فنانشل ایکشن ٹاسک فورس یعنی ایف اے ٹی ایف کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں پاکستان کا نام شامل نہیں ہے۔
اس سے قبل ایف اے ٹی ایف کی دہشت گردی کے فنڈز سے متعلق واچ لسٹ میں پاکستان کا نام شامل کیے جانے کے حوالے سے متضاد خبریں سامنے آ رہی تھیں۔
فنانشل ایکش ٹاسک فورس کی ایک عہدے دار ایلگزینڈرا ڈینئل کی طرف آج جاری ہونے والے اعلان میں کہا گیا ہے کہ فروری 2016 میں پیرس میں دہشت گرد حملے کے بعد ایف اے ٹی ایف نے دہشت گردی سے منسلک مالی معاونت روکنے کے لیے چار کلیدی أمور پر توجہ مرکوز کی تھی اور ان خطرات کے مقابلے کے لیے معیارات طے کیے تھے کہ آیا اس حوالے سے ملکوں نے دہشت گردی کے لیے سرمائے کی فراہمی روکنے، اس کا غلط استعمال کرنے والے مالیاتی اداروں کو سزا دینے کے موثر اقدامات کیے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایف اے ٹی ایف نے اپنے 2016 میں طے کردہ آپریشنل پلان کے متعین کردہ کلیدی شعبوں میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف بین الاقوامی جنگ کو مزید تقویت دینے کے لیے ایک نیا ایکشن پلان ترتیب دیا ہے۔ اس منصوبے میں دہشت گردی کی فنڈنگ کے خطرات کو روکنے کے لیے نئے اہداف طے کیے گئے ہیں۔
اعلان میں ایران کی جانب سے اس سمت پیش رفت کے لیے اعلیٰ سطح پر سیاسی عزم کی تعریف کی گئی ہے۔
اعلامیے میں جن ملکوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں ایتھوپیا، سری لنکا، شام، سربیا، تیونس اور یمن شامل ہیں اور ان ملکوں کی طرف سے کیے گئے اقدامات کو موضوع بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل خبررساں ادارے رائٹرز نے بھارتی میڈیا اور بعض سفارتی ذرائع کے حوالے سے کہا تھا کہ ایف ٹی ایف اے نے پاکستان کا نام دوبارہ ان ملکوں کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جنہوں نے دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے فنڈز کی فراہمی روکنے کے موثر اقدامات نہیں کیے ہیں۔
اگرچہ اس حوالے سے ایف اے ٹی ایف کی طر ف سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا ہے جبکہ پاکستان کے وزیر داخلہ احسن اقبال نے بھی جمعے کو اپنے ٹوئیٹر بیان میں کہا کہ ‘ ایف اے ٹی ایف’ کے فیصلےسے متعلق سرکاری طور پر کوئی اطلاع نہیں ہے۔ انہوں میڈیا سے بھی اس معاملے کو قیاس آرائی سے گریز کرنے کا کہا ہے جبکہ تک اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آتا ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان کو ان کالعدم تنظیموں اور عناصر کے خلاف موثر کارروائی نہ کرنے پر تنقید کا سامنا رہا ہے جو مبینہ طور پر نام بدل کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھیں۔
تاہم پاکستان کی حکومت کا موقف ہے کہ وہ ایسی تنظیموں کی سرگرمیوں کی بلاتفریق نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے اور رواں ہفتے ہی پاکستان حکام نے صوبہ پنجاب میں حکام نے جماعت الدعوۃ اور اس کی ذیلی تنظیم فلاح انسانیت کے تحت چلنے والے فلاحی اداروں کو سرکاری تحويل میں لے لیا گیا۔
اس سے قبل یہ کہا جا رہا تھا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے حوالے سے اپنے معاملات بہتر بنانے کے لیے تین ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔
امریکی عہدے داروں نے پاکستان کا نام ان ملکوں کی فہرست میں شامل کرنے کے لیے، جو دہشت گردی کی فنڈنگ روکنے کے لیے کافی کچھ نہیں کر رہے، گذشتہ ہفتہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے رکن ممالک کے ساتھ لابنگ میں گذارا۔ جب کہ پاکستانی عہدے دار اس سے بچنے کے لیے سفارت کاری کرتے رہے اور اجلاس کے دنوں میں اس سلسلے میں متضاد خبریں گردش کرتی رہیں۔
اس سے قبل پاکستان کا نام تین سال تک نگرانی سے متعلق اس فہرست میں شامل رہ چکا ہے جسے 2015 میں اس فہرست سے نکال دیا گیا تھا۔













