علی گیلانی کے جسد خاکی کو چھیننا بھارتی حکمرانوں کا پاگل پن ہے: شہباز شریف

0
839

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ حریت پسند رہنما علی گیلانی کے جسد خاکی کو چھیننا بھارتی حکمرانوں کا پاگل پن ہے۔

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ بھارتی قابض افواج نے جس طرح سید علی شاہ گیلانی کے جسد خاکی کو چھینا اور “گرفتار” کیا اور اہل خانہ کو وصیت کے مطابق تدفین کی اجازت نہیں دی، بھارتی حکمرانوں کے پاگل پن کے بارے میں بہت کچھ بتا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نام نہاد بھارتی جمہوریت نے کم ظرفی کی نئی مثال قائم کی ہے۔

……………………….

مقبوضہ کشمیر میں سید علی گیلانی کے جسد خاکی کی زبردستی تدفین کے خلاف کشمیری سر اپا احتجاج ہیں۔ سری نگر میں کشمیری نوجوان رکاوٹیں توڑ کر سڑکوں پر آگئے اور بھارت کی ظالمانہ کارروائی کے خلاف مظاہرہ کیا۔

کشمیری تحریک آزادیِ کشمیر کے عظیم رہنما سید علی شاہ گیلانی کو بھارتی فورسز کی جانب سے زبردستی دفنائے جانے پر سراپا احتجاج ہیں۔ سری نگر میں کشمیری نوجوان رکاوٹیں توڑ کر سڑکوں پر آگئے۔ کشمیری نوجوانوں اور قابض فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

بھارتی درندوں نے آنسو گیس کے شیل پھینکے اور پیلٹ گن کے کارتوس چلائے، جس سے متعدد نوجوان زخمی ہوگئے۔ سری نگر میں جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی ہیں۔ مرحوم حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی کی رہائش گاہ کو بھارتی فورسز نے حصار میں لے رکھا ہے۔

انسانیت سے عاری بھارتی فو رسز نے گذشتہ روز بابائے حریت سید علی گیلانی کے جسد خاکی کو قبضے میں لے کر زبردستی سری نگر کے علاقے حیدرپورہ میں سپرد خاک کر دیا تھا۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

حریت رہنما سید علی گیلانی کی وفات پر عوام کو احتجاج سے روکنےکیلئے مقبوضہ کشمیر گوانتانامو بے میں تبدیل ہوگیا۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق احتجاجی مظاہرے روکنےکیلئے مقبوضہ کشمیر میں سخت کرفیو نافذ کردیا گیا ہے اور مواصلاتی بلیک آؤٹ جاری ہے جبکہ مرحوم کی میت پاکستانی پرچم میں لپٹی ہوئی تھی۔

سرینگرحیدر پورہ میں بھارتی فوجیوں، پولیس اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات ہے جبکہ قابض انتظامیہ نے صحافیوں کے سیدعلی گیلانی کی رہائش گاہ جانے پر پابندی لگادی ہے۔

قابض بھارتی فوج سید علی گیلانی کے جنازے سے بھی خوفزدہ ہے، بھارتی فوج نے علی گیلانی کی میت چھین کر رات کے اندھیرے میں تدفین کردی،جنازے میں عوام کو شرکت کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ علی گیلانی کے اہلخانہ پر تشدد بھی کیا گیا۔

دوسری جانب اہلخانہ نے مطالبہ کیا کہ علی گیلانی کی تدفین مزار شہداء میں کرنے دی جائے۔

سرینگرمیں سڑکوں پر خاردارتار، رکاوٹیں کھڑی کردی گئی ہیں، واشنگٹن میں قائم ورلڈ کشمیر اویئرنس فورم کے تمام مسلمانوں سےجمعہ کو یوم سوگ منانےکی اپیل کی گئی ہے ۔

……………………………………..

طویل علالت کے بعد گزشتہ روز خالق حقیقی سے جا ملنے والے سینئر حریت پسند کشمیری رہنما سید علی گیلانی کے نمائندہ خصوصی عبداللہ گیلانی کا کہنا ہے انہیں نہیں معلوم بھارتی فورسز نے علی گیلانی کی تدفین کہاں کی۔

اپنے ایک وڈیو بیان میں عبداللہ گیلانی کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج نے سید علی گیلانی کا جسد خاکی قبضے میں لیا اور ہمیں نہیں معلوم کہ سید علی گیلانی کی تدفین کہاں کی گئی ہے۔

عبداللہ گیلانی کا کہنا تھا کہ سید علی گیلانی کے اہلِ خانہ پر تشدد بھی کیا گیا، اہل خانہ کا مطالبہ ہے کہ سید علی گیلانی کی تدفین ان کی خواہش کے مطابق مزار شہداء میں کرنے کی اجازت دی جائے۔

دوسری جانب اہل خانہ سید علی گیلانی کا کہنا ہے کہ قابض بھارتی فورسز نے پورے جموں و کشمیر کو بند کر دیا ہے، وادی میں کرفیو نافذ کر کے مواصلاتی رابطے بھی معطل کر دیے گئے ہیں۔

خیال رہے بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی فورسز کی سخت سکیورٹی میں حریت پسند رہنما سید علی گیلانی کی حیدرپورہ قبرستان میں صبح ساڑھے 4 بجے تدفین کر دی گئی ہے، نماز جنازہ اور تدفین میں چند قریبی افراد کو ہی شرکت کی اجازت دی گئی تھی۔

وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، سیاسی و سماجی شخصیات اور وزیراعظم آزاد کشمیر عبدالقیوم نیازی نے سینئر حریت پسند کشمیری رہنما کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تحریک آزادیِ کشمیر کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کو سراہا۔

SHARE

LEAVE A REPLY