لاہور ایک نئی دنیا دیکھ کر آئے۔تاریخی ویادگار مقامات کے ساتھ ساتھ نئ چیزیں، ٹی وی ،طرح طرح کے کھانے، آئس کریم وغیرہ وغیرہ
ویسے بھی ہمارے ماموں ہر وقت کہا کرتے کہ جس نے لاہور نئ ویکھیا او جمیا ای نئیں “اور نے لاہور دیکھ کر نعرہ مستانہ لگایا کہ لاہور لاہور ہے ۔اب ہمارے پاس بہت سی باتیں، بلکہ باتوں کی کئ گھٹٹریاں تھیں ۔جنہیں کھول کھول کر اپنی دوستوں کو قصے سنایا کرتے ۔اور وہ سب بڑے اشتیاق سے سنتیں ۔کہ اکثریت نے لاہور نہیں دیکھا تھا ۔لاہور سے خریدی گئی کتابوں نے بھی بہت شاد کام کیا۔اب کتابوں، رسالوں کے ساتھ ساتھ قلم کو بھی ہمراز بنا لیا ۔

روزانہ دن بھر کے واقعات، دوستوں کے قصے رات گئے قلم بند کرنے لگے ۔گویا قلم اور یہ ڈائری وہ سہیلی تھی ۔جس کو دن بھر کی روداد سنا کر پرسکون ہو جاتے۔لکھتے لکھتے چھوٹی کہانیاں لکھنے لگے ۔روزنامہ جنگ میں مضطر اکبر آبادی بچوں کا صفحہ نکالتے تھے۔اس میں پہلی دفعہ کہانی چھپی تو خوشی کاعالم مت پوچھئے ۔میں اور روشی ہر ہفتے باقاعدگی سےتبصرے کے کالم میں تبصرہ کرتے ۔(یہ اخبار بھی ابھی تک میرے پاس محفوظ ہیں )
اس زمانے میں بہت ہی کم گو اور شرمیلی تھی ۔کوئی گھر میں آتا تو شرم کے مارے کافی دیر تک کمرے میں بند رہتی۔پھر اصرار کرکے بلوائی جاتی تو شرماے شرمائے چلی جاتی ۔مگر ہائی سکول آکر رفتہ رفتہ اعتماد بڑھتاگیا ۔اور بلاوجہ کے شرمانے والی عادت سے بھی ۔اسمبلی میں روزانہ اقوال زریں اورچھوٹے سے مضامین پڑھے جاتے ۔ہفتے میں دو تین مرتبہ اسمبلی کے سامنے اپنے مضامین پڑھتی جو سب کو پسند آتے ۔
ہفتے میں دو دن پی ٹی شوز پہن کر،نرگسی لٹھے کی سفید گھیر دار فراک پہنتے ۔جو بہت اچھی لگتی ۔اور سب تعریف کرتے ۔خدا بخشے چھٹی کلاس میں میاں خیل لڑکی زاہدہ ہماری ہم جماعت تھی ۔اسکی فراک بہت ہی گھیردار تھی اوراس کے اوپر بہت سجتی ۔اسے دیکھ کر بہت سارے نرگسی لٹھے کی فراک بنوائی ۔جو سب کو بہت پسند آئی ۔ایک دن بزم ادب کے لیے مختص تھا۔اس دن سفید سوٹ کے اوپر گلابی ململ کا ابرق لگا دوپٹہ لیتے (ابرق :دوپٹے کو پہلے کلف لگاتے پھر اس پر ابرق لگاتے ۔چھوٹے چمکدار سے ترمرے دکھائی دیتے جو بہت اچھے لگتے )سفید سوٹ پر یہ ابرق لگا دوپٹہ پہن کر جانے کیا تھا کہ بار بار آئینے کے سامنے جا جا کر بیت بازی کے لیے یاد کئے گئے اشعار دہرانے لگتے ۔کتنی وافر خوشیاں کتنی چھوٹی باتوں میں پنہاں تھیں ۔
لوگوں کی تعریف وتوصیف کے باوجود کبھی حسین ہونے کا یقین نہیں آیا ۔آتا بھی کیسے! کہ ہمارے ساتھ ایک سے بڑھ کر ایک حسین لڑکیاں موجود تھیں ۔گوری چٹی، سنہری بال
نیلی آنکھوں والی بنگش، میاں خیل اور جنگل خیل کی لڑکیاں
خود میری دوست روشی کے گال ایسے سرخ رہتے جیسے قندھاری انار ۔تو ایسے میں خود کو کیسے حسین سمجھتے ۔۔۔اب اپنی چھوٹی سی 5سالہ پوتی کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے ۔جو اپنے سیدھے ریشمی بالوں کو ایک ادا سے جھٹکے دے کر بات کرتی ہے ۔اور کوئی تعریف ۔کرے۔۔ تو ایک ادا سے جواب دیتی ہے ہاں عائشہ پھپھوجیسے ہیں ۔اس کا اعتماد اور احساس جمال ماضی کے کئ در وا کرکے کس زمانے میں لے جاتا ہے ۔۔جہاں ایسا اعتماد و احساس نہیں تھا ۔سادگی تھی ۔سادہ دھلے دھلاے میک اپ سے عاری چہرے، کسی ہوئی لمبے بالوں کی چٹیا کالا سادہ پراندہ ڈالے ہوئے ۔سر پر دوپٹہ ۔۔۔۔بالوں کا اپنا قدرتی رنگ کٹے ہوئے بالوں والی کوئی لڑکی دکھائی نہیں دیتی تھی ۔اکثریت کے گھٹنوں سے لمبے بال ۔اکا دکا کوئی بہت ہی ماڈرن لڑکی کٹے ہوئے بالوں والی نظر آجاتی تو لوگ پسند نہ کرتے ۔
یاد نہیں آتا کہ اساتذہ کرام میں سے بھی کوئی میک اپ کرتی ہو۔سفید شلوار، دوپٹے کے ساتھ قمیضیں بدل بدل کر پہنتیں ۔پارلر وغیرہ کا تو کہیں وجود ہی نہ تھا۔تبت سنو کریم سب کی پسندیدہ تھی ۔ہماری جس خالہ کی شادی ہوئی ۔اس کے جہیز کا سامان خریدنے لنڈی کوتل گئے تھے ۔اس وقت تک باڑابازار اور حیات آباد کی کارخانومارکیٹ ابھی وجود میں نہیں آئی تھیں ۔غیرملکی سامان کی خریداری کے لیے لوگ لنڈی کوتل جایا کرتے ۔سو اسی لیے ہم بھی گئے ۔کپڑے، بجلی اورمیک اپ کا سامان خرید کر لائے ۔خریداری کے بعد وہاں کے مشہور زمانہ”پٹےتکے”کھاےاورقہوہ پیا ۔لو جی میک اپ کے سامان کاذکر کرتے کرتے ہم لنڈی کوتل جا پہنچے ۔(لکھتے ہوئے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اچانک پرانے واقعات اور یادیں کسی روشن منظر میں ڈھل جاتی ہیں ۔اور قلم خود بخود ادھر مڑ جاتا ہے )
دراصل ذکر تو ہم اس کالے رنگ کی پاوڈر کی ڈبیا کا کرنے لگے تھے ۔جو لنڈی کوتل سے 5 یا دس روپے میں خریدی گئی تھی خالہ اس کو لگاتی تو پوراچہرہ چمکنے لگتا ۔آج کل کی بچیوں کے پاس میک اپ کا ڈھیروں ڈھیر سامان، ان کے شوخ میک اپ، بالوں کی مصنوعی رنگت، آنکھوں میں لینز
زمانے کے انداز بدلے گئے
زمانے کے انداز ہی نہیں رسم و رواج، روایات، تہذیب سب کچھ بہت تیزی سے بدل کر رہ گیا ۔
ہاں ایک اور اہم بات جو لکھنا رہ گئ تھی وہ لاہور کے میلہ مویشیاں کے طرز پر کوہاٹ میں بھی موسم بہار میں میلہ مویشیاں کا انعقاد تھا ۔میں ماموں کے ساتھ اس میلے میں جایا کرتی ۔ہمیں اسکول میں چوزے کے خول سے چوزہ بنانا سکھایا تھا ۔وہ چوزہ بنا کر مقابلے میں رکھا تھا اور آخری دن بدست ڈپٹی کمشنر اس چوزے پر انعام بھی حاصل کیا تھا ۔
پہلے ذکر کیا تھا ۔کہ ہمارے ایک ماموں جنہیں ہم انکل کہتے (جو ڈیڈی کے اکلوتے بیٹے تھے )لندن چلے گئے تھے ۔ان کے فراق میں ڈیڈی دن بدن کمزور اور بوڑھے نظر آنے لگے ۔جگنو (میرا بھائی )ان کی زندگی کی واحد خوشی اور دلبستگی کی وجہ تھا یا پھر طویل طویل خط لکھنا اورجواب کا انتظار کرنا ۔ایک دن اچانک دیکھا تو انکل اچانک لندن سے واپس آگئے ۔

اس طرح اچانک آنے سے خوشی سے زیادہ حیرانگی اور حیرانگی سے زیادہ خوشی ہوئی ۔کسی کی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ خوشی کے اظہار کے طور پر کیا کرے ۔انکل اوران کے چنددوست لندن سے براستہ خشکی کئ ملکوں کی سیروسیاحت کرتے ہوئے ترکی، ایران سے ہوتے ہوے پاکستان پہنچے ۔ان کے واپس آنے پر رشتے دار، دوست احباب، مرد عورتیں مبارکباد کے لئے آنے لگے یہ غالبا”66 کی بات ہے ۔کوکا کولا نیا نیا متعارف ہوا تھا ۔شیشے کی چھوٹی بوتل شاید آٹھ آنے یا بارہ آنے کی تھی ۔گرمیوں کے دن تھے۔اس لئے کوک کی بوتلیں منگوا کر برف کے ٹب میں ڈال دیں تاکہ جو مبارکباد کے لئے آئے ۔ان کی اچھے طریقے سے خاطر مدارات ہو سکے ۔عورتیں آتیں ۔کام والی جلدی جلدی بوتلیں لے کر آتیں ۔مگر لگتا تھا کہ ذائقہ نیا ہے پسند نہیں آیا ۔کچھ لوگ تو مروتا”پی بھی لیتے، کچھ ایک دو گھونٹ بھر کر بوتل رکھ دیتے کئیوں کو اچھو لگ گیا ۔ایک دو نے تو ایک گھونٹ لےکر بوتل واپس رکھتے ہوئے کہا اے ہے یہ کیسا شربت ہے ۔یہ تو کھانسی کا شربت دکھائی دیتا ہے ۔اس طرح آدھی آدھی بوتلیں خواتین چھوڑتی گیں ۔پورا ٹب ضائع ہوا۔اب یہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کا کمال ہے کہ وہ ذائقہ جو پہلے لوگوں کو قبول نہیں تھا ۔آج کس قدر مقبول ہے کہ میچلز کے سکوائش لوگ بھول ہی گئے ۔انکل کے آنے سے جہاں خوشی تھی وہاں پریشانی بھی تھی کہ اب میں آزادی سے ناول وغیرہ کیسے پڑھونگی ۔انکی تیز نگاہوں سے بچنا مشکل تھا ۔خیر اس کا کچھ حل ڈھونڈ ہی لیا کہ کبھی کتاب کے اندر ناول رکھ کر، کبھی کسی کونے کھدرے میں چوری چھپے ۔
ہائےکیسی کیسی پابندیوں میں وقت گزرا ۔جس کا آج ہمارے بچے تصور بھی نہیں کرسکتے
نصرت نسیم













