انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے قصور ویڈیو اسکینڈل کیس میں 3 ملزمان کو عمر قید اور جرمانے کی سزا سنادی ہے۔
لاہور میں انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں قصور ویڈیو اسکینڈل کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران خصوصی عدالت نے ملزم حسیم احمد، وسیم سندھی اور علیم آصف کو 3، 3 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا بھی سنائی۔واضح رہے کہ قصور ویڈیو اسکینڈل 2015ء میں سامنے آیا تھا۔ جب قصور کے گاؤں حسین خان والا میں سیکڑوں بچوں سے بدفعلی کا شور اٹھا اور ویڈیوز بھی سامنے آئیں اور اسی گاؤں کے ایک خاندان پر 284 لڑکوں سے بد فعلی کا الزام لگا۔
جس کے بعد وزیراعظم کے حکم پر ڈی آئی جی ابوبکر خدابخش کی سربراہی میں 5 رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے واقعے کی تحقیقات کیں۔اس معاملے کی تحقیقات کیلئے قائم کی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے 20 بچوں کے متاثر ہونے کی تصدیق کی ۔ تاہم انسانی حقوق کے ادارے ایچ آر سی پی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اس اسکینڈل میں متاثرہ بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
اس سے قبل 2016ء میں بھی دو ملزمان کو عمرقید کی سزا سنائی جاچکی ہے۔
عمران خان کا جامع تحقیقات کا مطالبہ
واضح رہے کہ 25 جنوری کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے قصور کے ویڈیو اسکینڈل کی تحقیقات کیلئے ایک مضبوط جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر اپنے پیغام میں عمران خان نے کہا تھا کہ زینب کے قاتل کی گرفتاری کے بعد بچوں سے زیادتی اور قتل سے متعلق ایک منظم گروہ کے آثار سامنے آرہے ہیں جو کہ بچوں کی پورنو گرافی میں ملوث ہے۔













