مہ پارہ جی سے ایک محبت وانسیت کا رشتہ ہے۔نصرت نسیم

0
1360

مہ پارہ صفدر سے ہمارے دوطرح کے رشتے ہیں۔ایک تو بہت دیرینہ جب اکلوتا پی ٹی وی سب کی آنکھوں کا تارا تھا۔تلاوت سے قومی ترانے تک تمام پروگرام زوق وشوق سے دیکھے جاتے۔
اردو خبر نامہ رات ٹھیک نوبجے نشر ہوتا۔بار بار خبروں کی جگالی اور نیوزبلیٹن کا کوئی رواج نہیں تھا۔اس لئے خبر نامے کابھی ڈرامے کی طرح انتظار کیا جاتا۔اور خبریں پڑھنے والوں کو بھی لوگوں کی محبت حاصل تھی۔
بہت سارے نیوز ریڈرز کے درمیان سر پر سلیقے سے دوپٹہ لئے موہنی سی نئ نیوز ریڈر سب کی توجہ کامرکز بن گئیں۔یہ مہ پارہ زیدی تھیں۔بہت خوبصورت لب ولہجے اور درست تلفظ کے ساتھ خبریں پڑھا کرتیں۔پھر وہ مہ پارہ زیدی سے مہ پارہ صفدر بن کر کچھ عرصے بعد ثریا شہاب کی طرح بی بی سی لندن چلی گئیں۔
مہ پارہ جی سے دوسرا رشتہ صفدر ہمدانی صاحب کے حوالے سے ہے۔کہ محترم صفدر ہمدانی وہ پہلے شخص ہیں۔جنہوں نے کھل کر سراہا۔حوصلہ افزائی کی۔میری پہلی تحریر کو میری وال سے اٹھا کر عالمی اخبار میں لگایا اور لگانے سے پہلے پوچھا۔کیا یہ آپ کی تحریر ہے۔میں نے کہا جی۔پھر تو چل سو چل ایک سال میں مستقل اتنالکھا۔کہ ایک کتاب کامواد تیار ہوگیا۔ان سب کو کتابی شکل میں لے کر آئی ۔
میری پہلی کتاب” کہکشاں ہے یہ مرے خوابوں کی “کی تقریب رونمائی ایبٹ آباد میں ہوئی۔اور پیاری دوست شاہین اشرف علی صفدر ہمدانی صاحب کے ساتھ تشریف لائیں۔مہمان خصوصی صفدر ہمدانی صاحب تھے۔بہت عمدہ نظامت شاہین کی تھی۔
اپنی آپ بیتی لکھنا ایک مشکل کام ہے۔مگر یہاں بھی محترم صفدر ہمدانی صاحب محرک بنے۔تحریک دلای،حوصلہ افزائی کی۔یوں اپنی خود نوشت” بیتے ہوے کچھ دن ایسے ہیں “کی 30 ابتدائی اقساط عالمی اخبار لندن میں شائع ہوئیں۔میری تیسری کتاب گزرتے لمحوں کی آہٹ “پر بھی ان کا خوبصورت تبصرہ کتاب میں شامل ہے۔گزشتہ 5سالوں سے جو رشتہ مودت وشفقت کا سلسلہ قائم ہے۔تو مہ پارہ بھی اس محبت ومودت کا حصہ ہیں۔

مہ پارہ اپنی جگہ علمی وادبی شخصیت ہیں(۔اور ایک علمی خانوادے سے تعلق رکھتی ہیں )بابا صاحب اکثر ان کی ویڈیو اور انٹرویو واٹس ایپ کرتے ہیں۔تو میں کہتی ہوں کہ ہمہ خانہ آفتاب است۔
تو یوں مہ پارہ جی سے ایک محبت وانسیت کا رشتہ ہے۔وہ اپنی خود نوشت کی تقریب رونمائی کے لئے پاکستان آئیں تو پتہ چلا کہ برسوں بعد بھی ہرجگہ ان کے مداح موجود ہیں۔ہر شہر میں بھرپور پذیرائی ہوئی۔میرا خیال تھا کہ وہ پشاور بھی شاید آئیں۔کہ جہاں دبستان پشاور کے سر کردہ فارغ بخاری، رضاہمدانی کا خاندان موجود ہے۔جو صفدر ہمدانی صاحب کے خالو اور ماموں ہیں۔

مجھے افسوس ہے۔کہ میں ان سے رابطہ نہ کرسکی۔کہ نسیم کی بیماری اور انجیو پلاسٹی نے سب کچھ بھلاے رکھا۔
اس افسوس کامداوا یوں ہوا۔کہ ہماری پیاری دلاری دوست شاہین اشرف علی کے گھر کل رات وہ افطار، عشائیہ پر مدعو اور مہمان خصوصی تھیں۔جہاں لاہور کے ادبی ستارے بھی جگمگا رہے تھے۔جس میں سلمی اعوان اور نیلم احمد بشیر بھی شامل تھیں۔اور تکیہ تارڑ کے دوست بھی۔شاہین کا خالص لکھنوی انداز اور محبت کے سب گرویدہ ہیں۔
ہماری ایک اور دوست لکھاری عطرت بتول نے ان تینوں ادبی شخصیات کو ہماری چوتھی کتاب حاشیہ ء خیال پیش کی۔
مہ پارہ نے بہت خوشی سے کتاب لی۔اور کہا کہ وہ پڑھ کر اس پر تبصرہ کریں گی۔اس لمحے کو کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کیا۔
ان کے ہاتھ میں ہماری کتاب کاہونا ہمارے لئے باعث مسرت ٹھہرا ۔
مہ پارہ جی آپ سے یہ کہنا ہے۔کہ آپ پہلے سے زیادہ خوبصورت اورباقار دکھائی دیں۔مسکراتا ہوا سدا بہار چہرہ اور اس پر آپ کی خوش لباسی نے متاثر کیا۔ہر تقریب میں ہلکے خوبصورت رنگوں کے ملبوسات مجھے تو بہت پسند آئے۔
آپ کی شخصیت اور کتاب کی مقبولیت دونوں نے شاد کام کیا۔سلامت رہیں۔ان شاءاللہ ملیں گے۔یار زندہ صحبت باقی۔
نصرت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY