ایک وہیل چئیر پر بظاہر بے بس اور لاچار حالت میں پڑے ہوئے اسٹیفن ہاکنگ نامی اس شخص نے جو زندگی کی 76 بہاریں دیکھ چکا تھا، کل اس نے اپنی زندگی کے سانس پورے ہو جانے پر موت کی دنیا میں جب قدم رکھا ہو گا تو یقیناًسائنس کی دنیا کے اس خاص الخاص مجذوب کی برزخ بھی الگ سے سجی ہوئی ہو گی۔ اس برزخ میں صرف ان کو بھیجا جاتا ہے جو اس مصرع کی تشریح بن کر دنیا میں رہے ہوتے ہیں ۔
لائی لگ مومن کولوں کھوجی کافر چنگا
جی ہاں پروفیسر موہن سنگھ کی مشہورِزمانہ نظم ” رب ” میں اس نے تصورِ رب کے لیئے اپنے تعجب و حیرت کو نظم کرتے ہوئے کہا ہے کہ
رب اک گُنجھل دار بُجھارت
رب اک گورکھ دھندا
کھولن لگیاں پیچ ایس دے
کافر ہو جائے بندہ
کافر ہونوں ڈر کے جیویں
کھوجوں مُل نہ کُھنجیں
لائی لگ مومن دے کولوں
کھوجی کافر چنگا
ترجمہ:(رب ایک پرپیچ پہیلی اور ایک گورکھ دہندے کی صورت ہے۔ جس کی حقیقت کے پیچ کھولتے کھولتے خود بندہ کافر ہو جائے۔ لیکن کافر ہونے کے ڈر سے تحقیق اور کھوج سے کنارہ کسی نہ کر لینا (غافلانہ) تقلید کے مرتکب مومن کی نسبت وہ کافر زیادہ بہتر ہے جو حق کی تلاش و جستجو میں رہے۔)
اگر پروفیسر موہن سنگھ ہی اسلوب میں بات کی جائے تو گذشتہ کل ایک اور کھوجی کافر راہیِ عدم ہوا۔ اسکا انجام کیا ہوگا۔ اس کے عالمِ برزخ کا نقشہ مولوی، پنڈت، پادری یا اسقف ، جیسا بھی عوام کے آگے پیش کرنا چاہے پیش کر دے گا۔مگر صاحبِ عقل مومن کو اس بات کا قطعا کوئی تذبذب نہیں ہونا چاہیئے کہ ھاکنگ کس جرم کی سزا عالمِ برزخ میں کاٹے گا؟کیونکہ ھاکنگ کی زندگی تحقیق کاطواف کرتے گزری تخریب کا سامان کرتے ہوئے نہیں گزری۔ وہ اپنے آبا اور معاشرے کے دیئے گئے تصورِ خالق کائنات سے ذرا ہٹ کر خود سے کائنات کی وسعتوں میں جھانک کر اس کائنات کا آخری سرا تلاش کر رہا تھا کہ جس کے آگے شاید اسے وہ صاحبِ لامکان جلوہ نما دکھائی دیتا جسے یہ دنیا والے مختلف ناموں سے پکار کر مشغولِ عبادت رہتے ہیں۔ تو خالقِ کائنات کی کتابِ عشق ومعرفت میں ہاکنگ کا یہ تجسس اور اضطراب کن الفاظ میں تحریر ہوا ہو گا، اس کا فیصلہ دینے کا اختیار کسی مولوی، پنڈت، اسقف یا پادری کو خدا نے نہیں سونپا مگر وہ خود ہی قیاس آرائیاں ہمیشہ سے کرتے رہے ہیں اورکرتے رہیں گے۔
اگرچہ ہر عہد میں ہی لائی لگ مومن یعنی (غافلانہ) تقلید کے حامیوں کے ہاتھ میں اٹھائے ہوئے پتھر کھوجی کافروں کی پیشانی کو خون آلود کرتے رہے ہیں۔ گلیلیو، کوپر نیکس اور بعد میں آنے والے اکثر سائنسدانوں کو بھی اہلِ مذہب نے کافر و زندیق کہہ کر سزائیں دلوائیں۔ مگر یہ جذبہِ تحقیق کیونکر ماند پڑے؟ کیا سب کے سب انسان غبی اور کاہل ہوکر پادری، پنڈت، اسقف اور مولوی کو عقلِ کل ماننتے ہوئے اس کے خود ساختہ فتووں کو بھی خدائی حکم تسلیم کر لیں؟ عقل ہمیشہ سوال کرتی ہے۔ اور جب مولوی، پنڈت، پادری، اسقف ان سوالوں کا مدلل جواب دینے یا کائنات کے بھید کو بھید ہی رکھنے کا فتوی جاری کرتے ہیں تو عقل دھریت کی پگڈنڈیوں پر چل کر تلاشِ حق کو نکل جاتی ہے۔
قابلِ فکر بات تو یہ ہے کہ یہی اہلِ مذہب جو کہ اکثرمادر زاد نابینا کی پیش گوئیوں کو حق سچ اور الہام تسلیم کرلیتے ہیں اور زیادہ تر پیدائشی طور پر ذہنی معذور کو بھی مجذوبِ خدا قرار دیتے ہیں، جس کے منہ سے نکلے ہوئے اکثر ادھورے سے الفاظ آنے والے وقت کی کوئی پیش گوئی ثابت ہوتے ہیں۔آخر وہ کس بنیاد پر اہلِ مذہب کی نگاہ میں معتبر ٹھہرتے ہیں؟
دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ اہلِ مذہب کی نظر میں وہ نابینا یا دیوانہ مجذوب جس نے نہ کبھی مذہبی مدرسوں کی جاروب کشی کی ہو نہ ہی عبادت خانے کے دن رات چکر لگائے ہوں پھر بھی اس کے بارے میں یہ قبول کرنے میں کوئی قباحت نہیں محسوس کرتے کہ ایسے مجذوب نے ذاتِ حق کو پانے کے لیئے بغیر کوئی باقاعدہ سلسلہ تعلیمِ مذہب اختیار کیئے بغیر محض چشمِ معرفت کی بدولت اس قدر نزدیک پایا کہ اس کے منہ سے نکلے الفاظ الہام و پیش گوئی کی سند پاتے چلے جائیں اورتمام دنیا نہ صرف یہ کہ اس کو مجذوب کا لقب عطا کر دے بلکہ جب وہ مر جائے تو اس کا مزار بنا کر منتوں مرادوں کے سلسلے کو بھی معرفتِ حق کا وسیلہ جاناے۔ نیز اس مجذوب کی برزخ و عاقبت عقیدت مندوں کی نگاہ میں امن ہی امن قرار پائی ہے۔ تو مان لیجییے کہ اسٹیفن ہاکنگ بھی عہد حاضر میں دنیائے سائنس کا ایک ایسا مجذوب تھا جوایک پرامن زندگی بسرکر کے ایک پرامن آخرت کو روانہ ہوا۔ وہ سائنس کی دنیا کا ایسا مجذوب تھا جو علم و ادراک کی نعمت سے مالا مال تھا۔وہ لا الہ سے آشنا تھا، اور الاللہ سے آشنائی کو اس نے حق الیقین کی منزل پا لینے تک موخر کر رکھا تھا مگر زندگی نے اسے مہلت ہی نہیں دی۔
ھاکنگ انسانی معاشرے کا ایک عام فرد نہیں تھا ہاکنگ ہر لحاظ سے ایک خاص انسان تھا۔ جس کی زندگی بھی خاص تھی، جس کی قوتِ فکر بھی خاص تھی، جس کے تصورات بھی خاص تھے اور یقیناًجس کے خواب بھی خاص ہی ہوں گے۔ اس کے خواب کس نوعیت کے ہوتے ہوں گے، ہمیں نہیں معلوم۔۔۔۔ البتہ اس کا اپنے بارے میں بعد از موت کا تصور یہی تھی کہ اس کا وجود بھی ایک بگ بینگ کا مظہر تھا۔ یعنی بگ بینگ کے نتیجے میں وہ بھی باقی اجسام کے ہمراہ اس کائنات کی کہکشاؤں اور ستاروں کے ہمراہ وجود میں آیاتھا اور مر جانے کے بعد اس کا بدن پھر سے ان ستاروں اور کہکشاؤں کا حصہ بن جائے گا۔آخرت کے بارے میں ایسا تصور رکھتے ہوئے مر جانا، انکار خدا تو ضرور ہے مگر ایسا اعتقادفرعونیت نہیں ہے۔ھاکنگ نے انکارِ خدا کیا تھا لیکن خدا ہونے کا دعوی نہیں کیا تھا۔ قرآن نے جس فرعون کو موسی ؑ کا حریف بیان کیا ہے وہ فرعون خود کو خدا کہلواتا تھا۔ رہا سوال برزخ کا تو عرض یہ ہے کہ برزخ میں بھی تو فرعونیت مزاج ہی سزا پاتے ہیں خواہ وہ اس دنیا میں یہودی، عیسائی یا مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے ہوں مگر خدا آشنا ہونے کے باوجود خدائی کا مالک بننے کی ہوس میں چوری، قتل، زنا سب کچھ کر گزرتے ہوں۔ مجذوب تو اپنے من کی دنیا میں مست ہوتا ہے اسے دوسرے سے ظلم و زیادتی کرنے کا کہاں ہوش؟ اس کو کہاں وقت کہ وہ تیرھویں صدی کے پادری لوتھر کی طرح فتوی دے سکے کہ معذور افراد بھی بد روحوں کے زیرِ اثر ہوتے ہیں۔ اور انہیں مر جانا چاہیئے کہ وہ محض جسم کا لوتھڑا ہیں، پاک روح نہیں ہیں۔ یا پھر مذہب کے نام پر مرگِ انبوہ کا سامان کرے۔ وہی مرگِ انبوہ یا ہولو کاسٹ جس میں نازی حکومت اور اس کے حلیفوں کی طرف سے تقریبا چھ ملین یہودیوں پر ظلم و ستم کیا گیا، ان کا قتلِ عام ہوا اور معذور افراد کو بھی بے دریغ تہِ تیغ کردینے کا فتوی صادر کیا گیا۔۔۔۔۔۔یہ سب اپنے اپنے عہد کے لائی لگ مومنوں کے کارنامے ہیں۔ جو تاریخ کے دامن میں محفوظ ہیں۔ شاید تاریخ کے اسی تاریک گوشے کو پڑھنے کے بعد ھاکنگ نے کہا تھا۔
I do not fear God…. I fear his belivers…
میں خدا سے خوف نہیں کھاتا مگر خدا کو ماننے والوں سے خوف آتا ہے۔
اور شاید اسی وجہ سے ھاکنگ لائی لگ مومن نہ بنا۔ اعلانیہ دھریت کو اپنالیا۔ کل سے سوشل میڈیا پر ہاکنگ کے خلاف بہت سے لائی لگ مومنوں کے فتوے بھی سامنے آرہے ہیں جو کہ ہاکنگ کی تمام ترعلمی تحقیق و جستجو کو عبث کہہ رہے ہیں فقط اس بنیاد پر کہ وہ لائی لگ مومنوں کی نگاہ میں کافر و زندیق تھا۔ایسے ایسے فتوے پڑھنے کو ملے جیسے کہ ان لائی لگ مومنوں کو اللہ نے ٹیلیکس بھیجا ہے کہ ھاکنگ جیسے بے ضرر انسان کا انجام بھی جہنم ہے۔۔۔۔کاش ایسے فتوے صادر کرنے والوں کویہ یاد ہوتا کہ ایک بڑامشہور مقولہ بلکہ قرآن میں سورہ نساء کی آیت114کا ترجمہ بھی کچھ اس طرح سے ہے کہ خدا کہتا ہے میں ہر گناہ معاف کر دونگا مگر شرک نہیں معاف کروں گا۔یہاں شرک کا ذکر ہوا مگر کفر کا نہیں، اگر اس کے معنی یہ لیئے جائیں کہ کفر بھی قابلِ معافی ہے مگر شرک ناقابلِ معافی ہے۔تو پھر یقیناًخدا کا اشارہ بھی اس آیت میں اسی جانب ہے کہ خدا کو خالقِ کائنات اور رزاقِ کل مانتے ہوئے بھی اگر کوئی کسبِ حلال کی بجائے چوری کر کے اپنی حاجات بر لانا چاہتا ہے تو وہ شرک کر رہا ہوتا ہے۔اللہ کو مالکِ موت وحیات مانتے ہوئے بھی کسی بے گناہ اور مظلوم پر ظلم کرنے والا اور قتل کرنے والا بھی لاریب کہ وہ شرک کر رہا ہوتا ہے۔۔۔ہاکنگ تو کسی بھی خود کش حملہ آور تنظیم کا بانی نہیں تھا، ھاکنگ نے تو مذہب و عقیدے کی بنیاد ہر کسی بھی قسم کی نسل کشی شروع کرنے کی تحریک نہیں چلائی تھی، ہاکنگ نے تو معذوروں کے قتلِ عام کا فتوی دے کر دنیا کو پاک روحوں سے زینت دینے کے خواب نہیں دیکھے تھے، تو پھر وہ خالقِ کائنات کہ جس نے ھاکنگ کو بھی تخلیق کیا اسی ھاکنگ کو اس کے انکارِ خدا کے باوجود رزق بھی دیتا رہا ہے یقینا وہی اس کی آخرت کا کیا فیصلہ کرے گا۔ لہذا اس کی جنت و جہنم کا فیصلہ فقط وہی رحمن و رحیم جانتا ہے جو کہ علیم و خبیر ہے اور وہ ہر اُس رمز کو بھی جانتا ہے جس کے باعث ہاکنگ تلاشِ حق میں لائی لگ مومن نہیں بنا بلکہ کھوجی کافرکی صورت کائنات کے بھید جانیے میں زندگی صرف کر دی۔
اسٹیفن ھاکنگ کوئی تخریبی قسم کا سائنسدان تو نہیں تھا جو ایک ایٹم سے کرہ ارض پر مزید ایک بگ بینگ کا خواہاں ہو، وہ تو ایک مجذوب تھا ایک ایسا ہی بے ضرر اور بے باک مجذوب،جس نے ضرر رساں شرک سے اجتناب رکھا۔ البتہ کفرِ بے باک کا اظہار کیا۔ برزخ کی سزائیں تو حریص مشرکوں اور رذیل منافقوں کا مقدر ہے۔۔۔۔۔۔ کہکشاؤں سے جنم لینے کا تصور لیئے ہوئے آدم کے وہ پسر جو کائنات سے متعلق کسی خالقِ کائنات کے مخصوص تصور سے زیادہ خود نظامِ کائنات کو سمجھنے میں زندگی بسر کر دیں وہ بھی تو سائنس کی دنیا کے مجذوب ہیں جو معرفتِ حق پانے کے لیئے آبا پرستی کی بجائے حقیقتوں کی صحرانوردی سے چہرہِ حق کو دریافت کرنے کے خواہاں ہوتے ہیں۔ یاد رہے کہ فکرِ حر ہی انسان کو آزادی سے درست راستے کا انتخاب کرنے کی قوت دیتی ہے۔ المختصر کہ اسٹیفن ھاکنگ کی فکری حریتِ فکر اس کے اس قول سے عیاں ہے۔
Although I cannot move and I have to speak through a computer,in my mind I am free.
اگرچہ میں حرکت بھی نہیں کر سکتا اور ایک کمپیوٹر سے وسیلے سے بول پاتا ہوں لیکن اپنے خیال و فکر میں آزاد ہوں۔
ارم نقوی














what a wonderful article Irum. It is so easy for people to reject based on the ideas they have . I feel his quest for finding truth was his great contribution and it sets an example for others. To evolve , human brain needs to be free and search free like a bird.
بہت شکریہ آپ کے یہاں کمنٹ کرنے کا ۔۔۔۔ اصل میں ہمیں کم از کم اکیسویں صدی کے تقاضے جان کر جینا چاہیئے کہ ہم اس وقت ابلاغیات کے جس دور سے گزر رہے ہیں اور دنیا اس قدر سمٹ چکی ہے انٹرنیٹ کی دریافت سے کہ اب ہم مذاہب کی تشریح میں کسی تنگ نظری کو قبول نہ کریں ۔ کیونکہ اسی تنگ نظری کا ردِ عمل لادینیت کے فروغ کی شکل میں سامنے آ رہا ہے ۔ مذہب کا بنیادی ہدف اخلاقیات اور تہذیب ہوتا ہے ۔جبکہ سائنس فقط تحقیق و جستجو کا نام ہے جو حدود و قیود سے آزاد رہتے ہوئے تمام حقائق کو بیان کرتی ہے ۔خواہ مذہب ان کی تائید کر رہا ہو یا تردید۔۔۔۔