اسلامی معاشرے میں عمومی طور پر اور پاکستانی معاشرے میں خاص طور پر عدم برداشت اپنے عروج پر ہے اور اس صورت حال میں گزشتہ پانچ برس میں سیاسی جماعتوں نے انتہائی منفی کردار ادا کیا ہے جن کے قائدین نے اپنے کارکنوں کی برداشت کی تربیت کی ہی نہیں بلکہ کچھ سیاسی جماعتوں نے اپنے کارکنوں کا گالم گلوچ کا کلچر سکھایا بھی ہے۔
یہ صورت حال آنے والی نسلوں کے لیئے کس قدر تباہی کا باعث ہو گی اس کا شاید ہمیں ابھی مکمل شعور اور ادراک نہیں ہے
بوتل سے نکلا ہوا عدم برداشت کا یہ جن شاید دوبارہ بوتل میں بند نہ ہو سکے
سوشل میڈیا پر تو صورت حال اور ابتر ہے اور چند سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے طوفان بدتمیزی مچا رکھا ہے اور حد تو یہ ہے کہ وہ اپنے قائدین کے بارے میں اپنے نکتہ نظر کے علاوہ کسی دوسرے کا نکتہ نظر سننے کو تیار ہی نہیں اور ایسے میں مغلظات کا استعمال عام سی بات ہے اور سب سے تکلیف دہ صورت حال یہ ہے کہ ان لوگوں کو خواتین سے بھی گفتگو کا سلیقہ نہیں ہے
اخبارات اور ٹی وی چینلوں پر معاشرے میں عدم برداشت کی خبریں روزانہ آتی ہیں لیکن اب تو ایک خبر ایسی سامنے آئی ہے جس نے ہلا لے رکھ دیا ہے اور سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ہمارا سفر کس سمت میں ہے اور اس کا اختتام کہاں ہو گا
خبر یہ ہے کہ مفت جلیبی نہ دینے پر تیل کی کڑاہی حلوائی پر الٹ دی
رحیم یار خان میں مفت جلیبی نہ دینے پر ایک شخص نے حلوائی پر تیل کی کڑاہی الٹ دی، حلوائی جھلس گیا ۔ شہریوں نے کڑاہی الٹنے والے شخص کو تشدد کے بعد پولیس کے حوالے کردیا ۔
اسپتال ذرائع کے مطابق لیاقت پور میں معمولی تکرار پر نوجوان زبیر نے گرم ابلتے تیل کی کڑائی جلیبی فروش خادم حسین پر ڈال دی، گرم تیل سے جلیبی فروش کا جسم جھلس گیا۔
اس کے بعد مزید کچھ لکھنا اپنی روح کو خود زخمی کرنا ہے لیکن اس ضمن میں سوچنا ہم سب کا فرض ہے ورنہ ہم اپنے ہاتھوں خود کُشی کرنے والوں میں شامل ہونگے
صفدر ھمِدانی














No doubt. The politicians are responsible for such Z. Tolerance.