اسٹیٹ بینک سےبیرون ملک منتقل رقم کی تفصیل ایک ہفتے میں طلب

0
70

سپریم کورٹ نے اسٹیٹ بینک سے بیرون ملک منتقل رقم کی تفصیلات ایک ہفتے میں طلب کرلیں ، 50 ہزار ڈالر سے زائد فارن ٹرانزیکشنز کا ایک سال کا ریکارڈ بھی آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم دے دیا ۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ جہانگیر ترین نے لاکھوں ڈالر ملک سے باہر بھیجے اور اثاثے بنالیے مگر گوشواروں میں کچھ اور بتایا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پاکستانیوں کے بیرون ملک اکاؤنٹس اور اثاثوں پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بہت سے افراد کے اثاثے اور اکاؤنٹس ملک سے باہر ہیں، اثاثوں کے ساتھ کیا کرنا ہے یہ بعد کی بات ہے، پہلے یہ معلوم ہونا چاہیے کب کتنا پیسہ بیرون ملک منتقل ہوا؟

گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ نے کہاکہ عدالت نے پوچھا تھا کہ پیسہ کیسے واپس لایا جاسکتا ہے، چیف جسٹس نے کہا اصل مقصد باہر گیا ہوا پیسہ تلاش کرنا تھا، دیکھنا یہ تھا کہ رقم کس نے کیسے باہر منتقل کی، کس کے کتنے اثاثے اور اکاؤ نٹس کس ملک میں ہیں، ایسی پالیسیاں بنائی گئیں کہ پیسہ بیرون ملک چلا جائے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ معاہدے کے بغیر کسی دوسرے ملک سے معلومات حاصل نہیں کی جاسکتیں ، ٹیکس دہندگان اپنے بیرون ملک اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ اثاثے چھپانے والوں کے معاملے میں حکومت بالکل مفلوج ہے۔

چیرمین ایف بی آر نے بتایا کہ ٹیکس نادہندگان کے خلاف آپریشن کیا جاتا ہے، چیف جسٹس نے کہا ملک کی بقا بیرون ملک اثاثوں اور پانی سے وابستہ ہے، جب چاہو پیسہ باہر منتقل کردو، کوئی پوچھنے والا نہیں، گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا ہم قانون کے پابند ہیں، چیف جسٹس نے کہا اب مقصد یہ ہے کہ ستمبر سے پہلے ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھا لیں ۔

جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ اثاثوں کی ریکوری کیلئے غیرملکی معاہدوں پر انحصار نہ کریں، اثاثے واپس لانے کے لئے اقدامات کریں، دبئی میں کتنے پاکستانیوں کی جائیدادیں ہیں کیا و ہ بھول جائیں؟ اگر ایف بی آر کے پاس کوئی چھڑی نہیں ہے تو ایمنسٹی اسکیم کیوں دیتے ہیں ؟ مقدمے کی مزید سماعت ایک ہفتے کے بعد ہوگی۔

SHARE

LEAVE A REPLY