‘سیاستدان باہمی تنازعات عدالت میں لانے کے بجائے خود حل کریں’

0
626

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عثمان ڈار کی جانب سے دائر پٹیشن میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے وزیر داخلہ خواجہ آصف کو نااہل قرار دے دیا جبکہ مقدمے کی کارروائی میں ریمارکس دیتے ہوئے عدالت عالیہ کا کہنا تھا کہ سیاستدان اپنے باہمی تنازعات خود حل کریں کیوںکہ اس طرح کے مقدمات سے عدالت کا تشخص متنازع ہورہا ہے۔

مقدمے کی کارروائی نمٹاتے ہوئے عدالت نے کہا کہ جب سیاسی قوتیں اپنے معاملات پارلیمنٹ میں حل کرنے کے بجائے عدالت میں لائیں گی تو اس سے نہ صرف ادارے بلکہ عوام بھی متاثر ہوگی، اس سے ایک جانب عدلیہ پر سے عوام کا اعتماد اٹھ جائے گا تو دوسری جانب عدلیہ سیاسی مخالفت کے معاملات کے باعث متنازع ہو جائے گی۔

فیصلے میں کہا گیا سیاستدانوں کو اپنی شکایات کے حل کے لیے سیاسی فورمز سے رابطہ کرنا چاہیے، بجائے اس کے کہ عدلیہ کا قیمتی وقت اس قسم کے مقدمات میں ضائع کر کے انصاف کے منتظر عوام کو مزید انتظار کرایا جائے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ پارلیمنٹ جو وفاق کی اتحاد اور عوام کی امنگوں کی علامت ہے، کو اہمیت دی جانی چاہیے، پارلیمنٹ کا وقار اور عوام کا اس پر اعتماد ان نمائندوں پر منحصر ہیں جنہیں یہاں پاکستان کے اصل مالک یعنی عوام منتخب کر کے بھیجتے ہیں۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ بہتر ہوتا کہ اگر درخواست گزار کی پارٹی معاملے کو عدالت میں لانے سے قبل پارلیمنٹ میں اٹھاتی۔

عدالت کی جانب سے فیصلے میں خواجہ آصف کی نااہلی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ہم یہ فیصلہ ’دکھی دل‘ سے سنا رہے ہیں، اس وجہ سے نہیں کہ ایک معروف اور تجربہ کار سیاستدان نا اہل ہوا بلکہ ان کو منتخب کرنے والے 3 لاکھ 42 ہزار 1 سو25 ووٹر کی خواہشات کو ٹھیس پہنچی۔

تحریری فیصلے میں جسٹس حمودالرحمان کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا گیا، جس میں انہوں نے کہا گیا تھا کہ ‘جب عدالیہ کی طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے عدالت کو ریاستی عناصر پر فوقیت حاصل نہیں ہوجاتی بلکہ عدالت کا فرض ہے کہ آئین پر عملدرآمد کو یقینی بنائے’۔

SHARE

LEAVE A REPLY