مسلم لیگ (ن) حکمراں جماعت کے رواں سال 12 کھرب روپے کے بیرونی قرضے

0
91

مسلم لیگ (ن) کی حکمراں جماعت نے رواں سال 12 کھرب روپے کے بیرونی قرضے حاصل کیے جو کہ تجارتی اخراجات کا 48 فیصد بنتا ہے جبکہ قرضے وصول کرنے کا ہدف 810 ارب روپے تھا۔

واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے رواں برس حاصل کیے جانے والے بیرونی قرضے کی شرح گزشتہ سال کے مقابلے میں 24 فیصد زیادہ رہی، سال 17-2016 میں بیرونی قرضے کی مد میں 971 ارب روپے وصول کیے گئے۔

اگلے مالی سال میں حکومت 10 کھرب 80 ارب روپے لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

بجٹ رپورٹ 19-2018 کے مطابق حکومت رواں سال 27 ارب 8 کروڑ روپے کے بیرونی امداد حاصل کرنے کا تخیمہ لگایا تھا لیکن انہیں 26 ارب روپے کی امید ہے ۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ وفاقی حکومت نے اپنے خود مختار اداروں کے لیے مجموعی طور پر 163 ارب روپے کے بیرونی قرضے حاصل کیے جس میں نیشنل ہائی وے (این ایچ اے) کے لیے 85 ارب، واپڈا کے لیے 50 ارب، پیپکو کے لیے 27 ارب اور دیگر وفاقی اداروں کے لیے 16 ارب روپے شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق این ایچ اے مالی سال 19-2018 میں بیرونی قرضے سے 84 ارب 21 کروڑ روپے، پیپکو کو 32 ارب 36 کروڑ اور دیگر خودمختار اداروں کو 130 ارب 5 کروڑ روپے فراہم کیے جائیں گے۔

کل 133 ارب 11 کروڑ روپوں کے بیرونی قرضوں میں سے پنجاب نے 89 ارب 35 کروڑ روپے ، سندھ نے 24 ارب 60 کروڑ روپے، خیبرپختونخوا نے 17 اب 76 کروڑ روپے اور بلوچستان نے 1 ارب 39 کروڑ روپے حاصل کیے۔

واضح رہے کہ بلوچستان نے بیرونی گرانٹ کی مد میں 4 ارب 19 کروڑ روپے بھی حاصل کیے تھے۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ بیرونی قرضے کی مد میں اگلے مالی سال میں پنجاب 62 ارب 99 کروڑروپے، سندھ 39 ارب 90 کروڑ روپے، خیبرپختونخوا 30 ارب 45 کروڑ روپے اور بلوچستان 4 ارب 7 کروڑ روپے فراہم کیے جائیں گے۔

رپورٹ میں انکشاف کیاگیا کہ پاکستان کے تمام بڑے وفاقی منصوبوں میں امریکا نے امداد کے نام پر 55 کروڑ 74 لاکھ روپے فراہم کیے جبکہ اگلے مالی سال میں یہ رقم 72 کروڑ 13 لاکھ روپے فراہم کرے گا۔

دوسری جانب امریکا نے پاکستانی کے توانائی منصبوں کے لیے 2 ارب 73 کروڑ روپے کی امداد بھی فراہم کی تاہم امریکا کی جانب سے صوبوں کو دی جانے والی امداد سب سے زیادہ ہے۔

مالی سال 18-2017 میں سعودی عرب نے وفاقی منصوبوں کے لیے غیرمعمولی رقم بطور امداد فراہم کی۔

سعودی عرب نے اسلام آباد میں ہوم اکنامکس کالج اور ہسپتال کے تعمیر کے لیے 2 ارب 78 کروڑ دیئے جبکہ اگلے مالی سال میں ریاض کی جانب سے 3 ارب 2 کروڑ روپے ملنے کی توقع ہے۔

تاہم اس حوالے سے قابل ذکر بات یہ ہے کہ چین کی جانب سے وفاقی منصوبوں میں کوئی امداد فراہم نہیں کیا گئی، رواں مالی کے دوران گوادر کے دو منصوبوں کے لیے 1 ارب 30 کروڑ روپے بھی چین نے فراہم نہیں کیے۔

بجٹ رپورٹ میں امید ظاہر کی گئی کہ اگلے مالی سال میں چین 1 ارب 50 کروڑ روپے کی امداد فراہم کرےگا۔

خیبر پختونخوا کو دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ امداد یعنی 6 ارب 87 کروڑ روپے ملے جس میں سے 5 ارب 23 کروڑ روپے تنہا امریکا نے فراہم کیے جبکہ اگلے مالی سال میں امریکا کی جانب سے 6 ارب اور جرمنی 1 ارب 70 کروڑ روپے کی بیرونی امداد صوبے کو فراہم کریں گے۔

SHARE

LEAVE A REPLY