شاعر ، ادیب ،محقق ،صحافی ،مرثیہ گو،صفدر ہمدانی میرے استاد
صفدر ہمدانی کا نام کسی کی آنکھ سے پوشیدہ نہیں ۔معروف شاعر،مرثیہ نگار ،ادیب ،صحافی ،ریڈیو براڈ کاسٹر، عالمی اخبار آن لائن کے مدیر اعلیٰ صفدر ھمدانی صاحب لاہور کے ایک علمی ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ایف سی کالج سے گریجوئشن کے بعد جامعہ پنجاب سے صحافت میں ایم ایے کیا اور 1973میں ریڈیو پاکستان سے بطور پروڈیوسر وابستہ ہوئے ۔
لاہور ریڈیو اور ریڈیو اسلام آباد کے علاوہ پانچ برس تک پاکستان براڈکاسٹنگ اکیڈیمی میں نئے آنے والے پروڈیوسروں کی تربیت بھی کی ۔ چار سال تک ریڈیو جاپان سے وابستہ رہے،ریڈیو ہالینڈ میں بحی کچھ وقت گزارا لیکن بائیس برس کا طویل عرصہ بی بی سی لندن کی اردو سروس میں گزارے

farkhanda2

ایک شخص ایک نام اور کئی کام ۔۔۔ہزاروں کی تعداد میں شاگر د ایک ایسے مدرسے کا نام صفدر ھمدانی ہے ۔لفظ بے شمار مگر قلم کی نوک پر دَم توڑتے ہوئے مجھے کبھی بھی کسی کے لیئے اظہار خیال کرتے مشکل نہیں لگی مگر آج اِس معتبر شخصیت کے لیے کچھ کچھ گھبراہٹ سی ہے کیا میں یا میرا قلم انصاف کر پائے گا ۔ادبی سفر کے پچاس سے ذائد عرصہ اور طویل سفر ۔۔۔پچاس یا ساٹھ کا ہندسہ چھوٹا مگر سفر طویل اور تھکا دینے والا ۔

صفدر ھمدانی صاحب بہت پیاری شخصیت کا نام دنیائے ادب میں تعارف کی ضرورت تو نہیں میں سب سے پہلے انکے ادبی سفر پر نگاہ ڈالنے اور اسکا ذکر کرنے سے پہلے چند لفظ ان سے اپنی ملاقات کے بارے گوش گزار کرنا چاہتی ہوں ۔میری اور ان کی ملاقات کا سفر زیادہ طویل تو نہیں اٹھ دس سال تو پلک جھپکتے ہی گزر جاتے ہیں ۔جب تک میں ان سے ملی نا تھی اس وقت تک تو ایک خوف ساتھ تھا ،انٹر نیٹ کی دنیا سوشل میڈیاکے پلیٹ فارم سے پہلے تھوڑی سی معلومات ان کے بارے میں تھی ۔باضابطہ روبرو ملاقات ایک پیاری دوست ،شاعرہ افسانہ نگار ،کالم نگار جو کہ اسٹریلیا میں مقیم ہیں ڈاکٹر نگہت نسیم اُن کی دو کتابوں کی رسم اجرا لندن میں منعقد ہو رہی تھی میں وہاں مدعو تھی ۔۔
صفدر ھمدانی صاحب وہاں موجود اس تقریب کی صدارت کر رہے تھے ۔۔ان کا کلام اور روبرو باتیں سننے کا اتفاق پہلی بار ہوا ۔ان کی بارعب ،گونج دار آواز کا ذکر تو سُنا تھا جب انہیں دیکھا اور سُنا تو کچھ حد تک میرا ڈر ختم ہو گیا ۔

farkhanda3

میں نے انہیں بہت پیار کرنے والی شخصیت پایا ۔اسی دوران میرے روحانی استاد خالد یوسف صاحب کا انتقال ہوا تھا ۔
ایسے میں خدا تعالیٰ نے مجھے ان کے بدلے بہت پیاری شخصیت سے متعارف کروایا ،میرے قلم کی آواز جو مدہم پڑنے لگی تھی ان کی حوصلہ افزائی سے پھر سے طاقتوار ہونے لگی ۔۔پھر میں نے انہیں اپنا استاد تسلیم کیا اِن کی پیاری شخصیت کا

ہر پہلو میں نے بخوبی دیکھا ۔ان کی قابلیت میرے قلم میں کبھی سما نہیں سکتی لاکھ کوشش بھی کروں ۔یہ ایسے تخلیقی لوگ ہوتے ہیں کائنات کو حسین سے حسین بناتے ہی چلے جاتے ہیں ۔۔۔ایک ایسے ہی مدرسے کا نام صفدر ھمدانی ہے جن کے لاتعداد شاگرد جنہوں نے ان سے استفہادہ اور مستفید ہوئے ۔

مجھے پہلے عالم و عارف کا مطلب معلوم نا تھا ،مجھے اپنے قلم کی طاقت بہت کمزور لگتی تھی پھر میری اکثر ان سے گفتگو ہونے لگی میں نے استاد اور شاگر د کا مطلب جانا جو لوگ سمجھتے ہیں کہ ان دو رشتوں میں ڈر ہوتا ہے میں نے غلط ثابت کیا ۔یہ تو نہایت پُرخلوص و عزت و احترام کا رشتہ ہے ۔۔دائروں ،نقطوں اور تلاش کی پکڈنڈیوں پر نکلنے کے لیئے کسی راہبر کی ضرورت پڑتی ہے مجھے ان میں یہ تمام صفتیں ملیں ۔میں نے اپنی شاعری کی اصلاح لیتے فخر محسوس کیا میرا سیکھنے کا عمل پھر سے تروتازہ ہو گیا۔

farkhanda4
ان کی شخصیت کے پہلو سے نظر ہٹاؤں تو ان کے ادبی سفر پر نگاہیں ٹھہر سی جاتی ہیں ۔

براڈ کاسٹر، صحافی تو ابھی جگہ مگر انکا شمار مرثیہ نگاروں میں بہت بلند مقام پر ہے ،بے شمار رباعیاں ،منقبت ، سلام اور غزل گو کمال کے ہیں ۔
ان کی غزلوں کا پہلا مجموعہ 1974میں کفن پر تحریریں لاہور سے شائع ہوا اور بعد ازاں مختلف تصانیف کی اشاعت (فرات کے آنسو) مرثیوں کا مجموعہ ،نور کربلا ،سفرنامہ تہران گرعالمِ مشرق کا جنیوا ، عطائے رضا شائع ہوا ۔انہوں نے ابتدا غزل سے کی مگر مرثیہ گوہی کو ہی چُن لیا ۔یوں تو ان کی ساری شاعری مولائے کائنات کے ذکر کرتے ہوئے قلبی گوشوں کو سکون و تقویت بخشتی ہے ۔وہ غزلیں ،سلام ،رباعیات بھی بے انتہا اچھی اور خوبصورت لکھتے ہیں ۔ہر مشکل صنف کا انتخاب کرنے میں کمال رکھتے ہیں ۔ان کی کچھ تصانیف پڑھنے کی سعادت مجھے نصیب ہوئی ہر بار ایک نئی فکر اور نئے زاویےکے ساتھ اِس سے مستفید اور محظوظ ہوتی گئی ۔

بلاشبہ پرانے اور جدید مرثیہ نگاروں میں صفدر ھمدانی کا مقام بلند ہے ۔شاہد ہی کوئی انکے کلام کا صحیح احاطہ کر پایا ہو ۔
میں بطور شاگر د جتنا جان پائی اتناہی عرض کرنے کی جسارت کروں گی ،شاعری ان کو ورثے میں ملی ۔میرا مشاہدہ یہی ہوا کہ ان کی شاعری باکمال اور عمدہ لفظوں کے انتخاب سے لبریز ،آسان تراکیب ۔تشبہات سے کام لیتے ہوئے گہرے معانی کو باآسانی بیان کرنا ،پڑھنے اور سننے والوں کی سماعتوں سے ٹکراتے ہوئے دل میں اُترجاتے ہیں ۔۔مثلاَ ایک رباعی میں استعمال کی گئی تشبیہات۔۔

خونِ اصغر سے فلک آج بھی رخشندہ ہے

صورتِ رنگ شفق خون بھی تابندہ ہے

کوئی بھی لیتا نہیں آج کہیں نام ِ یزید
ک
کو بکُو نام ِ حُسین ابن ِ علی زندہ ہے

ان کی اعلیٰ ظرفی یہ کہ شہرت پرستی سے ہمیشہ دور اور سچے تخلیق کار کی طرح خیالات میں مستغرق رہے انہوں نے بہت سے ایسے جذبوں اور احساسات کو شاعری کی زبان عطا کی جنہیں اِن سے قبل اِس قدر خوبصورتی سے کم ہی بیان کیا گیا ہے ،

انکا ہر کلام خاص طو ر پر ادب کا سرمایہ ہے ۔فکری سوچ سے لبریز شاعری میں خیال اور سوچ کا مختلف انداز منفرد تراکیب کے ساتھ یکجا ہو کر احساس کی شدت پیدا کرتا ہے ۔ایک بڑا شاعر انسان اور اسکے حالات کے ساتھ صرف ہمدردی کا اظہار نہیں کرتا بلکے وہ اپنی شاعری سے ہمارے دلوں میں ایسا پاکیزہ ہیجان پیدا کرتا ہے جو ہمیں بنی نوع انسان کے ساتھ مہر و محبت کے رشتوں کو اور بھی استوار کرنے لیئے آمادہ اور مستور کر دیتا ہے ۔۔۔

میں اپنے استاد محترم صفدر ہمدانی کو ایک شاعر ہی نہیں ایک مصور ،بڑا مجسمہ ساز پایا جو درد و احساس کو یک جا کرنے کی مہارت رکھتا ہے ۔۔ان کا اردو زبان وادب کے کئی دھاروں اور رویوں کا قربت سے مشاہدہ کیا ہے ،مشاعروں میں نہیں جاتے انکا کہنا ہے وقت کا زیاں ہے اس کے باوجود شعرو ادب کے لیئے اپنے ذہن کے دریچوں کو ہمیشہ کھلا رکھا اور زمانے کے حالات و معاملات سے نہ صرف واقف رہے ۔سرد و گرم حالات کا مقابلہ اپنے قلم سے نکلے لفظوں میں اِس کی تپش محسوس کی ۔انکے کلام سے قدم قدم پر تازہ امکانات کا سراغ ملتا ہے ،لفظوں میں بے پناہ گہرائی ،ہر رنگ میں ڈھالنے کا ہُنر رکھتے ہیں ۔

farkhanda5

میں کافی عرصے سے چاہتی تھی ان کے اور اپنے رشتے جو کہ محبت عزت میں بندھا معتبر سا رشتہ ان کی شخصیت اور انکے ادبی سفر کی کچھ نا کچھ روداد لکھوں ۔اکثر دیکھا گیا ہے جب ہمارے رشتے ہمارے ساتھ نہیں رہتے ۔داغ مفارقت دے جاتے ہیں تب ہم ان کی شان میں پُل باندھتے ہیں ۔ان کی زندگی میں چند لفظ ان کے لیئے لکھتے نہیں بعد میں صفحے کالے کرتے ہیں وہ کس کام کے ۔۔۔ایسا میرا سوچنا ہے ۔

farkhanda6

میں اپنے فرض میں پوری اُتری یا نہیں مگر اپنے دل سے کیا وعدہ ضرور پورا کر ڈالا ہے ۔۔۔ان کے لفظ شاعری کے سمندر میں زندگی کی حقیقت بن کر ہمیشہ تیرتے ،کبھی گوہر اور امید کی کرنوں میں روشن رہیں گے۔۔انشااللہ ۔بہت سی دعا کے ساتھ اللہ پاک انہیں صحت و تندرستی والی زندگی سے نوارے رکھے ۔۔

فرخندہ رضوی
ریڈنگ
برطانیہ

SHARE

LEAVE A REPLY