ریڈیو پاکستان کے ساڑھے چار ہزار پنشنرزکی جدوجہد تیز تر۔

1
1517

نمائیندہ عالمی اخبار اسلام آباد

ریڈیو پاکستان کے ساڑھے چار ہزار پنشنرز کو مسلسل پنشن نہ ملنے کا مسلہ روز بروز سنگین ہوتا چلا جا رہا ہے اور اب جبکہ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے تو ایسے میں ریڈیو کی سنگدل انتظامیہ بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور ریڈیو پاکستان کے سربراہ طاہر حسن نے پنشن کے مسلے کو اپنی انا کا مسلہ بنا لیا ہے

ایسی صورت حال میں اسلام آباد میں موجود پنشنرز کی قیادت نے اپنی جدوجہد تیز کر دی ہے اور چودہ مارچ ۲۰۲۳ منگل کے روز پنشنرز کے دو وفود نے وزرات اطلاعات اور وفاقی محتسب میں حکام سے ملاقاتیں کر کے انہیں اس انسانی بحران سے آگاہ کیا

وزارت کی سیکرٹری شاہیرہ شاہد کی ہدایات پر پنشنرز کے پہلے وفد نے جائنٹ سیکرٹری ارشد منیر اور چیف فنانشل آفیسرمسٹر اسرارسے طویل اور جامع ملاقات کی اور من وعن پنشن، میڈیکل اور کیموٹیشن کے مسائل انکے سامنے رکھے، دونوں احباب بے مکمل ہمدردی سے یہ مسلے سنے اور انکے فوری حل کا یقین دلوایا اور یہ بھی کہا کہ اس وقت وزارت ریڈیو پاکستان کے مالی بحران کو حل کرنے کے لیئے مختلف تجاویز پر غور کر رہی ہے

دوسری طرف چودہ مارچ منمگل کو ہی دوسرا وفد وفاقی محتسب کے دفتر گیا جہاں ریڈیو پاکستان کے پینشنرز کو فروری کی پینشن ابھی تک نہ ملنے کے کیس کی سماعت تھی

ایڈوائزر فاروق احمد خان نے کیس سنا۔پی بی سی کے پینشنرز کی خاصی تعداد وہاں موجود تھی 
ایڈوائزر نے پی بی سی کے ڈی جی سے فون پر بات کرنے کے لئے اپنے پی ایس کو کہا پی ایس نے بتایا کہ وہاں ڈی جی میٹنگ میں مصروف ہیں اس پر ایڈوائزر نے اپنے موبائل پر ڈی جی سے بات کی اور کہا کہ آپ کے پینشنرز یہاں میرے آفس میں موجود ہیں اور ان میں سے کچھ آپنے آپ کو آگ بھی لگانا چاہتے ہیں کیا میں انہیں آپ کے دفتر میں بھیج دوں یا آپ پینشن ادا کریں گے

ڈی جی نے وعدہ کیا کہ جمعے تک پینشن ادا کر دی جائے گی
اس پر ایڈوائزر نے پینشنرز کے سامنے اپنا فیصلہ پی ایس کو لکھوایا جس میں کہا گیا ہے کہ ڈی جی نے جمعے تک پینشن ادا کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔۔پینشن نہ ملنے کی صورت میں پینشنرز جمعے کو دوبارہ میرے آفس آ سکتے ہیں

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY