سپریم کورٹ کی ہدایت پر تشکیل دیئے گئے واٹر کمیشن نے مینیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ خالد محمود شیخ کو ایک گھنٹے میں کراچی میں پانی کا نظام ٹھیک کرنے کا حکم دے دیا۔

سندھ ہائیکورٹ میں واٹر کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم نے شہر میں پانی کی کمی کے معاملات اور دیگر کے حوالے سے سماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر کمیشن نے ایم ڈی واٹر بورڈ خالد محمود شیخ کے پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے انہیں فوری طور پر طلب کیا۔

کچرا اٹھانے والی چینی کمپنی کی ادائیگی روکنے کے معاملے پر سالڈ ویسٹ مینیجمنٹ بورڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر طحہٰ فاروقی نے کمیشن کو بتایا کہ چینی کمپنی کا جنوری اور فروری کا بل بھی واجب الادا ہے جس پر کمیشن نے استفسار کیا کہ ہم نے سابقہ بل روکنے کا حکم نہیں دیا تھا بلکہ صرف آئندہ کیلئے یہ حکم تھا۔

انہوں نے ایم ڈی سالڈ ویسٹ مینیجمنٹ بورڈ کو حکم جاری کیا کہ جو متنازع رقم ہے وہ تصدیق کے بعد ادا کریں۔

کمیشن نے چینی کمپنی کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ نے ایک سال سے ایک ہزار ملازمین کے بغیر کام چلایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ سے ان ملازمین کی تنخواہ کی رقم منہا کی جائے گی کیونکہ معاہدے کے مطابق آپ کو ان ملازمین کو تنخواہیں دینی تھیں اور یہ تباہی اس لیے ہورہی ہے کہ آپ کے پاس ملازمین کم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہاں بیٹھ کر آپ چین سے نئی چیزیں لارہے ہیں جبکہ پہلے آپ کو اپنے ملازمین مکمل کرنے چاہیے۔

کمیشن نے ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن (ڈی ایم سیز) کے غیر حاضر ملازمین کی تنخواہیں روکنے کا حکم جاری کیا اور ایسے ملازمین کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی بھی ہدایت کی۔

کمیشن نے چینی کمپنی سے واجب الادا رقم میں سے طے شدہ تعداد سے کم ملازمین رکھنے پر بھی کٹوتی کرنے کا حکم جاری کیا۔

بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ میں ہونے والی واٹر کمیشن کی سماعت کے دوران ایم ڈی واٹر بورڈ پیش ہوئے۔

ایم ڈی واٹر بورڈ نے کمیشن کو بتایا کہ پانی کی قلت کی وجہ سے کچھ مسائل ہیں جبکہ کے الیکٹرک کی جانب سے بھی بجلی کم مل رہی ہے، ہمیں لوگوں کی پریشانی کا احساس ہے۔

جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم نے ایم ڈی واٹر بورڈ سے استفسار کیا کہ ’آپ کو گالیاں پڑ رہی ہیں کچھ تو خیال کریں، کہیں پانی آرہا ہے، کہیں نہیں آرہا جس پر ایم ڈی واٹر بورڈ نے کمیشن کو کہا کہ جہاں پانی آرہا ہے انہیں تو شکر ادا کرنا چاہیے‘۔

کمیشن نے ایم ڈی واٹر بورڈ کے بیان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ ’آپ کیسی بات کررہے ہیں آپ احسان کررہے ہیں پانی دے کر؟ پانی عوام کا حق ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک 15، 20 وال مین اندر نہیں جائیں گے معاملہ ٹھیک نہیں ہوگا، یہاں طاقتور کو پانی مل رہا ہے مگر غریبوں کو نہیں مل رہا۔

جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم نے ایم ڈی واٹر بورڈ کو حکم جاری کیا کہ آج ہی کراچی میں پانی کی تقسیم کا مسئلہ ٹھیک کریں ورنہ آدھی رات کو دورہ کروں گا اور آپ کو لے کر ہائڈرنٹس پر جاؤں گا اور وہیں سوالات کروں گا۔

کمیشن نے ایم ڈی واٹر بورڈ کو ہدایت جاری کی کہ ایک گھنٹہ میں نظام ٹھیک کریں۔

جسٹس (ر) امیر مسلم ہانی نے ایم ڈی واٹر بورڈ کو ہدایت کی کہ جہاں جہاں پانی نہیں پہنچتا وہاں قانون کے مطابق آپ لوگوں کو ٹینکر کے ذریعے پانی پہچائیں۔

سماعت کے دوران میئر کراچی وسیم اختر بھی کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔

کمیشن نے میئر کراچی سے استفسار کیا کہ سالڈ ویسٹ مینیجمنٹ بورڈ کے حوالے سے آپ کی دلچسپی نظر نہیں آرہی ہے، آپ نے وعدہ کیا تھا فاطمہ جناح روڈ بن جائے گا تاہم وہ اب تک نہیں بنا۔

میئر کراچی نے کمیشن کو بتایا کہ فاطمہ جناح روڈ زیر تعمیر ہے، سیوریج کی لائنوں کا مسئلہ تھا اس لیے تاخیر ہوئی، نئے پائپ ڈال رہے ہیں تاکہ مسئلہ مستقل حل ہوجائے۔

کمیشن نے میئر کراچی سے روڈ کی تکمیل کے لیے ٹائم فریم طلب کیا، اس کے علاوہ بلدیہ ٹاؤن اور اورنگی ٹاون میں پانی کے معاملے پر شہریوں کی شکایات بھی سنی گئیں۔

ایک شہری نے بتایا کہ واٹر بورڈ نے بلدیہ ٹاؤن میں تمام تر وال مین پرائیوٹ رکھے ہوئے ہیں، جو ایک سال میں صرف 12 گھنٹے پانی دیتے ہیں۔

کمیشن نے ایم ڈی واٹر بورڈ کو شہریوں کے مسائل سننے کی ہدایات جاری کیں۔

کمیشن میں واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی (واسا) کے ایڈیشنل ایم ڈی بھی پیش ہوئے۔

کمیشن سربراہ امیر مسلم ہانی نے ان سے استفسار کیا کہ آپ نے نا اہل لوگوں کو ٹھیکہ دیا ہے مجھے ٹھیکیدار کا پروفیشنل بیک گراؤنڈ بتائیں اور بتائیں کہ کس چیز کی مجبوری تھی جو آپ نے اس کو ٹھیکہ دیا۔

ایڈیشنل ایم ڈی واسا نے کمیشن کو بتایا کہ اگر ہم وہ ٹینڈر اس کو نہیں دیتے تو پھر دوبارہ ٹینڈر کرنا پڑتا۔

کمیشن نے ہالہ ناکہ حیدرآباد پر جاری تمزیل کنسٹریکشن کمپنی کا کانٹریکٹ منسوخ کرنے حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس کا کوئی بیک گراؤنڈ نہیں ہے۔

واٹر کمیشن میں میئر کراچی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پانی کراچی کا اہم مسئلہ ہے، حکومت سندھ کو پانی کے مسئلے کو فوری حل کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومتی سطح پر معاملات حل نہ ہونے کے باعث عدالتیں معاملات دیکھ رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں پانی کی تقسیم کا کوئی نظام نہیں ہے جبکہ گرمی کے ساتھ ساتھ بجلی اور پانی کے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے دورہ کراچی کے دوران ان سے ملاقات کر کے وفاق سے فنڈز جاری کرنے پر زور دیا تھا تا کہ بجلی اور گیس کے مسائل حل ہو سکیں۔

واٹر کمیشن کی کارروائی 17 اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے گجر نالہ اور پچر نالہ کے کنسلٹنٹ کی تعیناتی پر چیف سیکریٹری سے منگل کو رپورٹ طلب کرلی گئی

SHARE

LEAVE A REPLY