چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے خیبر پختون خوا حکومت کی کارکردگی کوغیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو عدالت میں طلب کرلیا، سانحہ آرمی پبلک اسکول کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آب دیدہ ہوگئے ۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے پشاور کے دو روزہ دورہ کے دوران سپریم کورٹ پشاور رجسٹری میں مختلف مقدمات کی سماعت کی، خیبر پختونخوا میں عوام کو تعلیم ، صحت اور پینے کے صاف پانی کی عدم فراہمی پر وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کو عدالت طلب کیا۔

چیف جسٹس نے خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور ریمارکس میں کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کے بہت چرچے سنے تھے، یہاں ایسا کچھ دیکھنے کو نہیں ملا، جس پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ حکومت نے آگے دوڑ پیچھے چھوڑ والی پالیسی نہیں اپنائی، اسپتالوں کی حالت بہتر بنائی، نظام تعلیم کو بہتر بنایا۔

سانحہ آرمی پبلک اسکول کیس کی سماعت کے موقع پر شہداء کے والدین جب چیف جسٹس سے انصاف کی اپیل کے دوران روئے اور بین کیا تو چیف جسٹس بھی آبدیدہ ہوگئے اور ایک ہفتہ کی مہلت مانگی۔

چیف جسٹس نے غیر متعلقہ افراد کو سیکورٹی فراہم کرنے کا بھی نوٹس لیا اور آئی جی پی خیبر پختونخوا صلاح الدین محسود کو حکم دیا کہ رات تک ایسے افراد سے سیکورٹی واپس لے لی جائے۔

چیف جسٹس نے جیلوں کے قیدیوں کو اسپتالوں میں رکھنے کا بھی نوٹس لیا اور آئی جی جیل خانہ جات کو حکم دیا کہ انھیں رپورٹ پیش کی جائے، اسپتالوں کے فضلہ ٹھکانے لگانے کے خلاف کیس میں چیف جسٹس نے حکم صادر کیا کہ مناسب انتظامات کیے جائیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY