پر حملے میں کالعدم ٹی ٹی پی ملوث نکلی۔
ترجمان سی ٹی ڈی پشاور کے مطابق جے آئی ٹی نے دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے گروہ کا پردہ فاش کردیا، حملے میں ملوث چار دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا گیا جنہوں نے چینی قافلے پر حملے کا اعتراف کرلیا۔
ترجمان کا بتانا ہے کہ 26 مارچ کو چینی انجینئرز کے قافلے پر بشام کے قریب حملہ ہوا تھا جو کہ اسلام آباد سے داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ جارہا تھا، دھماکے سے چینی قافلے کو لے جانے والی بس 150 فٹ گہری کھائی میں جاگری تھی ۔
اس واقعہ میں 5 چینی شہری اور پاکستانی ڈرائیور جاں بحق ہوئے تھے۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
بشام میں چینی انجینئرز پر حملے سے متعلق خیبرپختونخوا پولیس نے دوسری رپورٹ وفاق کو ارسال کردی۔
کے پی پولیس کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی جانچ کی بنیاد پر بظاہر لگتا ہےکہ چینی باشندوں کو لے جانے والی گاڑی بلٹ پروف اور بم پروف نہیں تھی جبکہ ہلاک ہونے والے چینی باشندوں میں ایک خاتون انجینئر بھی شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق جائے وقوعہ کی فضائی تصویر بھی حاصل کرلی گئی ہے اور تھانہ بشام تقریباً 6 کلومیٹر جبکہ داسو ڈیم 77 کلومیٹر جائے وقوعہ سے دور ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تباہ ہونے والی بس دوسری بس سے 15 فٹ کے فاصلے پر تھی اور خودکش دھماکے سے بس 300 فٹ گہرائی میں جاگری۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چیبی قافلے میں شامل تمام بسوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب تھے، خودکش بمبار کے زیراستعمال گاڑی کے ٹکرے حاصل کر لیے گیے ہیں۔
یاد رہے کہ چند روز قبل بشام میں چینی انجینئرز کی گاڑی پر ہونے والے خود کش حملے میں خاتون سمیت 6 چینی باشندے جاں بحق ہوئے تھے۔
اس واقعے کے بعد صدر پاکستان، وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے چینی سفارتخانے کا دورہ کر کے اپنے سب سے قریبی دوست ملک کے باشندوں پر ہونے والے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور چینی باشندوں کی سکیورٹی مزید سخت کرنے کے احکامات جاری کیے۔













