سپریم کورٹ کے حکم پر لاہور میں وی وی آئی پیز کے گھروں، دفاتر اور سڑکوں پرکھڑی کی گئی رکاوٹیں ہٹا دی گئیں،سپریم کورٹ نے رات 12 بجے تک کا وقت دیا تھا،انتظامیہ نے چند ہی گھنٹوں میں سڑکیں واگزار کرالیں۔
لاہور کی اہم شاہراہیں عرصہ دراز سے عام شہریوں کیلئے شارع ممنوعہ تھیں،کہیں بیرئیرز تو کہیں کنکریٹ کے بلاکس،کئی مقامات پر پولیس چوکیاں بھی ، جہاں چوکیاں نہیں تھیں وہاں بندوق تانے اہلکار مستعد کھڑے رہتے۔
کئی شاہراہوں سے منسلک سروس روڈز بھی سیکورٹی کے نام پر بند پڑی تھیں،چیف جسٹس آف پاکستان نےنوٹس لیا اور تمام شاہراہوں سے رکاوٹیں ہٹانے کاحکم دے دیا ۔
چیف جسٹس کے حکم پر انتظامیہ فوراَ حرکت میں آئی،پھر کیا جاتی امرا؟ کیا ایوان وزیراعلیٰ ماڈل ٹاؤن ؟ ہر جگہ سڑکیں صاف، ماڈل ٹاؤن میں میاں شہبازشریف،ڈاکٹر طاہرالقادری کی رہائشگاہ ، منہاج القرآن ، مال روڈ پر گورنر ہاؤس،چوبرجی میں جامعہ قادسیہ،جوہر ٹاؤن میں حافظ سعید کی رہائشگاہ ، پولیس لائینز،آئی جی آفس،ڈی آئی جیز دفاتر، ایبٹ روڈ اور گارڈن ٹاؤن میں پاسپورٹ کے دفاترسے بیرئیرز او ر کنکریٹ کے بلاکس ہٹا کر سڑکیں عام شہریوں کیلئے کھول دی گئیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY