دہائیوں بعد ذیابیطس کی تعریف میں بڑی تبدیلی

0
90

ذیابیطس کی دو یا تین نہیں بلکہ 5 اقسام ہیں، یہ دعویٰ سوئیڈن میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

لیونڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق اس وقت ذیابیطس کی دو اقسام کو ہی جانا جاتا ہے مگر بلوغت میں اس مرض کی پانچ اقسام لوگوں کو نشانہ بناسکتی ہیں۔

محققین نے اب اس مرض کی نئی اقسام کی تشخیص کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس کے نتیجے میں مریض کے بہتر علاج کے ساتھ ساتھ ڈاکٹروں کو زیادہ بہتر طریقے سے اس جان لیوا خاموش قاتل مرض کے بارے میں پیشگوئی کرنے میں مدد ملے گی۔

تحقیق کے دوران یہ بھی دریافت کیا کہ ہماری غذائی نالی میں موجود بیکٹریا ایک جیسی ادویات پر مختلف طرح سے ردعمل ظاہر کرتے ہیں، جو ان ادویات کو زیادہ یا کم موثر بناتی ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ یہ ذیابیطس کے علاج کی جانب پہلا قدم ہے اور نئی اقسام سے اس مرض کو طبی نظرئیے سے دیکھنے کے حوالے سے تبدیلی آئے گی۔

دنیا بھر میں 42 کروڑ سے زائد افراد ذیابیطس کے شکار ہیں اور یہ اعدادوشمار 2045 تک 62 کروڑ سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔

اس وقت ذیابیطس کو دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے، ذیابیطس ٹائپ ون اور ذیابیطس ٹائپ ٹو۔

ٹائپ ون میں جسم میں انسولین بنا نہیں پاتا جو کہ بلڈ شوگر لیول کو ریگولیٹ کرتا ہے جبکہ ٹائپ ٹو میں جسم انسولین کچھ مقدار میں تو بناتا ہے مگر وہ ناکافی ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں خون میں گلوکوز برقرار رہتی ہے۔

ٹائپ کے نتیجے میں وقت گزرنے کے ساتھ موٹاپے، بینائی کی محرومی، گردوں کے امراض، امراض قلب یا فالج وغیرہ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جبکہ سنگین کیسز میں اعضا بھی کاٹنے پڑتے ہیں۔

یہ کافی عرصے سے طبی ماہرین جانتے تھے کہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کی مختلف اقسام ہوسکتی ہیں مگر دہائیوں سے اس کی درجہ بندی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔

اس نئی تحقیق کے دوران تیرہ ہزار سے زائد ذیابیطس کے حال ہی میں شکار ہونے والے افراد کا جائزہ لیا گیا جن کی عمریں 18 سے 97 سال کے درمیان تھیں۔

انسولین کی مزاحمت، انسولین کا اخراج، بلڈ شوگر لیول، عمر اور ذیابیطس کی بیماری خود، اس مرض کی پانچ اقسام کو جنم دیتی ہیں، جن میں تین سنگین اور دو درمیانے درجے کی ہوتی ہیں۔

سنگین اقسام میں انسولین کی مزاحمت (اس کے دوران خلیات انسولین کو موثر طریقے سے استعمال نہیں کرپاتے) کے مریضوں میں گردوں کے امراض کا بہت زیادہ خطرہ پایا گیا۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس طرح کے مریضوں کا علاج درست طور پر نہیں ہوپاتا کیونکہ ڈاکٹر روایتی علاج تک ہی محدود رہتے ہیں۔

ایک اور گروپ جنھیں سنگین پیچیدگیوں کا سامنا ہوتا ہے، وہ انسولین کی کمی کے شکار مریض ہیں اور یہ عام طور پر درمیانی عمر کے افراد کو لاحق ہونے والا مرض ہے۔

اسی طرح تیسری قسم آٹو امیون ذیابیطس کے شکار افراد کی ہیں جنھیں اس وقت ٹائپ ون کا مریض سمجھا جاتا ہے۔

دیگر دو اقسام اس وقت چالیس فیصد مریضوں کو اپنا شکار بناتی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے دی لانسیٹ ڈائیبیٹس اینڈ Endocrinology میڈیکل جرنل میں شائع ہوئے۔

SHARE

LEAVE A REPLY