وہ بھگت سنگھ جس کے بارے میں جوش ملیح آبادی نے یہ سدا بہار شعر کہا تھا
وہ بھگتؔ سنگھ اب بھی جس کے غم میں دل ناشاد ہے
اس کی گردن میں جو ڈالا تھا وہ پھندا یاد ہے
اہل آزادی رہا کرتے تھے کس ہنجار سے
پوچھ لو یہ قید خانوں کے در و دیوار سے
دنیا میں وہی انسان عظیم ہوتے ہیں جن کی خدمات دوسرے لوگوں کے لئے وقف ہوتی ہیں۔ خاص کر مظلوم طبقات کے لئے جن کی زندگی کا مشن ظلم و زیادتی اور غیر انسانی طبقاتی سماج کو بدلنے کے لئے جدوجہدہوتا ہے وہ لوگ غیر طبقات سماج قائم کرنے کے لےے اپنی جان تک قربان کردیتے ہیں ۔ان کے نزدیک یہی عبادت ہوتی ہے، دنیا کے ایک فلاسفر کے نزدیک عبادت انسان کا وہ عمل ہے جو وہ اپنی ذات سے ہٹ کر دوسرے لوگوں کی بھلائی کے لئے کام کرتا ہے، برصغیر کی تاریخ کے عظیم ہیرو اور انقلابی کا نام بھگت سنگھ شہید ہے
برصغیر کی جدوجہد آزادی کا ہیرو۔ بھگت سنگھ سوشلسٹ انقلاب کا حامی تھا۔ طبقات سے پاک برابری کی سطح پر قائم ہندوستانی معاشرہ چاہتا تھا۔ ضلع لائل پور کے موضع بنگہ میں پیدا ہوئے۔ کاما گاٹا جہاز والے اجیت سنگھ ان کے چچا تھے۔ جلیانوالہ باغ قتل عام اور عدم تعاون کی تحریک کے خونیں واقعات سے اثر قبول کیا۔ 1921ء میں اسکول چھوڑا.
اور نیشنل کالج میں تعلیم شروع کی۔ 1927ء میں لاہور میں دسہرہ بم کیس کے سلسلے میں گرفتار ہوے اور شاہی قلعہ لاہور میں رکھےگیے۔ ضمانت پر رہائی کے بعد نوجوان بھارت سبھا بنائی اور پھر انقلاب پسندوں میں شامل ہوگیے۔ دہلی میں عین اس وقت، جب مرکزی اسمبلی کا اجلاس ہو رہا تھا انھوں نے اور بے کے دت نے اسمبلی ہال میں دھماکا پیدا کرنے والا بم پھینکا۔ دونوں گرفتار کرلیے گئے۔ عدالت نے عمر قید کی سزا دی۔
لاہور کے سینٹرل جیل کے کمرۂ عدالت میں ان پر مقدمہ چلایا گیا۔ بھگت سنگھ اور دت اس سے قبل اسمبلی بم کیس میں سزا پا چکے تھے۔ مقدمہ تین سال تک چلتا رہا۔ حکومت کی طرف سے خان صاحب قلندر علی خان اور ملزمان کی طرف سے لالہ امرد اس سینئر وکیل تھے۔ بھگت سنگھ اور سکھ دیو کو سزائے موت کا حکم دیا گیا اور 23 مارچ، 1931ء کو ان کو پھانسی دے دی گئی۔ فیروز پور کے قریب دریائے ستلج کے کنارے، ان کی لاشوں کو جلا دیا گیا۔ بعد میں یہاں ان کی یادگار قائم کی گئی۔
عوام کی آزادی اور نجات کے انقلابی ہیرو بھگت سنگھ اور اس جدوجہد میں شریک اس کے کامریڈوں سکھ دیو تھاپر اور شیوا رام راج گرو کو لاہور سینٹرل جیل میں تختہ دار پرلٹکا دیا گیا تھا۔بھگت سنگھ، سکھ دیو، راج گرو، چندر شیکھر آزاد، بی کے دت اور دیگر نوجوان انقلابیوں کے جرات مند کارناموں نے پورے برِ صغیر میں محکوم عوام کو جھنجوڑ کر رکھ دیا،
گاندھی اروِن معاہدہ19 مارچ 1931ء کو طے پایا جس میں تیج بہادر سپرو اوردیگر نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ عوام میں اس معاہدے کے خلاف شدید نفرت اور غصہ تھا کیونکہ اس میں بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کو نظر انداز کر دیا گیا تھا۔ کانگریس کے اہم رہنما ڈاکٹر سبھاش چندر بوس نے انتہائی غصے کے عالم میں کہا کہ’’ہمارے اور برطانویوں کے درمیان خون کا ایک دریا اور لاشوں کا ایک پہاڑ کھڑا ہے۔ گاندھی کی جانب سے کیے گئے سمجھوتے کو ہم کسی صورت قبول نہیں کر سکتے۔‘‘
گاندھی اور اروِن کی ملاقات کے دن بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں نے وائسرائے کو ایک خط بھیجا۔ رحم کی اپیل کی بجائے انہوں نے جنگی قیدیوں جیسے سلوک اور پھانسی کی بجائے گولی کے ذریعے موت کا مطالبہ کیا۔ بعد ازاں کراچی میں ہونے والی آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کے اجلاس میں یہ نعرہ لگتا رہا کہ ’’ گاندھی کے معاہدے نے بھگت سنگھ کو مار ڈالا‘‘۔
بھگت سنگھ کی شہادت کی کئی دہائیوں بعد ہندوستان اور پاکستان میں منظرِ عام پر موجود دانشوروں اور سیاسی اشرافیہ نے اس کی میراث کو مسخ کر دیا ہے۔ پاکستان میں ماضی پرست ریاستی قوتوں اور قدامت پرست اشرافیہ نے اسے ’کافر‘ قرار دے کر اس کے حقیقی نظریات پر پردہ ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ ہندوستان میں اس کے تشخص کو ایک حریت پسند قوم پرست تک محدود کر دیا گیا ہے اور اس کے سوشلسٹ اور انقلابی کردار کو داغدار اور مسخ کیا گیا ہے۔
وہ انقلابی نوجوان جولاکھوں کروڑوں دلوں کی دھڑکن اور جس کی قربانی ہر نسل کے لوگوں میں ایک جوش و جذبہ پیدا کرنے کامحرک ہے اور جس نے نہ صرف ہندوستان بلکہ پورے بر صغیر کو انگریزوں کے شکنجہ غلامی سے آزاد کرانے کی جدوجہد میں تختہ دار کو اپنی آخری منزل بنا لیا تھا اسے آج تک وہ درجہ حاصل نہیں ہوسکا جس کا وہ صدفیصد مستحق تھا۔
بھگت سنگھ ویر جوان جس نے زندگی کی صرف24بہاریں دیکھیں لیکن اتنی مختصر زندگی میں بھی وطن کی خاطر کارہائے نمایاں انجام دینے کے بعد جان کی بھی قربانی دے دی
جنوبی ایشیا کے ان حکمران طبقات نے سماج کو تاراج اور کروڑوں عوام کو برباد کر ڈالا ہے۔ یہ مجبور طبقات استحصال، سامراجی لوٹ مار، مصائب،غربت اور بیماری کے ہاتھوں تباہ ہو گئے ہیں۔ نئی نسلوں کی یہ تاریخی ذمہ داری ہے کہ بھگت سنگھ کی انقلابی میراث کو پھر سے تلاش کرتے ہوئے اس مقصد کی تکمیل کریں جس کے لئے وہ جیا، لڑا اور اپنی جان قربان کی۔
28 ستمبر 1907 کو لائل پور (پنجاب پاکستان) میں پیدا ہونے والا نام بھگت سنگھ جس کو مذہب سکھ مت رکھنے کی وجہ سے ہماری تاریح میں جگہ نہیں دی گئی۔ جیسا کہ ہندوستان نے ٹیپو سلطان کو مسلمان ہونے کی بنیاد پر تاریخ میں جگہ نہیں دی۔
بھگت سنگھ نے جس خاندان میں آنکھ کھولی وہ انگریز راج کے خلاف ہر محاز پر کھڑی رہنے والی فیملی تھی۔ سنگھ کی پیدائش اُسی دن ہوئی جب اُن کے والد، اور دو چچا انگریز قید سے رہا ہو رہے تھے، جس کی وجہ سے خاندان میں ان کو خوش قسمتی کا ستارہ سمجھا جانے لگا۔ ایک آزادی پسند گھرانے میں پیدائش کا فائدہ یہ ہوا کہ بھگت سنگھ کے اندر بغاوت اُس کے خون اور تربیت کا حصہ بن گئی۔ جوں جوں وقت گزرا حالات نے رخ بدلا، سنگھ کی آنکھ نے گہرائی محسوس کرنے کا ہنر سیکھا اور سنگھ مارکس کے خیالات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے میدان میں کود پڑا۔ایک حقیقی آزادی کے حصول اور ایک اصل انقلابی کی طرح کام کرنے لگا۔سترہ سال کی عمر میں پنجاب میں”زبان کے مسئلے”پر مضمون لکھ کر مضمون نگاری میں انعام حاصل کیا۔جس کے باعث سترہ سال کی ہی عمر میں ایک عظیم مفکر کے طور پر جانے لگے۔
ساؤنڈر کا قتل ایک ریلی میں ہنگامے کے دوران سنگھ نے کر دیا کیونکہ ساؤنڈر برطانیہ کے ہرادل دستے کا اہم جُز تھا اور ساتھ ہی ساتھ بہت سے انقلابیوں کا قاتل بھی تھا۔جن میں سوفہرست لالہ لاجپت رائے کا نام آتا ہے۔ سانڈر نے لالہ لاجیت کو شہید کیا تھا جو کہ اُس وقت کہ ایک مقبول عوامی راہنما تھے۔لالہ لاجیت کو بھگت سنگھ اپنا اُستاد مانتا تھا۔اِسکے قتل کے بعد انہوں نے ساؤنڈر کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور انقلابیوں کے قاتل ساؤنڈرس کو جہنم وصال کر دیا۔اُس کے قتل کے بعد سنگھ کو یقین ہو چکا تھا کے اس کی زندگی کا سورج غروب ہونے والا ہے۔ سنگھ باقی زندگی میں بہت سے کام جلدی جلدی پر کم سے کم نقصان پر کرنا چاہتے تھے۔
ساؤنڈر کے قتل کے بعد عوام میں بھی جوش و خروش پایا گیا جس کو سنگھ نے ضائع نہیں ہونے دیا اور عوام کو ایک آزادی کی راہ دیکھلائی۔1929 کو اپنی آواز کو بلند و بالا سامراج کے قلعوں تک پہنچانے کے لئے غیر مہلک بم مرکزی مجلس مقننہ میں پھینکے۔ جس کا مقصد ”انقلاب زندہ باد اور سامراجیت مردہ باد”کے نعرے کو تقویت پہنچانا تھا۔ اسی دوران ان پر عدالت میں مقدمہ چلا اور ان کو ساؤنڈر قتل کیس میں پھانسی کی سزا ہوئی۔ مزے کی بات یہ ہیکہ سنگھ اور اس کے ساتھیوں نے مقدمہ سے بائیکاٹ کر لیا تھا اور یہ عدالت کا فیصلہ یک طرفہ فیصلہ تھا جسکی قانونی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ جس کو مسلط کیا گیا تھا۔
تمام مجسٹریٹ نے پھانسی کی سزا دینے سے انکار کر دیا تھا پھر محمد نواب قصوری کو اعزازی اختیارات دے کر دستخط لیئے گئے اور یوں 24مارچ صبح چھ بجے کو پھانسی کا فیصلہ ہوا جس کو سامراجیت نے عدالتی حکم کو پسِ پشت ڈالا اور عالمی پھانسی کے قانون کو توڑ کر 23مارچ کی شام سات بجے ہی پھانسی دے دی گئی۔
اس معاملے میں 23 مارچ کی اہمیت اس لئے ہے کہ 23 مارچ 1931 وہ تاریخ ہے جب بھگت سنگھ کو لاہور میں پھانسی پہ لٹکا دیا گیا تھا۔
بھگت سنگھ ایک سندھو جٹ سردار ہرکشن سنگھ کے گھر27 ستمبر1907 ءکو پیدا ہوئے۔ ان دنوں یہ علاقہ کسان بغاوتوں کامرکز تھا اپنے دیس سے محبت اور پیار کا عشق سمندر اس کی رگ رگ میں رچ بس چکا تھا۔ جب وہ پیدا ہوا تو اس کا باپ انگریزوں کی قید میں تھا۔ اس کے دادا نے بھی آزادی کی جنگ لڑی تھی۔ غلامی سے نفرت اور آزادی سے محبت ان کے خاندان کا ورثہ تھا۔ بھگت سنگھ کا چچا اجیت سنگھ، پگڑی سنبھال جٹا، تحریک کا لیڈر تھا جس کو انگریز سرکار نے تحریک کا حصہ بننے پر کالا پانی کی سزادی۔ اجیت سنگھ نے حیدر رضا کے ساتھ مل کر ایک تنظیم آرگنائز کی تھی۔
بھگت سنگھ نے ہوش سنبھالا تو ایسے واقعات رونما ہوئے جس سے اس کے دل و دماغ آتش فشاں بن گئے۔ کرار سنگھ سرابھا جس کو صرف 19 سال کی عمر میں پھانسی پر چڑھادیا گیا جو بھگت سنگھ کا آئیڈل تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جب بھگت سنگھ پہلی بار گرفتا ر ہوئے تو ان کی جیب سے اس کی تصویر برآمد ہوئی جو وہ ہر وقت اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ وہ بھگت سنگھ کا ہیرو بن گیا۔ 13اپریل1919 کا سانحہ جلیانوالہ باغ اس کو امرتسر لے گیا۔ انگریز سرکار نے حریت پسند وں کی جدوجہد کو کچلنے کے لئے Rowolt Actبنایا ۔یہ قانون اسی جسٹس کے نام پر تھے ۔اس کے تحت پکڑے جانے والوں کو اپیل کا حق نہ تھا ۔ جلیانوالہ باغ امرتسر میں گولڈ ن ٹمپل سے کچھ ہی دور ہے۔
لگ بھگ 5 ہزار راﺅنڈ فائر کےے گئے جس کے نتیجے میں500 سے زائد انسان مارے گئے ۔ان میں476 کی لاشوں کی شناخت ہوگئی، 15 کے چہرے فائرنگ کے بعد شناخت نہ ہوسکے جب عوام نے کنوﺅں میں چھلانگ لگائی تو ان ڈوبتے لوگوں پر بھی فائر کےے گئے۔ جلیانوالہ باغ کا واقعہ برصغیر میں بسنے والے انسانوں کے لےے مشعل راہ ثابت ہوا کہ ان کی منزل صرف آزادی ہے اور اس کی قیمت موت ہے ۔
بھگت سنگھ جلیانوالہ باغ پہنچا تو اس نے حریت پسندوںکے خون سے رنگین مٹی کو چومتے ہوئے قسم کھائی کہ وہ یہ فرض ضرور اتارے گا۔ وہ وہاں سے لوٹا تو یہ مٹی اس کے ساتھ تھی۔اسکول سے بھگت سنگھ کالج پڑھنے لگا۔ لوگوں میں بہتے باغی خون اور ماحول میں رچی بسی بے انصافی نے اسے سچا انقلابی بنا دیا تھا۔ انقلاب کے رستے پر چلتے ہوئے اس کی دوستی سکھ دیو اور راج گرو سے ہوئی ۔پھر تینوں چندر شیکر آزاد سے ملے ۔ان ملاقاتوں کے بعد بھگت کے دل و دماغ میں طوفان آگیا ۔بس پھر اس نے اپنی منزل کا راستہ اپنا لیا۔
انقلاب کا راستہ بھگت سنگھ نے خود چنا تھا ۔ بھگت سنگھ کو اپنی زندگی سے زیادہ عزیز انگریزوں سے آزادی حاصل کرنا تھی۔اس کی سوچ انقلابی تھی، اس کا کہنا تھا کہ’’میں انقلاب کی علامت کو داغ دار نہیں ہونے دوں گا ۔ میرے اصولوں کے سامنے زندگی کی کوئی حیثیت نہیں ہے‘‘ ۔ نوجوان انقلابی بھگت سنگھ انگریز سامراج سے آزادی کی کوششوں کے دوران کئی بارگرفتار کیا گیا لیکن وہ کسی بھی قیمت پر اپنے نظریات کو بدلنے سے انکاری تھا۔ انگریز حکومت نے بھگت سنگھ کو تحریک آزادی ختم کرنے کے عوض راجباہ پاؤلیانی جڑانوالہ کے تمام چکوک کی زمین دینے کی پیشکش کی تھی مگر اس نے یہ کہہ کر ٹھکرا دیا کہ “زمین ہماری ہے تم کون ہو جو ہمیں دیتے ہو۔ تم برصغیر کو چھوڑ دو۔ میری جدوجہد لوگوں کے حقوق اور دھرتی کی آزادی کے لیے ہے اپنے یا اپنے خاندان کے مفاد کے لیے نہیں”۔
بھگت سنگھ ہر عہد کے نوجوانوں کا ہیرو رہے گا ۔بھگت سنگھ شہید ہماری تاریخ کا سرمایہ ہیں ان پر جتنا ناز کیا جائےکم ہے۔
تاریخ کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ کوئی مجسٹریٹ بھگت سنگھ کی پھانسی کے وقت وہاں کھڑا ہونے اور موت کے سرٹیفیکٹ پر دستخط کرنے کےلیے تیار نہیں تھا ۔ ایک نوجوان آنریری مجسٹریٹ نے یہ کام کیا ، اس مجسٹریٹ کا نام نواب محمد احمد قصوری تھا۔ نواب قصوری وہی شخص ہے، جو اپنے عہد کے ایک اور بھگت سنگھ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کا سبب بنا ۔ نواب قصوری کو اسی جگہ قتل کیا گیا تھا ، جہاں بھگت سنگھ کو پھانسی ہوئی تھی ۔ اس جیل کو بعد ازاں توڑ دیا گیا تھا اور آج وہاں لاہور کا شادمان چوک ہے ۔
برِصغیر کی آزادی تک بہت سے لوگوں نے اپنی پوری زندگی سامراجی قوتوں کے خلاف لڑتے ہوئے گزار دی۔ مگر ہم نے اپنی تاریخ میں ایسے لوگوں کو محض ان کے مذہب و عقائد کی بنا پر فراموش کر دیا۔ ہمارے نصاب و تاریخ میں ایسے بے مثال غیر مسلم جانثاروں کا ذکر تک نہیں ملتا جنہوں نے بلا امتیاز مذہب و نسل اپنے خونِ جگر سے آزادی و انقلاب کے چراغ روشن کئے اور جھومتے گاتے ہوئے پھانسی کے پھندوں پر جھول گئے۔ مادرِ وطن کے انہی شیر دل سپوتوں میں ایک نام بھگت سنگھ کا ہے جسے آزادی کے لئے لڑنے کی پاداش میں اسی مارچ کے مہینے میں تختہء دار پر لٹکایا گیا۔
زنداں میں شہیدوں کا وہ سردار آیا
شیدائے وطن پیکر ایثار آیا
ہے دار و رسن کی سرفرازی کا دن
سردار بھگت سنگھ سردار آیا
بھگت سنگھ آج بھی برِ صغیر کی تحریکِ آزادی کی ایک ایسی اٹل سچائی ہے جسے کسی طور بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ ایک اچھے خاصے کھاتے پیتے زمیندار گھرانے کا تعلیم یافتہ اور خوبرو نوجوان جو سامراجی گماشتوں کا آلہ کار بن کر زندگی کی رنگینیوں اور حکومتی مراتب سے لطف اندوز ہو سکتا تھا۔ لیکن اس سرپھرے نوجوان نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دیتے ہوئے ایک کٹھن راستے کا انتخاب کیا اور اپنے وطن کی آزادی کے لئے استعماری قوتوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے سے بھی گریز نہ کیا۔پنجاب کا یہ ہیرو شیر دل جوان جسے دنیا بھگت سنکھ کہتی ہے تاریخ میں امر ہوگیا ۔
رچنا دو آب، دو دریاؤں راوی اور چناب کے بیچ آباد یہ علاقہ دُلا بھٹی اور بھگت سنگھ جیسے سپوتوں کا وارث ہے۔ ایک لوک راج کا بانی اور دوسرا وہ جو کسی مخصوص مذہب، رنگ اور نسل کے لیے نہیں بلکہ مٹی سے جُڑے رشتوں اور اپنے ہم وطنوں کو غلامی سے اوپر اُٹھنے کا سبق دیتا “انقلاب زندہ باد” کا نعرہ لگاتا سولی چڑھ گیا۔ بہرحال ہم نے ان دونوں ہی کو فراموش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ کسی کو لٹیرا کہہ دیا اور کسی کے نام کے ساتھ لگا سنگھ تحریک آزادی میں اس کی حصہ داری مشکوک بنا گیا۔
ضرورت ہے کہ اپنی مٹی سے جڑے لوگوں کی جدوجہد، اس دھرتی کی ثقافت اور ست رنگ داستانوں کو اگلی نسل تک درست طریقے سے پہنچایا جائے۔ معاشرے کو لسانیت،علاقوں اور رنگ نسل کی تقسیم در تقسیم اشتعالی کیفیت سے نکالنا ہے تو آگے بڑھنے والوں کا راستہ مت کاٹیے۔
بھگت سنگھ کی تمام انقلابی جدوجہد کو تشدد پرستی یا دہشت گردانہ اقدامات سے منسوب کرنا پرلے درجے کی لاعلمی، دھوکے بازی اور دانشورانہ منافقت ہے۔
یہاں شہید شاہ عنایت سے لیکر بھگت سنگھ، حسن ناصر اور نذیر عباسی جیسے عوام دوست اور انسان کی محکومی، غلامی اور ظلم کے خلاف اندرونی اور بیرونی ظالم حکمران اشرافیہ طبقوں سے بے جگری اور بہادری سے انتھک لڑائی لڑنے والے سورما پیدا ہوئے۔ ان کی جدوجہد اور جانوں کا نذرانہ اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ ظالم اور مظلوم طبقوں کے درمیان آزادی اور برابری کی جنگ جاری ہے۔ جو کوئی بھی اس طبقاتی جنگ کی موجودگی سے انکار کرتا ہے وہ انسانی تاریخ اور معاشرے کی بنیادی حقیقت سے انکار کا مرتکب ہوتا ہے۔ اور جو کوئی بھی یہ سمجھتا ہے یا اس بات کا پرچار کرتا ہے کہ انسانی نابرابری، ناانصافی، ظلم و استحصال جیسی سماجی بیماریاں ظالم حکمران طبقے اور مظلوم عوام کے درمیان محض گفت و شنید، بحث مباحثے، مزاکرات و مکالمے، برداشت اور رواداری اور امن پسندی سے ختم ہو سکتی ہیں وہ صرف شیخ چلی کے خواب دیکھتا ہے۔
میں بھگت سنگھ کو یہ نہیں بتا سکتا کہ اس کی جنم بھومی کے حکمران لاہور میں اس چوک کو اس سے موسوم کرنے پر آمادہ نہیں جہاں کبھی اسے پھانسی دی گئی تھی۔ کیوں کہ اس کا نام بھگت سنگھ تھا۔ بھگت سنگھ جو دھرم کی تفریق سے کہیں اونچا ہے۔ لیکن یہاں شہروں کے نام ایبٹ آباد ، جیک آباد اور جیمس آباد ہوسکتے ہیں لیکن بھگت سنگھ پور نہیں ، کیونکہ اس کا تعلق حکمران انگریز طبقے سے نہیں تھا، وہ ساتھ سمندر پارسے نہیں آیا تھا بلکہ اس کا تعلق اس دھرتی ، یہاں کے محنت کش عوام سے تھا۔
نئی نسلوں کی یہ تاریخی ذمہ داری ہے کہ بھگت سنگھ کی انقلابی میراث کو پھر سے تلاش کرتے ہوئے اس مقصد کی تکمیل کریں جس کے لئے وہ جیا، لڑا اور اپنی جان قربان کی۔
سرجو اٹھ جاتے ہیں وہ جھکتے نہیں للکار سے
اور بھڑکے گا جو شعلہ سا ہمارے دل میں ہے
جاں ہتھیلی پر لیے لو بڑھ چلے ہیں یہ قدم
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
تحریر ۔۔۔آفتاب احمد













