آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی)نے تین طلاق سے باز رکھنے کے لیے نیا قانون متعارف کرادیا ہےجس کے مطابق کوئی بھی شخص فی الفور تین طلاق کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔

مسلم لاء بورڈ کے ترجمان نے کہا کہ نکاح نامہ میں تخفیف کی ضرورت اس لئے پیش آئی کیونکہ حکومت پارلیمنٹ میں تین طلاق کا مطالبہ کرنے والے کو مجرم قرار دینے کا بل منظور کررہی ہے ۔

سپریم کورٹ نے گزشتہ سال اگست کے مہینے میں تین طلاق کے قانون کو ختم کردیا تھا اس کے باوجود مسلمانوں میں تین طلاق کا سلسلہ جاری ہے۔

ترجمان اے آئی ایم پی ایل بی مولانا خلیل الرحمان سجاد نومانی نے مئوقف برقرار رکھا ہے کہ نیا قانون مسلمانوں کے ذاتی قانون میں مداخلت ہے ۔ اس حوالے سے اے آئی ایم پی ایل بی کو شدید تنقید کا سامنا بھی ہے اس کے باوجود بل کو روکنے کے لئے ہمیں یہ فیصلہ کرنا پڑا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے 9فروری کو حیدرآباد میں بورڈ بیٹھے گا اور اس موضوع پر تفصیلی بحث کی جائے گی ۔

SHARE

LEAVE A REPLY