بادشاہ اور زنجیر عدل، شاہین اشرف علی، کویت

0
223

پرانے زمانے اور قدیم وقتوں میں ھم اپنے بزرگوں سے ان نیک اور رحم دل بادشاہوں کے سبق آموز قصے سنتے تھے کہ کس طرح راتوں کو بادشاہ اور وزیر باتدبیر بھیس بدل کر اپنی رعایا کی خبر گیری کرتے تھے بزرگوں گیے تو ساتھ یہ خوبصورت روایات بھی ختم ھوگی مگر اب بھی سوشل میڈیا پر ایسا کوی واقعہ پڑھ کر دل کو اطمیعنان ھوتا ھے کہ بادشاہ امیر حاکم اپنی رعایا کی خبر گیری کرتے ھیں

ان دنوں امارات کے براڈ کاسٹر یعقوب العوضی کا قصہ عربی اخبار و سوشل میڈیا پر ھے

عجمان ریڈیو پر ایک مقامی امارات کے شہری نے ایک پروگرام میں براڈ کاسٹر کو کال کرکے شکوہ کیا مہنگائ کا

دن بدن زندگی مشکل سے مشکل ترین ھو رھی ھے انکے نو بچے ھیں مگر پروگرام کے براڈ کاسٹر اس کالر کا مذاق اڑاتا رھا

دبئی کے نائب رئیس الدولۂ و حاکم دبیئ نے یہ سن کر 24 گھنٹے کے اندر اندر اس ضرورت مند کی فوری امداد کا حکم دیا اور اس براڈ کاسٹر کو برطرف کر دیا گیا کہ اس پروگرام میں اس غریب کی بات کا مذاق اڑایا

میرے دل سے دعا نکلی کہ کاش ھمارے پاکستان میں بھی عدل و انصاف کا بول بالا ھو
زندگی جرم نہ ھو
زندگی عذاب نہ ھو

ھمارے حاکم جو محلات میں رھتے ھیں جن کا پانی تک بیرون ملک سے آتا ھے جن کے شبستانوں میں کبھی اندھیرا نہیں ھوتا جن کو بچے کی تعلیم کے لیے کوی جدوجہد نہیں کرنی پڑتی
جو رعایا کو غلام سمجھتے ھیں
کاش حاکم دبیئ سے سبق حاصل کریں اور رعایا کی مدد کر کے دعایئں لیں

شاہین اشرف علی، کویت

SHARE

LEAVE A REPLY